عمران لمبی جیل کاٹیں گے یا جلاوطنی کی ڈیل کریں گے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پانے اور جیل جانے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کے پاس دو ہی راستے ہیں پہلا یہ کہ یہ مردوں کی طرح طویل جیل کاٹیں اور لیڈر بن کر باہر آئیں دوسرا آپشن یہ ہے کہ عمران سیاست سے ہمیشہ کے لیے تائب ہو جائیں اور ملک سے باہر چلا جائیں ‘ اپنے ایک کالم میں جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ عرب بدو اپنے اونٹوں کو زمین پر بٹھا کر ان کی ایک ٹانگ گھٹنے کے ساتھ باندھ دیتے تھے جس کے بعد ٹانگ انگریزی حرف وی بن جاتی ہے‘ اونٹ اس کے بعد جب کھڑے ہوتے تھے تو ان کی تین ٹانگیں زمین کے ساتھ لگ جاتی تھیں لیکن چوتھی ٹانگ ہوا میں معلق رہتی تھی‘ اونٹ اس عالم میں کھا‘ پی اور لیٹ تو سکتے تھے لیکن وہ بھاگ نہیں سکتے تھے۔ اونٹوں کی چوتھی ٹانگ کو جس رسی سے باندھا جاتا تھا بدو اسے اپنی زبان میں عقل کہتے تھے‘ لفظ عقل کا ماخذ یہی رسی ہے‘ ہم جب کسی شخص کو ’’عقل کرو‘‘ کہتے ہیں تو اس کا سیدھا سادا مطلب ہوتا ہے اپنی ایک ٹانگ باندھ لو یعنی اپنی دوڑ بھاگ کم کر دو‘ ٹھنڈا کر کے کھاؤ‘ احساس کرو‘ رک جاؤ‘ اپنی اوقات دیکھو‘ صبر کرو اور حالات کو بدلنے دو وغیرہ وغیرہ لیکن انسان بھی بہت بدبخت چیز ہیں۔ ہم سب کچھ کریں گے لیکن عقل نہیں کریں گے چناں چہ ہم کسی نہ کسی مسئلے میں پھنسے رہتے ہیں اور عمران خان اس بے صبری کی تازہ ترین مثال ہیں۔ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ توشہ خانہ کیس میں سزا بھگتنے والے عمران خان کے لئے جیل وہ واحد جگہ ہے جہاں رہ کر وہ دو بڑے فیصلے کر سکتے ‘یہ سیاست سے ہمیشہ کے لیے تائب ہو کر ملک سے باہر چلے جائیں ‘ یہ اگر سعودی عرب کے لیے راضی ہو جائیں تو انھیں بھی سرور پیلس میں ٹھہرا دیا جائے گامگر یہ وہاں انٹرویو دے سکیں گے اور نہ باہر جا سکیں گے۔ اس ڈیل کے لیے بھی انھیں عارضی طور پر سیاست سے تائب ہونا پڑے گا اور عمران یہ فیصلہ جتنا جلد کر لیں گے ان کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا‘ عمران خان نے 2017 میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو میاں نواز شریف کے خلاف استعمال کیا تھا‘ نواز شریف اپنی بیٹی سمیت گرفتار ہوئے‘ عدالتوں اور جیلوں میں طویل خواری برداشت کی اور جلاوطنی بھی دیکھی جس کے بعد چیئرمین تحریک انصاف ساڑھے تین سال تک ’’ون پیج‘‘ انجوائے کرتے رہے لیکن پھر وہی ہوا‘ دوسری ایکسٹینشن سے پہلے خان بھی سڑکوں پر آ گیا۔ عمران خان کو اب اگلی ڈیل اگست 2025میں ملے گی‘ انہیں پورے دو سال انتظار کرنا پڑے گا اور اس وقت بھی اگر میاں شہباز شریف یا بلاول بھٹو کی حکومت ہوئی تو یہ ڈیل بھی نہیں ہو سکے گی‘ پاکستان میں اس وقت صرف ایک لیڈر بچا ہے جس کے ساتھ عمران خان کا اتحاد ہو سکتا ہے اور وہ ہے نواز شریف‘ یہ دونوں وہ لوگ ہیں جن پر اسٹیبلشمنٹ اعتماد کے لیے تیار نہیں باقی سب ’’ وردکے بغیر فوجی ‘‘ ہیں اور چیئرمین کے لیے دوسرا آپشن طویل جیل ہے‘ یہ مردوں کی طرح جیل کاٹیں اور لیڈر بن کر باہر آئیں۔ جاوید چودھری سوال پوچھتے ہیں کہ کیا چیئرمین تحریک انصاف حقیقتاً ایک برا انسان ہے؟ اس کا سیدھا اور سادا جواب ہے ہرگز نہیں‘ یہ شخص واقعی ملک کو بدلنا چاہتا ہے لیکن اس میں پانچ خوف ناک خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے یہ ہمیشہ مار کھا جاتا ہے‘ یہ مردم شناس نہیں ہے‘ یہ ہمیشہ کم زور‘ بزدل اور منافق لوگوں کو اپنے گرد جمع کر لیتا ہے اور اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو اس وقت نکل رہا ہے۔ دوسرا یہ ایک ہی وقت میں سب سے جنگ چھیڑ لیتا ہے‘ فواد چوہدری انھیں بار بار سمجھاتا رہا سر ہم نے اگر سیاست دانوں سے لڑنا ہے تو پھر ہمیں اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ رکھنا ہوگا اور ہم نے اگر اسٹیبلشمنٹ سے لڑنا ہے تو پھر ہمیں سیاست دانوں سے بنا کر رکھنی ہو گی‘ ہم سب سے لڑ کر نہیں جیت سکتے اور خان یہ غلطی کرتارہا‘ تیسرا یہ ضعیف العقیدہ ہے‘ یہ چالیس سال سے جنوں‘ بھوتوں ‘ تعویزوں اور پھونکوں میں پھنسا ہوا ہے اور اﷲ کو یہ فعل قطعاً پسند نہیں‘ چوتھا یہ بے تحاشا بولتا ہے۔
یہ روزانہ قوم سے خطاب کرتا ہے اور حد سے زیادہ رونمائی لیڈر شپ کے لیے اتنا ہی خطرناک ہوتی ہے جتنا لوہے کے لیے زنگ اور پانچواں یہ بے وفا انسان ہے‘ یہ کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتا‘ لوگوں کو استعمال کرتا ہے اور پھینک دیتا ہے۔ یہ آج اپنی اس خامی کی وجہ سے اکیلا ہو چکا ہے‘ یہ شخص اگر اپنی ان خامیوں پر قابو پا لے اور مردوں کی طرح جیل برداشت کر لے تو یہ واپس بھی آئے گا اور ملک کو بدل کر بھی رکھ دے گا‘ کیوں؟ کیوں کہ لوگ اس پر یقین کرتے ہیں اور یہ دولت آج تک کسی پاکستانی لیڈر کو نصیب نہیں ہوئی لہٰذا میرا چیئرمین اگر آج اپنی ایک ٹانگ پر عقل کی گانٹھ مار لے تو یہ واقعی قائداعظم ثانی ثابت ہو سکتا ہے‘یہ ملک بدل سکتا ہے۔

Back to top button