عمران نے حکومت کی بجائے فوج کو اپنا ٹارگٹ کیوں بنا لیا؟

سابق وزیراعظم عمران خان نے حکومت مخالف لانگ مارچ شروع کرنے کے بعد اپنا ہدف تبدیل کرتے ہوئے حکومت کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپنا مرکزی ٹارگٹ بنا لیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انکے مطالبات صرف اسٹیبلشمنٹ ہی تسلیم کروا سکتی ہے۔ تاہم ان کی یہ اسٹریٹجی مکمل طور پر ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہے چونکہ اسٹیبلشمنٹ کے دو بڑے ترجمان ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں عمران کو تفصیلی چارج شیٹ کر چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے بھی کپتان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہ کرنے کے عزم کا اظہار ہو چکا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے عمران کے لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے۔ ماضی کے بر عکس اب انہوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کھلاڑیوں کے نام لینا شروع کر دیے ہیں اور کھل کر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ عمران خان براہِ راست سینئیر آئی ایس آئی افسران کے نام لیکر ان پر تشدد کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ایسے میں واضح طور پر عمران خان بمقابلہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ میچ سفوع۔یو چکا ہے۔ فوجی قیادت کے خلاف عمران کی الزامات کی لسٹ ہر گزرتے دن کے ساتھ طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔

وہ فوج پر عوامی خواہشات کے برعکس شہباز شریف کی حکومت کو اقتدار میں لانے اور کرپٹ لوگوں کا ساتھ دینے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ موصوف اسٹیبلشمنٹ پر صحافیوں کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں حتیٰ کہ کینیا میں مرنے والے صحافی ارشد شریف کے قتل کا ذمہ دار بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ہی قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر اعظم سواتی اور شہباز گل پر زیر حراست برہنہ کرکے جنسی تشدد کرنے کا الزام بھی عائد کیا حالانکہ ان دونوں افراد کی میڈیکل رپورٹس میں ایسی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔ عمران خان کا کوئی ٹی وی انٹرویو یا خطاب ایسا نہیں گزرتا جس میں وہ عسکری قیادت پر تنقید نہ کر رہے ہوں۔

انصار عباسی کہتے ہیں کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود وہ اسی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے جلد الیکشن کروانے اور موجودہ حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی میں کوئی نہیں جانتا کہ عمران خان کہاں جا کر رُکیں گے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر ان کے حملوں کی حد کیا ہوگی؟ اپنے تازہ ترین خطاب میں عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کرپٹ لوگوں کے ساتھ مل گئی ہے جبکہ پاکستان کے عوام اُن کیساتھ ہیں۔ انہوں نے ادارے کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے موجودہ حکمران اتحاد کا ساتھ دیا تو عوام ان کیخلاف کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی موجودہ حکومت کی حمایت کرے گا اسے عوام کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عمران نے خبردار کیا کہ عوام کا سمندر جی ٹی روڈ پر گامزن ہے اور میں 6 ماہ میں انقلاب برپا ہوتے دیکھ رہا ہوں۔

سوال صرف یہ ہے کہ کیا یہ بیلٹ باکس کے ذریعے آنے والا پرسکون انقلاب ہوگا یا خونریزی کے ذریعے آنے والا تباہ کن انقلاب ثابت ہوگا؟ بقول انصار عباسی افسوس کی بات ہے کہ عمران کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ کس سنگینی کے ساتھ اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ایک خونی انقلاب کیسے اُن کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے دباؤ میں لانے والی چالبازیوں سے وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے جلد انتخابات اور موجودہ حکومت کا ہٹایا جانا حاصل کرلیں گے لیکن اس عمل کے دوران وہ اپنے حامیوں کے دلوں میں اداروں کیخلاف نفرت انڈیل رہے ہیں۔ کبھی تو وہ یہ کہتے ہیں کہ فوج ملکی سالمیت اور دفاع کیلئے کس قدر اہم ہے۔ لیکن جو کچھ بھی وہ عوامی اجتماعات میں اور خطبات میں کہہ رہے ہیں وہ عوام کے دلوں میں اپنی ہی فوج کیخلاف زہر گھولنے جیسا ہے۔ عمران خان نے ملکی سیاست میں شدید نفرت کا ماحول پیدا کیا۔ چاہے یہ ارادی طور پر تھا یا غیر ارادی، وہ اداروں کیخلاف زہر افشانی ہی کر رہے ہیں۔

انصار عباسی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی پس منظر کی بات چیت سے لگتا ہے کہ یہ لوگ بھی نہیں جانتے کہ یہ سب کر کے عمران آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عمران اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی اپنی چالیں نہیں بتا رہے لیکن اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر انکے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اپنے لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی میں جی ایچ کیو ہیڈکوارٹر کی جانب موڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب اُنکی جماعت کے کچھ رہنما اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اداروں کی توہین کی وجہ سے عوام میں نفرت پھیل رہی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران اور پی ٹی آئی کا مفاد اس میں ہے کہ حکومت کے ساتھ بات کی جائے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جائیں خصوصا جب کہ پی ٹی آئی والے خود جانتے ہیں کہ اب الیکشن وقت سے پہلے نہیں ہو سکتے۔ تاہم مذاکرات کے نتیجے میں ممکن ہے کہ انتخابات جون 2023ء میں ہو جائیں لیکن عمران کی جانب سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر زہریلی تنقید نے سنگین عدم اعتماد پیدا کر دیا ہے جسے موجودہ فوجی قیادت میں تبدیلی کے باوجود بھی درست نہیں کیا جا سکتا۔

Back to top button