عمران کے دور میں پاک سعودی تعلقات بحال کیوں نہیں ہو سکتے؟

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں گذشتہ برس اکتوبر میں پید اہونے والی سرد مہری آج بھی ختم نہیں ہوئی اور اب یہ اطلاعات ہیں کہ شاید عمران خان کے دور اقتدار میں دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے جیسے خوشگوار نہ ہو سکیں۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی آ جانے کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کے زرمبادلہ کے زخائر مستحکم رکھنے کے لئے دیئے گئے پیسوں کی جلداز جلد واپسی کا تقاضا کررکھا ہے اور تاخیر ادائیگی کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بھی موخر کر رکھی ہے۔
پاک سعودی تعلقات میں خیلج پیدا ہونے کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب عمران خان کو وزیراعظم بنایا جارہا تھا تو نواز شریف سے یمن جنگ میں پاکستانی فوجی نہ بھجوانے پر ناراضی کے باوجود سعودی عمران خان کے بارے میں تشویش میں مبتلا تھے تاہم پاکستان کی عسکری قیادت نے پل کاکردار ادا کرکے وزیراعظم بنتے ہی عمران اور سعودی حکمرانوں کی دوستی کروادی جسکے بعد تعلقات میں اتنی گرمجوشی آئی کہ عمران خان محمد بن سلمان کو ذاتی دوست قرار دینے لگے۔ مالی معاونت کے علاوہ سعودی عرب نے عمران خان اورامریکہ کو قریب لانے میں بھی کردار ادا کیا ۔
لیکن کپتان اور محمد بن سلمان کے تعلقات میں سرد مہری کا آغاز گزشتہ سال پانچ اگست کو نریندرمودی کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے اقدام سے ہوا ۔ عمران خان کو توقع تھی کہ سعودی عرب پاکستان کا نہ صرف ساتھ دے گا بلکہ اوآئی سی کے فورم کو بھی بھرپور طریقے سے استعمال کریگا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔دوسری طرف ترکی، ایران اور ملائیشیا نے پاکستان کے حق میں بیانات دیکر ہندوستان کو ناراض کیا۔ چنانچہ عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کیلئے جاتے ہوئے انہوں نے ترکی کا روٹ اختیار کرنے اور صدر طیب اردوان کے ساتھ امریکہ جانے کا فیصلہ کیا۔ خیال رہے کہ ترکی میں مقیم سعودی صحافی جمال خشوگی کے پراسرار قتل کا الزام شہزادہ محمد بن سلمان پر لگتا ہے اور ترک صدر اور ٹرکش میڈیا نے اس حوالے سے سعودی ولی عہد کی خوب کلاس بھی لی تھی جس کی وجہ سے محمد بن سلمان اور طیب اردوان میں ایک طرح کی دشمنی پیدا ہوچکی ہے۔ بہرحال عمران خان کی جانب سے طیب اردوان کے ساتھ امریکہ جانے کے اقدام پر سعودی دوستوں نے ناراضی کا اظہار کیا تو انہوں نے ترکی سے معذرت کرکے سعودی عرب کا روٹ اختیار کیا۔ وہاں گلے شکوے ضرور ہوئے لیکن اختتام خوش اُسلوبی سے ہوا اور قربت کا تاثر دینے کیلئے وزیراعظم پاکستان کرائون پرنس کے ذاتی جہاز میں نیویارک گئے۔
کہا جاتا ہے کہ عمران خان سعودی عرب سے کمرشل طیارے کے ذریعے امریکہ جانا چاہتے تھے لیکن محمد بن سلمان نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ عمران خان سعودی عرب کے خاص مہمان ہیں اور اس لیے وہ سعودی عرب کے طیارے میں پرواز کرکے امریکہ پہنچیں گے۔ یوں وزیراعظم عمران خان نے محمد بن سلمان کے ہوائی جہاز کے ذریعے امریکہ کا دورہ کیا۔اس سب کے باوجود عمران خان نے خارجہ پالیسی کی نزاکتوں اور عربوں کی نفسیات سے عدم واقفیت کی وجہ سے سعودی عرب کے تین مخالف ممالک ایران، ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ نئے اتحاد کی تشکیل پر اتفاق کیا جس پر محمد بن سلمان کا برہم ہوجانا یقینی تھا لیکن سادہ۔لوح کپتان نے اس پر بھی اکتفا نہیں کیا اور یہ بھی دعویٰ کرڈالا کہ وہ امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کرنے جارہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نیویارک میں ملاقاتوں اور جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران پاکستانی وزیر اعظم کی سفارت کاری کے کچھ پہلوؤں سے اتنے ناراض ہو گئے تھے کہ انہوں نے وزیراعظم کو فراہم کیا گیا اپنے نجی طیارہ واپس منگوا کر غصے کا اظہار کیا۔ یہ بات اب کھل چکی ہے کہ جب عمران خان امریکی دورے سے واپس ہورہے تھے تو انہیں یہ اطلاع ملی کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ان کے ہوائی جہاز کو راستے سے ہی امریکہ واپس جانا پڑیگا جس کے بعد مجبوراً عمران خان کمرشل طیارے سے واپس پاکستان پہنچے تھے۔ بعد میں یہ حقیقت کھل گئی تھی کہ طیارے میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی بلکہ محمد بن سلمان کی ناراضگی کے سبب عمران خان کو فوری جہاز لوٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
پاک سعودی تعلقات میں اتنی گہری خیلج آنے کے بعد پاکستان نے بیک ڈور چینلز سے سعودی عرب کے ساتھ معاملات درست کرنے کی بجائے ملائشیا ، ایران اور ترکی کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا۔ یہاں تک کہ پاکستان میں مشترکہ ٹی وی چینلزکے لئے فیزیبلٹی رپورٹس بننے لگیں۔لیکن جب کوالالمپور کانفرنس کا وقت قریب آیا تو سعودی عرب کی طرف سے سفارتی چینلز سے یہ پیغام موصول ہونے لگا کہ اگر پاکستانی وزیر اعظم ملائیشیا گئے تو نہ صرف دی ہوئی رقم فوری واپس لی جائیگی بلکہ سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو واپس بھجوانے جیسے انتہائی اقدامات بھی اٹھائے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ وزیراعظم نے ملائیشیا جاتے ہوئے پہلے بادل ناخواستہ سعودی عرب جانے کا فیصلہ یہ سوچ کر کیا کہ وہ محمد بن سلمان کو منالیں گے لیکن ملاقات میں محمد بن سلمان اپنے موقف پر ڈٹے رہے چنانچہ وزیر اعظم نے سعودی عرب سے ہی کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے معذرت کا پیغام متعلقہ ممالک کو بھجوایا۔ اس اقدام کی وجہ سے ملائیشیا، ترکی اور ایران بھی ناراض ہوئے۔ تب عمران خان یہ سوچ کر سعودی عرب سے واپس آئے کہ شاید اب سعودی عرب عنایات کی بھی بارش کردے اور اوآئی سی کے حوالے سے بھی مدد کرے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور پاکستان نے پھر سے نئے بلاک کے ساتھ روابط قائم کئے اور عمران خان ملائشیا جاپہنچے۔ وہاں انہوں نے اعلان کیا کہ کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرکے انہوں نے غلطی کی اور وہ اگلے سال کانفرنس میں ضرور آئیں گے۔چنانچہ سعودی ولی عہد ایک بار پھر آگ بگولا ہوگئے اور یہ افسوسناک قدم اٹھالیا کہ اس مشکل وقت میں پاکستان سے ایک ارب ڈالر وقت سے پہلے مانگ لئے، جو چین سے لیکر پاکستان نے ادا کئے۔
رواں برس پانچ اگست کو سقوط کشمیر کو ایک سال پورا ہونے کے موقعے پر جب اس حوالے سے وزیراعظم پر دبائو بڑھ گیا اور اپوزیشن کی طرف سے یہ طعنے ملنے لگے کہ مغربی دنیا تو کیا اوآئی سی کا فورم بھی کشمیر کیلئے استعمال نہیں ہوا تو شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے خلاف بیان داغ دیا جس سے نہ صرف سعودیوں کی ناراضی مزید بڑھ گئی بلکہ ساری دنیا کو پتہ چل گیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کس قدر خراب ہوگئے ہیں۔ حالات کو سدھارنے اور سعودی ولی عہد کو منانے کے لئے ایک بار پھر آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید مغل سعودی عرب گئے لیکن شہزادہ محمد بن سلمان نے ان سے ملنا تک گوارا نہ کیا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کو پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر ٹرکش ڈرامہ سیریل ارطغل غازی نشر کئے جانے پر بھی سعودی عرب کو شدید تحفظات ہیں۔ اس ڈرامے میں خلافت عثمانیہ کی احیا کا پیغام سعودی عرب کو قبول نہیں کیونکہ سعودیہ خود کو عالم اسلام کا سربراہ سمجھتا ہے اور ترکی کی بڑھتی ہوئی معاشی، سیاسی اور تقافتی قوت سے خائف ہے۔ اس کے بعد 22 اکتوبر کو پاکستان علما کونسل کے سربراہ مولانا طاہر محمود اشرفی کو وزیراعظم عمران خان کا نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ مقرر کیا گیا جس کا مقصد بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہے کیونکہ سعودی عرب کے حکمرانوں کے طاہر اشرفی کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طاہر اشرفی کی کوششوں کے باوجود ابھی تک برف نہیں پگھل سکی جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے ذمے باقی ماندہ 2 ارب ڈالرز بھی جلد واپس کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے اور موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کے حوالے سے بھی کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا۔
دوسری طرف اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ عمران خان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو جانے کے بعد سعودی شاہی خاندان نے اب دوبارہ سے میاں نواز شریف کے ساتھ اپنے رابطے استوار کر لیے ہیں۔
