عمران کی تبدیلی کا فیصلہ، کپتان اب چند ماہ کے مہمان

اسلام آباد کے ایوانوں میں یہ افواہیں شدت پکڑ گئی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور اپنی اتحادی جماعتوں سے معاملات خراب ہونے کے بعد اب وزیراعظم عمران خان مذید چند مہینوں کے مہمان ہیں اور ایوان کے اندر سے تبدیلی لانے کا فیصلہ ہوچکا ہے. اگر نواز شریف نئے الیکشن کے بغیر تبدیلی لانے پر مان جائیں تو عمران خان کی جگہ شہباز شریف بھی اگلے وزیراعظم ہو سکتے ہیں اور پرویز خٹک بھی، فرق صرف اتنا ہوگا کہ اگر عمران کے ساتھ ان کی حکومت کے خاتمے کا بھی فیصلہ ہوا تو شہباز وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے جبکہ اگر صرف وزیر اعظم کی تبدیلی کا فیصلہ ہوا تو پرویز خٹک تحریک انصاف کے اندر سے مضبوط ترین امیدوار ہو سکتے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت سے آنے والی اطلاعات کے مطابق کیونکہ میاں نواز شریف نئے الیکشن پر مصر ہیں اس لئے ایک درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ کم از کم 6 ماہ کے لیے شہباز کو وزیراعظم بننے دیں جو بعد ازاں اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن کے لیے راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی چھٹی کے حوالے سے معاملات بہت آگے جا چکے ہیں، یعنی ہاتھی نکل چکا ہے اور صرف اس کی دم باقی رہ گئی ہے اور کپتان مزید چند مہینوں کے مہمان ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں تبدیلی کی جو ہوائیں چلی ہیں وہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بطور ڈی جی آئی ایس آئی تبادلے کے بعد جھکڑوں میں تبدیل ہونے کا واضح امکان ہے کیونکہ اب انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک مرتبہ پھر ڈرائیونگ سیٹ پر آ چکی ہے۔

دراصل عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ اور اتحادیوں سے معاملات کی خرابی کا آغاز تب ہوا جب انہوں نے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر پر اعتراض کیا اور اسٹیبلشمنٹ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کی یہ اختیار وزیر اعظم کا ہے، آرمی چیف کا نہیں۔ حالانکہ عمران خان کو بالآخر لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کا ہی بطور ڈی جی آئی ایس آئی نوٹیفکیشن جاری کرنا پڑا لیکن سو جوتے اور سو پیاز کھانے کے مصداق اب ان کے معاملات بہت تیزی سے خرابی کی طرف جا رہے ہیں جن میں فیض حمید کے چلے جانے کے بعد مزید ابتری آنے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے دسمبر سے تبدیلی کی ہوائیں جھکڑوں میں بدلنے کا امکان ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر پنگا ڈالنے، حکمران اتحاد میں دراڑیں پڑنے اور عقل پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محرومی کے باعث عمران خان کو اب ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنا اب ممکن نظر نہیں آتا۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر پر پیدا ہونے والے تنازع سے نے منقسم اپوزیشن کو موقع دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر ایسی مشترکہ حکمت مرتب کرے جس سے عمران کی چھٹی کروائی جا سکے۔ قومی اسمبلی میں قانون سازی کیلئے کی جانے والی حالیہ کوشش میں حکومت کی ناکامی، پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن کو عین موقع پر ملتوی کرنا اور وزیراعظم سے اے پی ایس کیس میں سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے سخت سوالات کو کئی لوگ ممکنہ طور پر ’’تبدیل ہوتے سیاسی منظر نامے‘‘ کے آغاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کی وفاقی اور پنجاب حکومتیں اتحادی جماعتوں کے سہارے کھڑی ہیں لیکن اب مہاجر قومی موومنٹ، قاف لیگ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی قیادت نے عمران خان سے دوری اختیار کر تے ہوئے حکومتی پالیسیوں کے خلاف کھلم کھلا اپنے تحفظات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ اور سب جانتے ہیں کہ یہ تینوں جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ ہیں اور اسکی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتیں۔ اس کے علاوہ عمران خان کی اپنی جماعت کے اندر سے بھی کچھ سینئر پارٹی لیڈرز بالخصوص پرویزخٹک مختلف معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع کے عہدے پر فائز پرویز خٹک کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے ہی اس اہم ترین عہدے پر فائز ہوئے تھے اور عمران خان کی چھٹی کی صورت میں ان کا مستقبل مذید بھی روشن ہو سکتا ہے۔ یاد رہے حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر قانون سازی کی مخالفت کرنے والوں میں بھی ایم کیو ایم، قاف لیگ، جی ڈی اے اور پرویز خٹک پیش پیش ہیں۔ اسی لیے حکومت کو شکست کے خوف سے عین موقع پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا حالانکہ اس سے ایک گھنٹہ قبل ہی وزیر اعظم نے اپنی پارٹی کے ارکان سے درخواست کی تھی کہ وہ اس بل کو سنجیدہ لیں اور جہاد سمجھ کر اسے پارلیمنٹ سے منظور کرائیں۔

عمران خان حکومت کیلئے حالات تیزی سے خراب ہوتے دیکھ کر اب ایکدوسرے سے ناراض اپوزیشن جماعتیں بھی متحرک ہوگئی ہیں اور بلاول بھٹو تمام اختلافات بھلا کر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ڈال چکے ہیں۔ انہی اختلافات کی وجہ سے پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے علیحدہ ہوئی تھی۔ اگرچہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم میں واپس نہیں آئی ، اپوزیشن جماعتیں مل کر پارلیمنٹ میں سوچ بچار کر رہی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اگر ایوان کے اندر سے تبدیلی لانے کا فیصلہ ہو تو پیپلز پارٹی کو دوبارہ پی ڈی ایم کا حصہ بنا لیا جائے۔

یاد رہے کہ بلاول بھٹو اور شہباز شریف کے مابین بھی چار ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن میں حکومت اور وزیراعظم کی تبدیلی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اطلاعات ہیں۔ ان حالات میں انکا کہنا ہے کہ ماضی میں میں عمران حکومت بنانے، بچانے اور چلانے میں جو لوگ پیش پیش تھے اب وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں لہذا اگر اپوزیشن تبدیلی لانے کے لیے متحد ہو کر کوئی سنجیدہ گیم بناتی ہے تو اس مرتبہ عمران خان کا بچنا محال ہو گا۔

Back to top button