تحریک انصاف کی  یوتھیوں سے احتجاج کی نت نئی تجاویزطلب

9مئی کی شرپسندانہ کارروائیوں کے بعد ریاستی اداروں کی جانب سے قانون کی رٹ بحال کرانے کیلئے کئے گئے عملی اقدامات کے بعد اب عمرانڈوز سوشل میڈیا پر نت نئے طریقوں سے صدائے احتجاج بلند کرتے نظر آتے ہپں۔ گھروں میں دبکے بیٹھے یوتھیوں میں سے کوئی اپنے کپڑ پھاڑتا دکھائی دیتا ہے، کوئی چیزوں کو توڑتا نظر آتا ہے، کوئی احتجاج میں محلے والوں کی دعوت کا مشورہ دے رہا ہے اور کوئی بطور احتجاج مل کر چھلانگیں لگانے کی تجویز سامنے لا رہا ہے۔

خیال رہے کہ نو مئی کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے سپورٹرز ایک بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکلے اور ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے گئے جس کے نتیجے میں آرمی تنصیبات پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔ 9 مئی کے احتجاجی مظاہروں کے بعد وسیع پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں لائیں گئیں جس میں وہ افراد تھے جو پر تشدد کاروائیوں میں شامل تھے۔ اس کے برعکس عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں حالیہ گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی سپورٹرز کی جانب سے کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ نہیں دیکھا گیا یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی نے سپورٹرز سے احتجاج کے نت نئے طریقے مانگ لیے۔

پاکستان تحریک انصاف نے سماجی رابطے کے ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس انتہائی فاشسٹ رویے کے بعد احتجاج جاری رکھنے کے لیے اچھے آئیڈیاز کیا ہو سکتے ہیں، بطور شہری احتجاج کرنا ہمارا بنیادی حق ہے اور یہ حق چھین کرہمارے حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ براہ کرم اس تھریڈ میں تمام لوگ اپنے خیالات کا اظہار کریں تاکہ پوری دنیا میں اس پر عمل کیا جا سکے

پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے یہ پیغام شئیر کیا گیا تو صارفین کی جانب سے تبصروں کا انبار لگا دیا گیا۔ ہر جانب سے احتجاج کے نت نئے طریقے شئیر کیے گئے تو بہت سے صارفین ایسے بھی تھے جنہوں نے طنزومزاح کا سہارا لیتے ہوئے تبصرے کر ڈالے۔ ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ابھی تک کا سب سے اچھا آئیڈیا جو مجھے لگا، وہ یہ کہ “لوگ اپنے چھتوں سے اذانیں دینا شروع کردیں”- ویسے بھی تو یہ ایک آفت ہی پاکستان پر نازل ہو چکی ہے-

گفتگو مزید آگے بڑھی تو ایک صارف نے آئیڈیا دیتے ہوئے لکھا کہ ہمیں دنیا بھر میں ہر روز دوپہر کے وقت ایک ساتھ ہوا میں چھلانگ لگانی چاہیے اس سے ہمیں ہمارے مقصد میں مزید کامیابی ملے گی۔عمران خان کے دور حکومت میں کشمیر کے لیے ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے صارف عابد نے لکھا ایسے ہی احتجاج کریں جیسے کشمیریوں کے لئے جمعے کے بعد سڑکوں پر کھڑے ہوتے تھے ۔انڈیا بہت دباؤ میں آ گیا تھا اس دن۔

صارف سلمان جعفری نے اپنی خیالات شئیر کرتے ہوئے لکھا ہر سپورٹر کے گھر سے عمران خان کی حمایت میں ٹیکسٹ میسجیز بھیجیں جائیں دیکھتے ہیں کتنے لوگ اس کو فارورڈ کرتے ہیں۔صارف نور نے کہا کہ اپنے گھر کی چھت پر دونوں جھنڈے لگائیں ۔ اپنے گھر کے باہر بینر لے کر کھڑے ہوجائیں ۔لوگ ملتے جائیں گے قافلہ بنتا جائے گا ۔ کراچی احتجاج ۔۔ اس سے پر امن احتجاج اور کیا ہوگا۔

جہاں صارفین نے نت نئے طریقے بتائے وہی کچھ صارفین ایسے بھی تھے جو پاکستان تحریک انصاف کے حامی صارفین کو پر امن رہنے کی تلقین کرتے

بپاشا کی ننھی بیٹی جان لیوا بیماری کا شکار کیسے ہوئی؟

نظر آئے۔

Back to top button