عمران کی سرپرستی کا تاثر ختم کرنا فوج کا پہلا چیلنج

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ نئے فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کے لیے سب سے بڑا اور فوری چیلنج اس تاثر کو ختم کرنا ہے کہ بد زبان عمران خان فوج کے ادارے سے زیادہ تگڑا ہے اور اسکی سرپرستی اب بھی جاری ہے کیونکہ اس کے ساتھ وہ کچھ نہیں ہورہا ہے جو کہ دیگر سیاسی رہنمائوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ صافی کے بقول عاصم منیر کو اس پل صراط پر سفر کرتے ہوئے ایک طرف فوج کو آئینی کردار تک محدود کر کے آئین اور قانون کے دائرے میں لانا ہوگا اور دوسری طرف ماضی کی غلطیوں کی تلافی اور زیادتیوں کا ازالہ کرنا ہو گا۔ لہٰذا دیکھتے ہیں کہ عاصم منیر اور ان کے ساتھی اس پل صراط کو کیسے عبور کرتے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ انہونی ہو چکی ہے اور جنرل عاصم منیر پاکستان کے سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جانے والے منصب پر فائز ہو چکے ہیں۔ ویسے تو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ کاغذی طور پر آرمی چیف کے عہدے سے بڑا ہوتا ہے لیکن پاکستان کے زمینی حقائق اور عسکری سٹرکچر کی وجہ سے آرمی چیف ہی کو طاقت کا منبع سمجھا جاتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی ذات میں شاید قرآن اور ماں باپ کی دعائوں کی برکت ،عزت، طاقت اور اختیار کی صورت میں سمٹ کر آگئی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے سامنے ذمہ داریوں اور چیلنجز کا بلند پہاڑ بھی موجود ہے۔ میرے نزدیک سب سے بڑا اور فوری چیلنج انہیں پولرائزڈ سوسائٹی اور فوج کے امیج کی بحالی کا درپیش ہوگا۔ سول ملٹری تعلقات میں جو دراڑ پچھلے چند سال میں پڑی، اسکی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ نئے آرمی چیف کو چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ فوج حقیقی معنوں میں پورے پاکستان کیلئے یکساں قابل احترام بن جائے اور کسی ایک پارٹی یا قومیت کی حامی یا مخالف نہ سمجھی جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی دوسرے ادارے کو شکایت نہ ہو کہ فوج اسکے کام میں مداخلت کر رہی ہے۔
سلیم صافی کے مطابق ایک جانب فوج کے ادارے کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اتنی شہادتوں اور قربانیوں کے باوجود قوم اس سے ویسے محبت کیوں نہیں کرتی جس کی وہ مستحق ہے، دوسری جانب عوام بھی حیران ہیں کہ فوج انہیں ایک مفتوحہ قوم کے طور پر کیوں ڈیل کر رہی ہے۔ یہاں میں امریکہ اور افغانستان کی مثالیں دینا چاہوں گا۔ امریکی درست طور پر کہتے ہیں کہ پچھلے ستر سال میں اگر کسی نے پاکستان کی سب سے زیادہ مدد کی ہے تو وہ وہی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ نفرت بھی امریکہ سے ہی کی جاتی ہے اور جماعت اسلامی ہو یا بھٹو یا عمران خان، جب بھی پاکستانی قوم کی ہمدردی حاصل کرنا مقصود ہو تو امریکی سازش کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ دوسری طرف چین نے ماضی میں پاکستان کے ساتھ جو بھلائی کی ہے وہ امریکہ کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں لیکن پاکستان میں چین کے مخلص دوست ہونے پر اجماع ہے۔ امریکہ کے بڑے بڑے عالی دماغ اور تھنک ٹینکس اس قضیے پر ہمہ وقت غور کے بعد بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان میں امریکہ سے نفرت کیوں ہے؟ اسکا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ امریکی پاکستان کی مدد تو کرتے رہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملک پر قابض اپنے فوجی پتلوں کے ذریعے مداخلت کر کے پاکستانیوں کی عزت نفس بھی مجروح کرتے رہے۔ دوسری جانب چین نے پاکستان کی خاطر بہت کم قربانی دی لیکن مداخلت بالکل نہیں کی۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ یہی معاملہ فوج اور پاکستانی عوام کا بھی ہے۔ فوج کی قربانیاں اپنی جگہ لیکن سیاست میں باربار کی فوجی مداخلت سے عوام کو احساس ہوتا ہے کہ ان کو بار بار غلام بنایا جاتا ہے اور یوں ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ اسی طرح امریکہ کو جو شکوہ پاکستان سے ہے، وہی پاکستانیوں کو افغانستان سے ہے۔ ہر پاکستانی کہتا ہے کہ ہم نے لاکھوں افغانوں کو پناہ دی لیکن اس کے باوجود افغانی ہم سے محبت نہیں کرتے۔ انڈیا اور روس تک سے ان کی دوستی ہے لیکن وہ پاکستان کو دوست نہیں مانتے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہم نے افغانی قوم کو اسی طرح بحیثیت قوم نہیں دیکھا جس طرح چینی، ایرانی یا سعودی اقوام کو دیکھتے ہیں۔ پہلے ہم نے مجاہدین کیلئے قربانیاں دیں اورنتیجتاً کمیونسٹ حکومت میں جو طبقات شامل تھے، وہ ہمارے دشمن ہوگئے۔ پھر ہم نے مجاہدین میں حکمت یار کو فیورٹ بنا کر برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ پھر جب گلبدین حکمت یار اور دیگر کمانڈروں کے خلاف طالبان نکلے تو ہم نے طالبان کا ساتھ دے کر ان کو بھی ناراض کیاجبکہ نائن الیون کے بعد ہم نے طالبان کو بھی ناراض کیا۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ پاکستان میں کسی زمانے میں فوج نے بے نظیر بھٹو کو آئوٹ کرنےکیلئے نواز شریف والی مسلم لیگ(ن) کو تخلیق کیا اور مذہبی جماعتوں کو سپورٹ دی۔ پیپلز پارٹی پہلے سے ناراض تھی لیکن 1999 میں جنرل مشرف کی نون سے بھی دشمنی ہوگئی۔ نائن الیون کے بعد جنرل مشرف نے مذہبی جماعتوں کو بھی ناراض کیا۔ دوسری طرف پختون، بلوچ اور اردو بولنے والے پہلے سے ناراض تھے لیکن ان کی ناراضیاں دور کرنے کے بجائے پہلے فوج نے ان کو نون لیگ اور پھر پی ٹی آئی جیسی جماعتوں سے غیرفطری طریقے سے آئوٹ کرنا چاہا۔ یوں وہ قوم پرست جماعتیں بھی اسٹیبلشمنٹ سے ناراض ہوئیں۔ لیکن آخری کیل پروجیکٹ عمران خان نے ٹھونک دی۔ اسٹیبلشمنٹ نے اب کی بار سارے انڈے پی ٹی آئی کی باسکٹ میں ڈال دئیے اور باقی تمام سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کو ان کی خاطر قربانی کا بکرا بنا دیا۔ عمرانی پروجیکٹ کی خاطر عدلیہ، میڈیا ، سول سروس اور پولیس کو بھی بری طرح استعمال اور کسی حد تک بے اختیار کیا گیا۔ گویا سب کو پروجیکٹ عمران خان کیلئے قربان کیا گیا لیکن دوسری طرف عمران بطور حکمراں اسٹیبلشمنٹ کیلئے مصیبت اور حکومت سے فارغ ہونے کے بعد اسکے لیے وبال جان بن گئے۔ اپنے لاڈلے پن اور جھوٹ پر مبنی بیانیے سے انہیں جو شہرت ملی، اسے بروئے کار لاکر انہوں نے فوج کو بلیک میل کرنے اور دوبارہ اپنی طرف لانے کیلئے وہ زبان درازی کی اور کروائی جس کا ماضی میں کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور قوم پرست جماعتوں کو یقین نہیں آرہاتھا کہ عمران کی سرپرستی چھوڑ دی گئی ہے کیونکہ وہ دیکھ رہی تھیں کہ عمران کے ساتھ وہ کچھ نہیں ہورہا ہے جو ان کے ساتھ ہوتا رہا۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ یہ جنرل عاصم منیر کے لیے سب سے بڑا اور فوری چیلنج ہو گا جس سے انہیں بطور آرمی چیف نمٹنا ہوگا۔ اس پل صراط پر سفر یوں ہوگا کہ ایک طرف فوج کو آئینی کردار تک محدود کرکے آئین اور قانون کے دائرے میں لانا ہوگا اور دوسری طرف ماضی کی غلطیوں کی تلافی اور جن لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوئی، اس کا ازالہ بھی کرنا ہو گا ۔ دیکھتے ہیں جنرل عاصم منیر اور ان کے ساتھی اس پل صراط کو کیسے عبور کرتے ہیں۔
