عمران خان نےNROکیلئے بھیک مانگنی شروع کر دی

پابند سلاسل ہونے کے چند روز بعد ہی انقلاب کے دعویدار عمران خان نے جیل میں واویلا شروع کر دیا ہے۔ پریشانی اور مایوسی کے شکار سابق وزیر اعظم نے پارٹی رہنماؤں اور وکلاء کو جلد از جلد انھیں کسی بھی صورت باہر نکالنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں رہنے پرپریشان اورناخوش ہیں۔جیل ذرائع کے مطابق منگل کے روز عمران خان نے وکلا سے میٹنگ میں کہا کہ مجھے کسی بھی صورت باہر نکالو، جیل میں نہیں رہنا چاہتا۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان کی جان خلاصی اور این آر او کیلئے مقتدر حلقوں سے بھی رابطے کی بارہا کوششیں کی ہیں تاہم آگے سے کورا جواب دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ عمران خان کو عدالت سے سزا ملی ہے اور عدلیہ ہی عمران خان کو کوئی ریلیف دے سکتی ہے ہم اس عمل قطعا حصہ نہیں بنیں گے۔

خیال رہے عمران خان اس وقت اٹک جیل میں قید ہیں اور ان کی جماعت کے رہنما تسلسل کے ساتھ ان کی اڈیالہ جیل منتقلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سیاسی مباحثوں میں اٹک قلعے کا ذکر استعارے کے طور پر ہوتا رہتا ہے جبکہ اٹک جیل بھی ماضی بالخصوص فوجی آمروں کے ادوار میں کئی سیاسی رہنماؤں کا ’ٹھکانہ‘ رہ چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل یا پھر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے بجائے اٹک جیل میں منتقل کرنے کی وجہ کیا تھی؟ تجزیہ کار عمران خان کی اڈیالہ یا کوٹ لکھپت جیل کے بجائے اٹک جیل منتقلی کو بہت غیرمعمولی اقدام نہیں سمجھتے۔ ان میں سے بیشتر کے پیش نظر اسلام آباد اور اٹک کے درمیان فاصلہ کم ہونا ہی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق راولپنڈی سکیورٹی کے لحاظ سے ایک حساس شہر ہے اور وہاں کی اڈیالہ جیل کے باہر لوگوں کو جمع ہو جانا نسبتاً زیادہ آسان ہے۔ شاید یہی پہلو سامنے رکھ کر عمران خان کو اٹک جیل میں رکھا گیا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’اٹک جیل کا شمار ملک کی محفوظ ترین جیلوں میں ہوتا ہے۔ اٹک قلعہ اس سے زیادہ سکیور سمجھا جاتا ہے جس میں نواز شریف کو رکھا گیا تھا۔ نواز شریف کے کیس کی حساسیت بھی اس وقت کے لحاظ سے زیادہ تھی۔‘ مظہر عباس کہتے ہیں کہ ’کوئی بھی عدالت سزا سناتے ہوئے یہ نہیں کہتی کہ مجرم کو فلاں جیل میں رکھا جائے۔ یہ فیصلہ وزارت داخلہ اور اس کے ماتحت محکمے کرتے ہیں۔ کورٹس کا اس میں عمل دخل نہیں ہوتا۔‘

عمران خان کو اپیل میں صورت میں ریلیف مل سکے گا؟ اس سوال کے جواب میں مظہر عباس نے کہا کہ ’ابھی ان کے پاس اپیل کے لیے فورمز دستیاب ہیں۔ امکان یہی ہے کہ انہیں ریلیف مل جائے گا کیونکہ عموماً اپیل کے ساتھ ریلیف کی درخواست بھی دائر کی جاتی ہے۔ اگر انہیں توشہ خانہ کیس میں ریلیف مل بھی گیا تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی اور کیس میں بند کر دیا جائے۔‘

سندھ پولیس کے انسپیکٹر جنرل اور نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ سمیت کئی اہم عہدوں پر کام کا تجربہ رکھنے والے ریٹائرڈ آفیسر افضل علی شگری کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کو عدالت کے حکم کے برعکس کسی اور جیل میں رکھا گیا ہے تو اس کی ٹھوس وجوہات عدالت کے سامنے رکھنا ہوں گی۔ ‘ افضل علی شگری کے مطابق عام طور پر قیدیوں کے بارے میں محکمہ داخلہ فیصلہ کرتا ہے۔ قیدی کی کہیں اور منتقلی کی وجہ ’سکیورٹی وغیرہ‘ بیان کی جاتی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں ایسا ہوتا تھا کہ کسی سیاست دان کو تنگ کرنا ہو تو اسے بلوچستان کی مچھ جیل میں بھیج دیا جاتا تھا تاکہ کوئی اس سے مل نہ سکے لیکن اٹک جیل تو اسلام آباد سے کافی قریب ہے۔‘ جیل میں ملنے والی سہولیات پر بات کرتے ہوئے افضل شگری نے بتایا کہ ’کوئی سابق وزیراعظم یا کسی بھی اہم عہدے پر فائز رہنے والا قیدی ہو تو جیل میں اس کے رتبے کے مطابق اسے سہولیات ملنی چاہییں اور جیل مینوئیل میں اس کی تفصیل ہوتی ہے۔‘ ’لیکن جس قسم کا ہمارا سیاسی ماحول ہے، وہاں ایک دوسرے سے بدلے لینے کی روایت عام ہے۔ عمران خان بھی اپنے دور حکومت میں سیاسی قیدیوں کے بارے میں ایسی باتیں کرتے رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اب اس حکومت کے چند دن رہ گئے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ عمران خان کو تنگ کر سکیں گے۔ اس کے بعد ویسے ہی نگراں حکومت آ جائے گی۔‘

Back to top button