عمرا ن حملہ کیس:پولی گرافک ٹیسٹ،ملزموں کے بیان غیر تسلی بخش قرار

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر ہونیوالے حملے کے کیس میں پولی گرافک ٹیسٹ کرایا گیا ہے جس میں ملزمان کے بیانات کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا گیا۔
عمران خان حملہ کیس میں جے آئی ٹی کی تحقیقات جاری ہیں،مرکزی ملزم نوید اور دیگر دو ساتھیوں کا پولی گرافک ٹیسٹ کروالیا گیا ہے۔
باخبرپولیس ذرائع کے مطابق پولی گرافک ٹیسٹ میں تینوں ملزمان اپنے پہلے بیان پر قائم رہے، پولی گرافک ٹیسٹ مشین نے تینوں ملزموں کے بیانات غیر تسلی بخش قرار دیے۔
ذرائع نے بتایا کہ تفتیشی ٹیم نے پولی گرافک ٹیسٹ کے بعد باقاعدہ میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست دائر کردی، میڈیکل بورڈ اور پولی گرافک ٹیسٹ کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے گا۔
پولیس ذرائع کےمطابق کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید اور عمران اسماعیل جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، جے آئی ٹی سیکیورٹی گارڈز سمیت متعدد رہنماؤں کے بیانات قلم بند کرچکی ہے۔
واضح رہے کہ 3 نومبر کو لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں قاتلانہ حملے میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان فائرنگ سے زخمی ہوگئے تھے۔واقعے میں ایک شخص جاں بحق اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان و دیگر رہنماؤں سمیت 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران فائرنگ کرنے والے شخص نوید کو بعد میں کنٹینر کے قریب سے پکڑ لیا گیا تھا جس نے عمران خان پر فائرنگ کا اعتراف بھی کیا تھا،پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ اب تک درج نہیں ہو سکا ہے
