عمر اکمل نے پابندی لگنے پر چیلنجز کا مقابلہ کیسے کیا؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے معروف بلے باز عمراکمل نے انکشاف کیا ہے کہ جب پی سی بی نے ان پر پابندی عائد کی تو ان کی ساری کمائی اپنے کیس کا دفاع کرنے میں لگ گئی، یہاں تک کہ بیٹی کو میکڈونلڈ کھلانے اور سکول فیس کیلئے بھی پیسے نہیں تھے، لیکن اہلیہ نے مشکل وقت میں بھرپور ساتھ دیا۔حال ہی میں عمر اکمل نے سما ٹی وی کے پروگرام ’’حد کر دی‘‘ میں شرکت کی جہاں انہوں نے کرکٹ کریئراور اپنے خلاف کیسز کے علاوہ زندگی میں آنے والے چیلنجز سے متعلق گفتگو کی، ماضی میں عمر اکمل اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز اور فٹنس کے باعث تنازعات کا شکار رہے ہیں۔انہوں نے پروگرام کے دوران ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق کہا کہ ٹک ٹاک پر پابندی عائد نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کے ذریعے کئی گھرانے کماتے ہیں، وہ خود بھی ٹک ٹاک پر ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں لیکن وہ ویڈیوز صرف انٹرٹینمنٹ کے لیے ہوتی ہیں، اپنی مشکلات کے حوالے سے بتایا کہ میں صرف یہی پیغام دوں گا کہ جو مشکل وقت میں نے گزارا ہے وہ کسی دشمن پر بھی نہ آئے، کرکٹ میں کم بیک کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، اللہ پر یقین ہے کہ اپنی محنت سے آگے بڑھوں گا اور پاکستان کے لیے ایک بار پھر کھیلوں گا۔عمر اکمل نے بتایا کہ ’جب میرے اوپر مشکل وقت آیا تو بہت سے لوگوں کا اصل چہرہ سامنے آیا، ایک وقت میں جو لوگ میری ایک کال پر فون اٹھاتے تھے انہوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا لیکن جو لوگ میرے ساتھ آج بھی کھڑے ہوئے ہیں ان کا شکر ادا کرتا ہوں، مشکل وقت میں میرے بھائیوں اور چند دوستوں نے میرا ساتھ دیا۔ جب ان کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ میں کیس جاری تھا تو انہوں نے اپنی زندگی کی پوری کمائی اس کیس پر لگا دی، میرے حالات اتنے خراب ہوگئے تھے کہ اس وقت میرے پاس بیٹی کو میکڈونلڈ کھلانے کے پیسے نہیں تھے، یہاں تک کہ سکول کی فیس بھی جمع نہیں کروا سکتا تھا، اس مشکل وقت میں میری اہلیہ نے مجھے مایوس نہیں ہونے دیا، کرکٹر نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ جب بھی وہ وقت یاد کرتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں، آج اللہ کا شکر ہے کہ گھر کے حالات بہتر ہوگئے ہیں، میں اپنی اہلیہ کا جتنا شکریہ ادا کروں اتنا کم ہے۔میچ فکسنگ کے لیے مجھ سے کئی بار رجوع کیا گیا جس کے بعد میں ہمیشہ پی سی بی اور آئی سی سی کو رجوع کرنے والے کی تفصیلات فراہم کر دیتا تھا اور وہ خود اس معاملے کی تحقیقات کرتے تھے۔ جب کامران اکمل کی مستقل خراب پرفارمنس کے سبب سلیکٹرز نے انہیں ٹیم سے ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیاتو اس مرحلے پر عمر اکمل نے بھائی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ’جعلی انجری‘ کا بہانہ کرتے ہوئے تیسرے ٹیسٹ میچ میں نہ کھیلنے کا اعلان کیا تاہم بعدازاں وہ یہ میچ کھیلے۔اس حرکت پر بورڈ نے دونوں بھائیوں پر جرمانہ عائد کیا اور یہاں سے عمر اکمل اور تنازعات کی مایوس کن پریم کتھا کا آغاز ہوا۔اب ان تمام تر اسکینڈلز کے بعد فروری 2020 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر عمر اکمل کو معطل کر دیا، عمراکمل کے خلاف میچ فکسنگ کی آفر کو رپورٹ نہ کرنے پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے تین سال کی سزا سنائی تھی جسے آزاد ایڈجیوڈیکٹر نے کم کر کے 18 ماہ کر دیا تھا۔

Back to top button