عمران خان کی گرفتاری، پی ٹی آئی کا کیا بنے گا؟

سابق وزیراعظم عمران خان کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں تین سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا جس سے ان کے سیاسی کیریئر کو ایک نیا دھچکا لگا ہے۔ عمران خان کو آنے والے قومی انتخابات سے قبل اپنے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لیے ایک طویل قانونی جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس قانونی جنگ کے بارے میں کئی اہم سوالات ہیں جن کا جواب عمران خان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
قانون کے مطابق توشہ خانہ کی طرح سزا کے بعد کوئی شخص کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل ہو جاتا ہے۔ نااہلی کی مدت کا فیصلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کرے گا۔ قانونی طور پر اس نااہلی کی مدت سزا کی تاریخ سے شروع ہوکر زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک ہو سکتی ہے لیکن سپریم کورٹ اس صورت میں تاحیات پابندی عائد کر سکتی ہے اگر وہ یہ فیصلہ دے کہ وہ بے ایمانی کے مرتکب ہوئے اور اس لیے وہ سرکاری عہدے کے لیے ’صادق ‘ اور ’امین‘ کی آئینی شرط پورا نہیں کرتے۔ اس طرح کا فیصلہ 2018 میں تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کے خلاف دیا گیا تھا۔ دونوں صورتوں میں عمران خان کا آنے والے عام انتخابات سے باہر ہونا ہقینی ہے۔
عمران خان کا الزام ہے کہ ان کی برطرفی اور ان کے اور ان کی پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن میں عسکری عہدیداروں کا ہاتھ ہے۔ تاہم پاک فوج ایسے الزامات کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
دوسری جانب مبصرین کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے رہنماؤں کی مثالیں موجود ہیں جو جیل گئے اور رہائی کے بعد زیادہ مقبول ہوئے۔ نواز شریف اور ان کے بھائی موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف دونوں نے اقتدار میں واپس آنے سے پہلے بدعنوانی کے الزامات میں جیل میں وقت گزارا۔سابق صدر آصف علی زرداری بھی جیل جا چکے ہیں۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اٹک جیل کے قیدی عمران خان کے لیے قانونی راستے کیا ہیں؟ قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان کے وکیل ان کی سزا کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کریں گے اور سپریم کورٹ تک ان کے لیے اپیل کے دو مراحل باقی ہیں۔ سزا معطل ہونے کی صورت میں انہیں کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔اگر ان سزا معطل کر دی جاتی ہے تو عمران خان اب بھی اگلے انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان کو مجرم ٹھہرانے کے فیصلے کو بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ فیصلہ جلد بازی میں دیا گیا اور انہیں اپنے گواہ پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔لیکن سزا سنانے والی عدالت نے کہا ہے کہ عمران خان کی قانونی ٹیم نے جو گواہ پیش کیے ان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔ بار بار طلب کیے جانے کے باوجود کئی ماہ تک عدالت میں پیش ہونے سے عمران خان کے انکار کے بعد عدالت نے مقدمے کی سماعت تیز کر دی تھی۔تاہم توشہ خانہ کیس ان پر بنائے گئے 150 سے زیادہ مقدمات میں سے صرف ایک ہے۔ ڈیڑھ سو سے زیادہ مقدمات میں دو بڑے مقدمات شامل ہیں جن میں اچھی خاصی پیش رفت ہو چکی ہے۔ عمران خان کو زمین کے معاملے میں دھوکہ دہی اور مئی میں ان کی گرفتاری کے بعد فوجی تنصیبات پر حملوں کے لیے اکسانے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ امکان یہی ہے کہ انہیں ایک عدالت سے دوسری عدالت میں لے جایا جائے گا کیونکہ وہ تین سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
عمران خان کی گرفتاری کے بعد یہ سوال زبان زد عام ہے کہ اب پی ٹی آئی کا کیا ہو گا؟ مبصرین کھ مطابق عمران خان کے جیل جانے کے بعد ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اب سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کر رہے ہیں۔۔ تاہم شاہ محمود قریشی کے پاس عمران خان کی طرح کے ذاتی فالوورز نہیں ہیں اور تجزیہ کاروں کے مطابق وہ کرکٹ کے ہیرو کی طرح تنظیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ 9 مئی کے بعد جہاں پہلے ہی تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کے اکثر مرکزی رہنما یا تو پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا روپوش ہیں ایسٹ میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی میں جاری تقسیم اور انتشار میں مزید تیزی آئے گی۔
تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی نے قانونی جنگ کے ساتھ ساتھ سیاسی حکمت عملی بھی مرتب کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کی قانونی جنگ کے علاوہ پی ٹی آئی نے عام انتخابات کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پی ٹی آئی ملک کے مختلف بارز میں وکلا کو متحرک کرے گی جہاں لطیف کھوسہ، اعتزاز احسن، ڈاکٹر بابر اعوان، شعیب شاہین اور دیگر وکلا مختلف بارز کا دورہ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں وکلا کنوشنشز کے ذریعے عام انتخابات کروانے کے لیے نگراں حکومت پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے نئی مردم شماری کی منظوری کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نگراں حکومت کے قیام کے بعد پی ٹی آئی کے روہوش رہنما بھی منظر عام پر آئیں گے اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے آئندہ عام انتخابات میں وکلا کو بھی ٹکٹس دینے کا اعلان کیا ہے۔
