عمران کی جنرل عاصم منیر سے کہانی ڈالنے کی کوشش ناکام

جنرل قمر باجوہ کے جانے اور نئی فوجی قیادت آنے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے میں تبدیلی لاتے ہوئے مفاہمت کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہ، تاہم نئی فوجی قیادت کیا حکمت عملی طے کرتی ہے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جب جنرل عاصم منیر نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر عارف علوی سے ایوان صدر میں پہلی ملاقات کی تو انہیں عمران خان کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا گیا اور بتایا گیا کہ خان صاحب کا اختلاف ایک فرد سے تھا، ادارے سے نہیں، اور یہ کہ وہ مستقبل میں افہام و تفہیم کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔ باخبر ذرائع یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ عارف علوی نے اس موقع پر جنرل عاصم منیر کی فون پر عمران خان سے بات کرانے کی آفر بھی کی جس پر معذرت کر لی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ فوج غیر سیاسی ہو چکی ہے۔

خیال رہے کہ جنرل عاصم منیر کی جانب سے آرمی چیف کے عہدے کا حلف اٹھانے کے ایک روز بعد 30 نومبر کو عمران خان نے ایک ٹویٹ میں نئی عسکری قیادت کو مبارک باد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ عوام اور ریاست کے درمیان گزشتہ آٹھ ماہ میں جنم لینے والے اعتماد کے فقدان کا خاتمے کرنے کی کوشش کرے گی۔ عمران نے ٹویٹ میں لکھا کہ میں نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی اسٹاف کے منصب سنبھالنے پر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور جنرل سیّد عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ عمران نے یہ بھی کہا کہ ریاست کی قوت عوام ہی سے کشید کی جاتی ہے۔ اس سے پہلے عمران ڈٹ کر جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنانے کی مخالفت کر رہے تھے اور ان کی کوشش تھی کہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو اس عہدے پر تعینات کیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل قمر باجوہ اور فیض حمید بھی ان کوششوں میں بھرپور حصہ ڈال رہے تھے۔

باخبر حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکمران اتحاد کسی صورت ساحر شمشاد کو آرمی چیف تو کیا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بنانے پر بھی آمادہ نہیں تھا، لیکن پھر جنرل قمر باجوہ نے آخری حد تک جاتے ہوئے یہ دھمکی دے ڈالی کہ اگر ساحر شمشاد کو چیئرمین جوائنٹ چیفس نہیں بنایا جاتا تو وہ وزارت دفاع کی جانب سے وزیر اعظم کو بھیجی جانے والی سمری میں عاصم منیر کا نام شامل نہیں کریں گے کیونکہ وہ تو 27 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دھمکی کے بعد حکومت نے دونوں اہم فوجی عہدوں پر سنیارٹی کے اصول کے تحت تعیناتی کا فیصلہ کیا اور یوں کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کی بجائے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو نیا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بنا دیا گیا۔

تاہم یوٹرن کو عظیم لیڈروں کی نشانی قرار دینے والے عمران خان نے جنرل باجوہ کے جانے کے بعد جنرل عاصم منیر سے بھی پیار کی پینگیں بڑھانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران کے دست راست اور جنرل عاصم کے مخالف سازشی ٹولے کی قیادت کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے جنرل باجوہ کے جاتے ہی استعفیٰ لے لیا گیا ہے۔ فیض حمید کی چھٹی سے بڑا واضح اشارہ ملتا ہے کہ نئی فوجی قیادت کی پالیسی کیا ہوگی۔ لیکن دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا ہےکہ نئی عسکری قیادت سیاسی لحاظ سے غیرجانبدار رہے گی، کسی فریق کی طرف داری نہیں کرے گی اور الیکشن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔
فواد چوہدری سے پوچھا گیا کہ کیا پی ٹی آئی اور پارٹی کے چیئرمین عمران خان بھی نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے توقع رکھتے ہیں کہ جلد الیکشن کیلئے وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کریں گے۔ اس پر فواد نے کہا کہ ہم ایسا نہیں چاہتے۔ اس کی بجائے ہمیں توقع ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جلد الیکشن کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کی موو کے ذریعے اب پی ٹی آئی جلد الیکشن حاصل کر لے گی، بشرطیکہ اسٹیبلشمنٹ روڑے نہ اٹکائے۔

Back to top button