اسمبلی تحلیل لیکن شہباز شریف وزیر اعظم رہیں گے؟

قبل ازوقت اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے لے بعد اتحادی حکومت نے اگلے نگراں وزیر اعظم کے نام پر اتفاق کر لیا ہے تاہم کسی تنازع سے بچنے کیلئے نگراں وزیر اعظم کا نام اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے مشاورت کے بعد حتمی طور پر سامنے لانے پر اتفاق ہوا ہے۔ تاہم اسمبلی تحلیل ہونے کے باوجود نگران وزیراعظم کی تعیناتی تک شہباز شریف خدمات سر انجام دیتے رہیں گے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اعلان کر چکے ہیں کہ قومی اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت کی تکمیل سے چند دن قبل نو اگست 2023 کو تحلیل کر دی جائے گی۔اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق ملک میں تین ماہ یعنی نو نومبر 2023 سے قبل انتخابات کا انعقاد ہونا لازم ہو گا۔

آئین میں کہا گیا ہے کہ اگر اسمبلی اپنی مدت پوری کرتی ہے تو انتخابات 60 روز میں کرائے جائیں گے لیکن اس کے قبل از وقت تحلیل ہونے کی صورت میں یہ مدت بڑھ کر 90 روز تک ہو جاتی ہےقومی اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی پی ڈی ایم کی ڈیڑھ سالہ حکومت کا خاتمہ بھی ہو جائے گا اور ایک نگران حکومت انتخابات تک ملک کا انتظام چلائے گی۔

پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے نگراں سیٹ اپ کی تشکیل اسے دنیا کے دیگر ممالک سے الگ کرتی ہے کیونکہ عموماً آج کل جمہوری ممالک میں اس قسم کے کسی بندوبست کی مثال نہیں ملتی۔خود پاکستان میں سنہ 1990 کے الیکشن سے قبل پہلی مرتبہ نگران حکومت تشکیل دی گئی تھی۔ اس کے بعد سے سنہ 2018 تک ہونے والے تمام تر انتخابات نگران حکومتوں کی زیرِ نگرانی ہی ہوئے ماسوائے سنہ 2002 کے الیکشن کے جو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی نگرانی میں ہوئے اور اس کے لیے الگ سے سیٹ اَپ تشکیل نہیں پایا تھا۔

پاکستان میں نگران حکومت کا قیام آئین کی شق 224 کے تحت عمل میں آتا ہے جس کی ذیلی شقوں کے مطابق اگر شق 58 کے تحت اسمبلی تحلیل ہو جائے، تو صدرِ مملکت وزیرِ اعظم اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے نگران وزیرِ اعظم تعینات کریں گے۔تاہم یہ تعیناتی صدرِ مملکت کا اختیار نہیں بلکہ یہ قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم کے اتفاق رائے کے بعد عمل میں آتی ہے۔

اگرچہ قومی اسمبلی نو اگست کو تحلیل ہو چکی ہو گی لیکن شہباز شریف اس کے باوجود اگلے چند روز تک وزیرِ اعظم رہیں گے۔ ماہرین کے مطابق وہ کم از کم اگلے تین دن تک تو وزیرِ اعظم رہیں گے، اور زیادہ سے زیادہ یہ معاملہ آٹھ سے نو دن پر محیط ہو سکتا ہے۔

آئین کی شق 224 کے تحت اگر اسمبلی تحلیل ہو جائے تو ختم ہونے والی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف یعنی راجہ ریاض اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے باہمی مشاورت سے کسی ایک نام پر متفق ہونا ہوتا ہے اور اس کام کے لیے اُن کے پاس اسمبلی کے تحلیل سےلے کر صرف تین دن کا وقت ہو گا۔شہباز شریف اور راجہ ریاض کے درمیان ایک بار نام پر اتفاق ہو جائے گا تو صدرِ پاکستان اس نام کی منظوری دیں گے اور جب تک نگران وزیرِ اعظم نہ آ جائے، اس وقت تک شہباز شریف ہی وزیرِ اعظم رہیں گے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے راجہ ریاض سے مشاورت سے قبل نگران سیٹ اپ کے حوالے سے حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں سے بھی بات چیت کی ہے تاہم ذرائع کے مطابق اتحادی جماعتیں نگران وزیراعظم کے نام پر متفق ہو چکی ہیں تاہم اس کا نام تا حال سامنے نہیں لایا گیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے مابین نگراں وزیر اعظم کے نام پر عدم اتفاق کی صورت میں یہ معاملہ ایک پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا جو آٹھ ارکان پر مشتمل ہو گی۔ ایسا ہی ایک نظام صوبائی نگراں حکومتوں کے لیے بھی موجود ہے، محض فرق یہ ہے کہ نگراں وزیرِاعلیٰ کا انتخاب کرنے والی پارلیمانی کمیٹی چھ ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔

تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہو تو پھر یہ کمیٹی کیسے قائم ہو گی، اس میں کون لوگ شامل ہوں گے، اور یہ بھی اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی تو کیا ہو گا؟

آئینی اور پارلیمانی اُمور کے ماہر اور پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب کے مطابق آئین میں اس بات کی گنجائش ہے کہ یہ کمیٹی قومی اسمبلی کے ارکان کے ساتھ ساتھ مکمل طور پر سینیٹ کےارکان پر بھی مشتمل ہو سکتی ہے۔اس کمیٹی میں اپوزیشن سے چار اور حکومت سے چار ارکان کی شمولیت ضروری ہوتی ہے اور تحلیل ہو چکی اسمبلی کے سپیکر ہی اس کمیٹی کا قیام عمل میں لائیں گے۔آئین کی شق 53 کے تحت جب تک نئی اسمبلی میں نئے سپیکر کا انتخاب عمل میں نہ آ جائے، تب تک موجودہ سپیکر اپنے عہدے پررہیں گے۔

وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر اس کمیٹی کے لیے چار چار ارکان نامزد کرتے ہیں اور پھر اس کمیٹی کے سامنے دو نام وزیرِ اعظم تجویزکرتے ہیں اور دو نام اپوزیشن لیڈر تجویز کرتے ہیں۔اس کمیٹی کے پاس اس معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے تین دن ہوتے ہیں اور ماہرین کے مطابق، اگر یہ کمیٹی بھی خود تک معاملہ پہنچنے کے تین دن کے اندر تک فیصلہ نہ کر سکے تو پھر یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جاتا ہے جس نے دو دن کے اندر اندر نگران وزیرِ اعظم یا وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ جب رواں سال ماہِ جنوری میں پنجاب اسمبلی تحلیل ہوئی تھی،تو قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان، نگراں وزیرِاعلیٰ پنجاب کے نام پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا تھا اور یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا گیا تھا،مگر پارلیمانی کمیٹی بھی وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب پر متفق نہ ہو سکی تھی، یوں یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا تھا اور الیکشن کمیشن نے پنجاب کے وزیرِاعلیٰ کا فیصلہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں نگران حکومت کی اصل ذمہ داری عام انتخابات میں منتخب ہونے والی حکومت کے انتظام سنبھالنے تک ملک کے روزمرہ کے معاملات چلانا ہوتا ہے اور اسے فیصلوں اور پالیسی سازی کے حوالے سے منتخب حکومت جیسے اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔تاہم 26 جولائی 2023 کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 230 میں جو ترمیم کی گئی اس کے تحت نگران حکومت اب روزمرہ کے حکومتی امور نمٹانے کے ساتھ ساتھ پہلے سے جاری منصوبوں اور پروگرامز سے متعلق اختیارات استعمال کر سکے گی اور اہم پالیسی فیصلے بھی لے سکے گی۔

Back to top button