عمران کو پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کی یاد کیوں ستانے لگی؟

سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کی بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی بحالی کیلئے پٹیشن تیار کرلی گئی۔

ذرائع کے مطابق عمران خان کی ہدایت پر دونوں اسمبلیوں کے اسپیکرز کی جانب سے پٹیشن تیار کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبوں میں الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔اس حوالے سے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا کہنا تھاکہ پنجاب اور کے پی کے میں الیکشن ہونے کی صورت میں پٹیشن دائر نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی دن الیکشن کچھ ماہ بعد کرانے کا فیصلہ آیا تو پٹیشن دائر کی جائے گی، الیکشن کچھ ماہ بعد ہوں تو نگران حکومت رہنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے، عوام کی منتخب کردہ ہی حکومت کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھاکہ پٹیشن میری اور اسپیکر کے پی کے مشتاق غنی کی جانب سے تیارکی گئی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے انکشاف کیا ہےکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے عمران خان سے پوچھ کر اسمبلیوں کی بحالی کیلئے اپلائی کیا ہے۔ لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے پرویز الٰہی سے سوال کیا کہ عمران خان نے کہا ہےکہ انہوں نے جنرل باجوہ کے کہنے پر اسمبلیاں تحلیل کیں تو آپ اس پر کیا کہیں گے؟ اس پر پرویز الٰہی نے کہا کہ میں نے اس بات کاکوئی جواب نہیں دینا کیونکہ اس میں پھر ادارے انوالو ہوتے ہیں۔اسمبلیوں کی تحلیل سے متعلق سوال پر سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ میری اس حوالے سے عمران خان سے کوئی بات نہیں ہوئی لیکن واقعات جس طرف جارہے ہیں، ہمارے اسپیکر کے پی اور اسپیکر پنجاب اسمبلی نے خود عمران خان سے پوچھ کر اپلائی کیا ہے کہ اسمبلی کو بحال کرو۔

تاہم دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سینئر نائب صدر فواد چوہدری نے صوبائی اسمبلیاں بحال کرنے سے متعلق پٹیشن دائر کرنے کے حوالے سے زیر گردش میڈیا اطلاعات کی تردید کر دی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ صبح سے میڈیا پر خبر چل رہی ہے کہ تحریک انصاف کے وزرائے اعلی نے صوبائی اسمبلیاں بحال کرنے کی پٹیشن دائرکر دی ہے ۔ پوچھیں یہ پٹیشن کہاں داخل ہوئی ہیں؟ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پہلے تحقیق کر لیں کہ کس قانون کے تحت اسمبلیاں بحال ہو سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر رواں سال جنوری میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اسمبلی تحلیل کردی تھی، 18 جنوری کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے اسمبلی توڑنے کی بھجوائی گئی سمری پر گورنر پختونخوا نے دستخط کیے تھے۔

دوسری جانب پنجاب اورکے پی اسمبلیوں کی بحالی کیلئے سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کردی گئی ہے۔رائے اشتیاق نامی شہری کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ مقررہ آئینی مدت میں الیکشن نہیں کرائے گئے اس لئے دونوں صوبائی اسمبلیاں بحال کی جائیں۔درخواست میں کہا گیا کہ آئین میں دی گئی مدت کے دوران دونوں صوبوں میں انتخابات نہیں کرائے گئے،سپریم کورٹ کے انتخابات کرانے کے فیصلے پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیاکہ نگران حکومتوں کا مزید برقرار رہنا آئین کی خلاف ورزی ہوگی،استدعا کی گئی کہ عدالت پنجاب اور کے پی کی منتخب اسمبلیوں کی بحالی کا حکم دے۔درخواست میں وفاقی حکومت،الیکشن کمیشن،وزارت دفاع کوفریق بنایا گیا۔نگران وزراء اعلی اوردونوں صوبوں کے گورنر بھی فریقین میں شامل کیے گئے۔شہری نے درخواست میں وزارت خزانہ اور داخلہ کو بھی فریق بنایا۔

تاہم اب دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ عام شہری کی درخواست کو زیر سماعت لا کر کوئی حکم صادر فرماتی ہے یا پی ٹی آئی کی جانب سے کسی پیشرفت کا انتظار کیا جاتا ہے تاہم بادی النظر میں پنجاب اور کے پی کی اسمبلیوں کی بحالی ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دیتیں۔

Back to top button