اٹک جیل میں قید عمران نے منفرد اعزازاپنے نام کیسے کیا؟

عمران خان پہلے سابق وزیراعظم ہیں جو اٹک جیل میں قید ہیں، 10 سالہ جلاوطنی پر جدہ بھیجے جانے سے قبل تین بار وزیراعظم رہنے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو 1999 میں سزا ہونے کے بعد اٹک شہر میں تو رکھا گیا تھا لیکن وہ ضلعی جیل نہیں تھی جس میں عمران خان پابند سلاسل ہیں بلکہ نواز شریف کو پاک فوج کے زیر استعمال اٹک قلعے میں قید رکھا گیا تھا۔عموماً لوگ اٹک جیل اور اٹک قلعے کو ایک ہی جگہ سمجھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ اٹک جیل اور اٹک قلعہ علیحدہ علیحدہ احاطے ہیں جو ایک دوسرے سے تقریباً 26 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔
اٹک کی ضلعی جیل سے تقریباً 26 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اٹک قلعہ 1581 میں مغل بادشاہ اکبر نے خواجہ شمس الدین کی زیر نگرانی دریائے سندھ کی جانب سے اپنی سلطنت کی حفاطت کی غرض سے تعمیر کروایا تھا۔حکومت پنجاب کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان بننے کے بعد فوج نے اس جگہ کا انتظام سنبھال لیا تھا۔سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار، اور مسلم لیگ ن کے سردار مہتاب عباسی بھی اٹک قلعے میں قید کاٹ چکے ہیں۔
عمران خان پہلے سابق وزیر اعظم ہیں جو اٹک جیل میں قید ہیں۔پنجاب جیل خانہ جات کی ویب سائٹ کے مطابق 1905 میں قائم ہونے والی ڈسٹرکٹ جیل اٹک 67 ایکڑ چھ کنال اور 12 مرلے پر محیط ہے۔اٹک جیل میں طبی عملے کے ساتھ ساتھ انسداد منشیات کا مرکز بھی موجود ہے۔خیال رہے کہ پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کو تین کیٹگریز میں رکھا جاتا ہے۔سی یا کامن کیٹگری میں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو قتل، ڈکیتی، چوری، لڑائی جھگڑے اور معمولی نوعیت کے مقدمات میں سزا یافتہ ہوں۔
بی یا بیٹر کیٹگری میں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو قتل اور لڑائی جھگڑے کے مقدمات میں تو ملوث ہوں تاہم اچھی شہرت والے اور تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔ گریجویشن پاس قیدی بھی بی کلاس لینے کا اہل ہوتا ہے۔جیل حکام کے مطابق اے کلاس کیٹگری اعلیٰ سرکاری افسران کے علاوہ، سابق وفاقی وزرا اور ان قیدیوں کو دی جاتی ہے جو زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہوں۔جیل کے قوانین کے مطابق عمران خان کو سابق وزیراعظم ہونے کی وجہ سے ’اے کلاس کیٹیگری‘ دی جا سکتی ہے لیکن اٹک کی جیل کے وارڈن کے مطابق اس جیل میں اے یا بی کلاس کیٹیگری کی سہولت دستیاب ہی نہیں ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی 42 جیلوں میں سے صرف دو جیلیں ایسی ہیں جہاں پر قیدیوں کے لیے اے کلاس کی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ ان دونوں جیلوں میں بہاولپور جیل اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل شامل ہے۔جیل مینوئل کے مطابق جن قیدیوں کو اے کلاس دی جاتی ہے انھیں رہائش کے لیے دو کمروں پر محیط ایک الگ سے بیرک دی جاتی ہے جس کے ایک کمرے کا سائز نو ضرب 12 فٹ یعنی لمبائی نو فٹ اور چوڑائی 12 فٹ ہوتا ہے۔قیدی کے لیے بیڈ، ایئرکنڈیشن، فریج اور ٹی وی کے علاوہ الگ سے باورچی خانہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اے کلاس کے قیدی کو جیل کا کھانا کھانے کی بجائے اپنی پسند کا کھانا پکانے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اے کلاس میں رہنے والے قیدی کو کام کرنے کیلئے دو مشقتی بھی دیے جاتے ہیں۔
جیل حکام کا کہنا ہے کہ اے کلاس کیٹگری میں جن مجرموں کو رکھا جاتا ہے اگر وہ گھر سے کھانا منگوانا چاہیں تو اس سے پہلے حکومت سے اجازت لینا ہوتی ہے، اس کے علاوہ ایسے مجرموں سے ان کے عزیز واقارب یا ان کے وکلا کی ملاقات کا ہفتے میں ایک دن مقرر ہوتا ہے تاہم اس کا تعین بھی حکومت کی منظوری سے کیا جاتا ہے۔جیل حکام کے مطابق اگر قیدی چاہے تو دونوں مشقتی ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
جیل قوانین کے مطابق جن قیدیوں کو بی کلاس دی جاتی ہے ان کو ایک الگ سے کمرہ اور ایک مشقتی دیا جاتا ہے تاہم اگر جیل سپرنٹنڈنٹ چاہیے تو مشقتیوں کی تعداد ایک سے بڑھا کر دو بھی کر سکتا ہے۔بی کلاس کے حصول کے لیے کچھ شرائط متعین ہیں جن کی بنیاد پر محکمۂ داخلہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔سی کیٹیگری جیل میں عام قیدیوں کے لیے ہوتی ہے جنھیں نہ تو گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی سہولیات میسر ہوتی ہیں جن کا تعلق اس کی تعلیم یا عہدے کی مناسبت سے ہو۔جیل حکام کے مطابق اے اور بی کلاس کے قیدیوں کے لیے بطور خدمت گزار جن افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ معمولی جرائم میں ملوث قیدی سی
ایلون مسک اور زکر برگ کا کشتی لڑنے کا فیصلہ؟
کیٹیگری کے ہی ہوتے ہیں۔
