عمران کی گرفتاری پر یوتھیے سڑکوں پر آنے سے گریزاں کیوں؟

عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے خیبر پختونخوا کے شہروں کی سڑکیں عمرانڈوز کی راہ تکتی رہیں۔ تاہم یوتھیے ڈر کے مارے گھروں میں دبکے بیٹھے رہے۔ اسی طرح کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بھی ”نام نہاد ٹائیگر ز“ نے اپنی ریڈ لائن پامال ہونے کے باوجود بلوں کے اندر رہنے میں ہی عافیت جانی۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق چند برس قبل اپنے دل فریب وعدوں اور پرکشش نعروں کے بل پر سادہ لوح عوام، بالخصوص جو شیلے نو جوانوں میں مقبول ہونے والے عمران خان نے صرف اقتدار ہی نہیں کھویا، بلکہ کرپشن الزامات پر ان کی سزا اور گرفتاری کے بعد ان کی ہر دل عزیزی کی جھوٹی ہنڈیا، ملک بھر کے چوراہوں پر ایسی پھوٹی کہ عبرت کا نشاں بن گئی ۔ تو شہ خانہ کیس میں نا اہلی ، قید اور جرمانے کی سزا سنا کر جیل بھجوائے گئے عمران خان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ نومئی کو ان کے حکم پر دفاعی تنصیبات اور قومی املاک پر حملہ کرنیوالےٹائیگرز ان کی دوبارہ گرفتاری پر بلی کی طرح کونے کھدروں میں دبکے رہیں گے۔حالانکہ ایسا ہونا بعید ازقباس نہیں تھا کیونکہ سانحہ 9 مئی کے بعد عمران خان نے شرپسندی میں ملوث اپنے کارکنان سے دامن چھڑوایا۔ایسا خود غرض عمل کارکنان اور ان کے والدین کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت تمام بڑے شہروں کی سڑکیں پی ٹی آئی دھرنے بازوں کی راہ تکتی رہیں۔ سوشل میڈ یا پر کارکنان کو درس جہاد دینے والے پی ٹی آئی عہدے داروں کو سب سے بڑا جھٹکا تویہ لگا کہ تحریک انصاف کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والےصوبہ خیبر پختواہ میں پشاور سمیت کسی بھی شہر میں کوئی احتجاج نہیں دیکھا گیا۔ صرف جمرود میں چند کارکنان نعرے بازی کر تے ہوئے سڑکوں پر نکلے تھے، تاہم پولیس کا ہلکا پھلکا لاٹھی چارج انقلاب کےشعلوں کو بجھانے کے لیے شافی و کافی رہا۔
دوسری جانب کراچی کے کسی علاقے سے بھی احتجاج کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔ حیرت انگیز طور پر پی ٹی آئی کے زیر اثر سمجھے جانے والے علاقوں قیوم آباد، اختر کالونی ، پٹیل پاڑہ، فائیواسٹار چورنگی اور قائد آباد میں بھی کسی قسم کی احتجاجی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ البتہ ملیر میں مٹھی بھر کارکنان سڑک پر نکلنے کی تیاری ضرور کر رہے تھے۔ تاہم جب پولیس نے آٹھ سے دس کارکنان کو موبائل میں بٹھا یا تو باقی تمام بھاگ نکلے۔ اسی طرح کراچی پریس کلب کے باہر بھی دو درجن کے قریب پی ٹی آئی کارکنان احتجاج ریکارڈ کرانے پہنچے تھے، مگر جیسے پولیس نے نصف درجن کارکنان کودبوچا، باقی عمرانڈوز نے رفو چکر ہونے ہی میں عافیت سمجھی۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا، جہاں ایک عشرے تک پی ٹی آئی نے دھڑلے سے حکومت کی اور اسے اپنا مضبوط قلعہ قرار دیتی رہی۔ وہ قلعہ بھی ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ متوقع احتجاج کے پیش نظر پشاور، لوئر دیر سوات، ایبٹ آباده مردان اور دیگر شہروں میں پولیس کو الرٹ کر دیا گیا۔ تاہم وہاں کوئی کارکن احتجاج کے لیے نہیں نکلا۔ البتہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے عدلیہ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور کے خلاف بڑے پیمانے پر پرو پیگنڈے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی خیبر پختون کے بیشتر رہنما نومئی سے روپوش ہیں اور وہ کارکنوں کو اکسانے کیلئے گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈ یا پر سرگرم تھے۔ تاہم کارکن ان رہنماؤں پر نکلنے کیلئے زور دے رہے ہیں۔ اس مرتبہ کارکنوں نے کسی بھی بہکاوے میں آنے کے بجائے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی ہے۔ پشاور کے علاقہ ہشت نگری، لاہوری ، قصہ خوانی ، پشاورصدر، خیبر روڈ ، جیل روڈ اور یو نیورسٹی ٹاؤن سمیت کسی بھی مقام پر تحریک انصاف کا کوئی کارکن نظر نہیں آیا۔
خیال ر ہے کہ پی ٹی آئی کا روٹ بینک مجھے جانے والے نوشہرہ و پرویز تک پہلی اپنی پارٹی بنا کرتحریک انصاف سے دور کر چکے ہیں۔ جبکہ سابق وزیر اعلی خیبر پختون محمود خان بھی ان کی پارٹی کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس لئے نوشہرہ اور سوات سے بھی تحریک انصاف کے چیئر مین کی گرفتاری کے بعد کسی قسم کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
ادھر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور کارکنوں نے تحریک انصاف کے چیئر مین کی گرفتاری پر پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اندرون پشاور سے تعلق رکھنے والے جے یو آئی (ف) کے ایک کارکن عمران اعوان کاکہنا تھا کہ عمران خان تو تحریک انصاف کے کارکنوں کی ریڈ لائن تھا۔ آج کدھر گئے وہ کارکن؟ کیونکہ ان کی ریڈ لائن کو تو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے اور وہ اب تین سال جیل میں گزاریں گے ۔ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما سید ولی شاہ آفریدی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر بے گناہ رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا، اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اب تحریک انصاف کے چیئر مین جنہوں نے توشہ خانہ سے چوری کی تھی، ان کی سمجھ میں آ گیا ہوگا کہ صبر بہت بڑی چیز ہے۔ ہمارے لیڈرز نے صبر سے کام لیا اور اپنے معاملات اللہ پر چھوڑ دیئے ۔ آج عمران خان اپنے کیے کا پھل بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے غرور کے عالم میں سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈالا اور آج وہ خود سلاخوں کے پیچھے چلے گئے ہیں۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن نے بتایا کہ جس طرح چئیرمین تحریک انصاف کی باتوں میں آکر 9 مئی کو کارکنان نے شرپسندی کی تاہم کارکنان کو تنہا چھوڑ دیا گیا ایسے میں کون گھروں سے نکلتا ہے؟ عمران خان کی گرفتاری کے بعد فیصلہ کیا کہ قانونی معاملات کو قانون پر ہی چھوڑنا چاہیے۔ کسی کے بہکاوے میں آ کر قانون ہاتھ میں لیا تو سزا صرف ہمیں ہی بھگتنی پڑے گی ۔
