عمران کس حد تک پنکی پیرنی کے قابو میں ہیں؟

پی ٹی آئی حکومت کون کنٹرول کرتا تھا؟ اصل فیصلے کس کی ہدایات پر ہوتے تھے، تحریک انصاف کی پارٹی پالیسی کون مرتب کرتا تھا، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کی ذاتی ڈائری میں درج چشم کشا انکشافات سامنے آگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کے اس دعوے کے برعکس کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم غیر سیاسی اور گھریلو خاتون ہیں، شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی ملک کے اہم ترین سیاسی اور انتظامی معاملات کے حوالے سے فیصلہ سازی پر پوری طرح سے اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔عمران خان بطور وزیر اعظم بشریٰ بی بی کے اتنے زیر اثر تھے کہ کسی دوسرے ملک کا سرکاری دورہ بھی انکی اجازت کے بغیر نہیں کرتے تھے، پی ٹی آئی حکومت کے تمام اہم فیصلے بھی سابقہ خاتون اول ہی کرتی تھیں۔ اگر سرکاری میٹنگز کے دوران بھی خاتون اول وزیراعظم کو بلا لیتیں تو وہ فوراً اٹھ کر چلے جاتے تھے۔
تاہم اب پنکی پیرنی کی ذاتی ڈائری کے سامنے آنے والے صفحات نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔مبینہ ڈائری میں بشریٰ بی بی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو نہ صرف سیاسی ڈکٹیشن دے رہی ہیں بلکہ بشریٰ بی بی یہ تک بتا رہی ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی کس وقت کیا اور کیسی ہو گی، بشریٰ بی بی یہ بھی بتا رہی ہیں کہ کون اور کیسے عدلیہ، فوج اور حکومت پر دباؤ ڈالے گا؟بشریٰ بی بی کی مبینہ ڈائری میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر گورنر راج لگائیں تو قانونی چارہ جوئی اور شہر بند کرنے کی تیاری کی جائے، اگر گورنر راج لگائیں تو پہیہ جام ہڑتال کی جائے۔
عدلیہ، فوج اور حکومت کو کیسے دباؤ میں لانا ہے؟ ساری حکمت عملی بشریٰ بی بی کی ڈائری میں درج ہے۔ڈائری کے مطابق بشریٰ بی بی نے دعائیہ الفاظ کے ذریعے چیئرمین پی ٹی آئی کی ذہن سازی کی اور اس مقصد کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کو باغیانہ الفاظ استعمال کرائے گئے۔ڈائری سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بشریٰ بی بی چیئرمین پی ٹی آئی کو ہدایت دیتی رہیں کہ کن الفاظ میں اور کیا دعا کرنی ہے، پنکی پیرنی یہ ہدایات بھی جاری کرتی رہیں کہ عدلیہ پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ منفی فیصلہ نہ آئے، تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ بشریٰ بی بی چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی ڈکٹیشن بھی دیتی رہیں۔
بشریٰ بی بی کی ڈائری کے انکشافات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کیسز کو کیسے چلانا ہے؟ حکومت، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ کو کیسے دباؤ میں لانا ہے، عدلیہ، فوج اور حکومت پر کون اور کب دباؤ ڈالے گا۔ڈائری میں درج ہدایات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بشریٰ بی بی پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی کے فیصلے کرتی رہیں اور چیئرمین پی ٹی آئی تمام فیصلے و اقدامات بشریٰ بی بی کے حکم پرکرتے رہے، سابق وزیراعظم مکمل طور پر بشریٰ بی بی کے زیر تسلط تھے، بشریٰ بی بی مکمل طور پر چیئرمین پی ٹی آئی کو کنٹرول کرتی تھیں۔
ڈائری میں جنرل باجوہ کو "ماموں” کے کوڈ سے لکھا گیا ہے اور ڈائری میں لکھا گیا ہے کہ اگر گورنر راج لگتا ہے تو شہر بند کرنے کی تیاری کی جائے، اتنا پریشر بنایا جائے کہ عدالتوں سے کوئی نیگیٹو فیصلہ نہ آ پائے جبکہ ڈائری کے کچھ صفحات بشریٰ بی بی کی جانب سے پھاڑے بھی گئےہیں۔
پنکی پیرنی کی ذاتی ڈائری کے سامنے آنے والے صفحات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کومسلط فیصلے پارٹی قیادت سے چھپانے کی ہدایت بھی کی جاتی رہی ہیں، اور حکم دیا گیا کہ فیصلوں کا پہلے اعلان نہیں کرنا، پارٹی کو بھی نہیں بتانا آپ کتنے دنوں کیلئے آرہے ہیں، بشریٰ بی بی وکلا اور چیئرمین پی ٹی آئی کی گفتگو بھی کنٹرول کرتی رہیں، ہدایت دی جاتی کہ وکلا نے اہم سوالات کرنے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے خاموش رہنا ہے۔
بشریٰ بی بی وکلاء کو ہدایت دیتی تھیں کہ آپ نے کہنا ہے ہماری درخواست کیوں نہیں سنی جاتی؟ بندیال آ گیا، نواز نے کہا تھا اب دیکھتے ہیں یہ حکومت کیسے رہے گی،مبینہ ڈائری میں بشریٰ بی بی کی جانب سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خواجہ حارث سوال اٹھائیں کہ اعظم سواتی کے کیس میں اُن کے مقامی سہولت کار کون تھے؟
ڈائری کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی سوچ اور شخصیت ”مرشد“کی مکمل قید میں رہیں، سابق وزیراعظم نے مکمل گرفت میں آنے پر اہلیہ کو “مرشد“ کہنا شروع کر دیا تھا۔چیئرمین پی ٹی آئی کی شخصیت پر بشریٰ بی بی کے دقیانوسی خیالات کی چھاپ رہی، انکے کھانے پینے پر بھی بشریٰ بی بی کا مکمل کنٹرول رہا۔
بشریٰ بی بی کی ہاتھ سے لکھی ڈائری میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی زندگی کے تمام فیصلے بشریٰ بی بی کی گرفت میں رہے، ڈائری میں درج ہے کہ سابق وزیراعظم نے کس وقت کیا کھانا ہے اور کیسے کھانا ہے، ڈائری کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو حکم تھا کہ صبح قہوہ، شہد اور جوس پینا ہے، دوپہر کو کباب، گوشت، مچھلی کھانی ہے، ڈائری میں وٹامنزبھی لینےکی ہدیات درج ہیں۔
ڈائری میں دودھ کے بارے میں بھی بشریٰ بی بی کی عجیب منطق سامنے آئی ہے جس میں درج ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو دودھ صرف رات 12 بجے پینے کی اجازت ہے۔
