عمر شریف بیٹی کی موت اور ازدواجی ناکامیوں سے گھائل تھے

دل اور گردے کے عارضوں کے باعث جرمنی میں انتقال کر جانے والے عمر شریف کو دو بیویوں سے علیحدگی، تیسری کے ساتھ عدالتی جنگ اور سب سے بڑھ کر جوان بیٹی کی المناک موت نے اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا جس کے باعث ان کا دل دنیا سے اٹھ چکا تھا۔
عمر شریف نے 3 شادیاں کیں، ان کی بیگمات کے نام دیبا عمر، شکیلہ قریشی اور زرین غزل ہیں، پہلی بیگم سے ان کے 2 بیٹے ہیں، اسی میں سے ایک بیٹی بھی تھی جس کا گردے کا ٹرانسپلانٹ ناکام ہونے کے بعد انتقال ہو گیا تھا۔ عمر کے قریبی دوستوں کے مطابق ان کی بیماری کے اصل وجہ ذہنی دباؤ تھا۔ انہوں نے پیشہ ورانہ کام کو بھی خود پر حاوی رکھا اور پھر نجی زندگی کے مسائل نے بھی ان کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔
موت سے چند ماہ قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں عمر نے بتایا تھا کہ انھوں نے پہلی شادی اپنی پڑوسن دیبا سے کیریئر میں کامیاب ہونے کے بعد کی۔ عمر شریف کا کہنا تھا کہ شادی سے قبل میں دیبا کو پسند کرتا تھا لیکن جب میری والدہ نے بھی دیبا کو پسند کیا تو ہماری ارینجڈ لو میرج ہوئی۔عمر شریف کا کہنا تھا کہ ان کی دوسری شادی ڈرامہ آرٹسٹ شکیلہ سے ہوئی جو لڑائی جھگڑوں کے سبب صرف 3 برس چل پائی۔ عمر شریف کے مطابق شکیلہ سے علیحدگی ان کی قسمت میں لکھی تھی لیکن وہ بھی اچھی خاتون ہیں۔
عمر شریف کے دوستوں کے مطابق فلم ’’چار سو بیس‘‘ میں شکیلہ کا ٹکراؤ اردو تھیٹر کراچی کے کامیاب نام عمر شریف سے ہوا۔ وہ اس فلم کے ڈائریکٹر بھی تھے اور اسکے مرکزی کردار بھی۔ یوں ان دونوں کی محبت کا آغاز ہوا۔اس کے بعد دونوں کئی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئے ۔فلم باغی شہزادے کی ریلیز کے بعد عمر شریف اور شکیلہ قریشی شادی کے بندھن میں بندھ گئے اور شکیلہ نے فلم انڈسٹری کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا حالانکہ یہ شکیلہ کے کیرئیر کا عروج تھا۔
دوسری جانب عمر شریف کے لئے بھی شادی کا فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ وہ پہلے سے شادی شدہ اور تین بچوں کے باپ تھے۔ شکیلہ سے شادی کے کچھ ہی عرصے بعد دونوں میں اختلافات کا دور شروع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ شکیلہ نے خود عمر شریف سے خلع لے لی لیکن اس بات کا اقرار کبھی نہیں کیا۔ شکیلہ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں لیکن انہوں نے تاحال دوسری شادی بھی نہیں کی۔ عمر شریف نے تیسری شادی اسٹیج اداکارہ زرین غزل سے کی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ غزل انہیں اچھی لگیں سو ان سے شادی کر لی۔
عمر زرین کی سلیقہ مندی اور ذہانت کے بھی قائل تھے۔ تاہم عمر شریف اور زرین غزل میں بھی جائیداد کے معاملے پر تنازع پیدا ہو گیا تھا جس کے بعد انہیں سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرنا پڑا تھا۔ عمر شریف کے وکیل کے مطابق اُن کے مؤکل نے 2016 میں بینک سے قرضہ لے کر ایک اپارٹمنٹ خریدا تھا۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ عمر شریف شدید علیل ہیں، انہیں بھولنے کی بیماری ہوگئی ہے، علالت کے دوران تیسری بیوی زرین غزل نے دسمبر 2020 میں انہیں خوفزدہ کرکے ان کا اپارٹمنٹ اپنے نام کرالیا۔ وکیل کا موقف تھا کہ ان کے موکل عمر شریف کو خدشہ ہے کہ 11 کروڑ روپے کا اپارٹمنٹ زرین غزل فروخت کرنا چاہتی ہیں لہٰذا اہلیہ کی جانب سے بنائی گئی گفٹ ڈیڈ کو کالعدم قرار دیا جائے، یہ کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت ہی تھا کہ عمر شریف چل بسے، لیکن آخری وقت میں ان کے پاس زریں غزل ہی ان کی تیمارداری کے لئے موجود تھیں۔
پاکستانی اسٹیج اور کامیڈی کی دنیا میں عمر شریف ایسا نام ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی شہرت کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں خوب بجتا ہے۔ عمر جیسے عظیم فن کار صدیوں میں جنم لیتے ہیں۔ ان کا نام سنتے ہی چہرے پر مسکراہٹ بکھر جاتی تھی۔ عمر شریف 19 اپریل 1955 کو کراچی کے معروف علاقے لیاقت آباد میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد عمر تھا۔ انہوں نے 1974 میں اسٹیج پر اداکاری کے جوہر دکھانے کا آغاز کیا۔وہ پاکستانی مزاحیہ اداکار منور ظریف سے بہت متاثر تھے اور ان کو اپنا روحانی استاد بھی مانتے تھے لہٰذا انہی کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی کامیڈی کے خدوخال تشکیل دیئے۔
انہوں نے انتہائی کم عمری میں کیریئر کا آغاز کیا اور محض 14 برس کی عمر میں پہلے ڈرامے میں جلوہ گر ہوئے۔ پھر انہوں نے پوری زندگی اسکرین، پردے اور تھیٹر پر گزاری۔1980ء میں پہلی بار انہوں نے آڈیو کیسٹ کے ذریعے اپنے ڈرامے ریلیز کرنا شروع کیے۔ بکرا قسطوں پہ“ ان کا مقبول ترین اسٹیج شو کہلاتا ہے، جس کے 5 پارٹ اسٹیج پر پیش کیے گئے۔ ہر پارٹ میں عمر شریف کی اداکاری کمال اور لازوال تھی۔وہ پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت اور خطے کے ان ممالک اور حصوں میں یکساں مقبول ہیں، جہاں اردو یا ہندی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ بھارت کے کئی اداکار ان کو کاپی کر کے ترقی کی معراج کو پہنچے۔ وہ دور ایسا تھا جب ملک میں تھیٹر زندہ تھا اور اس کو فحاشی اور لچر پن کی دیمک نے چاٹنا شروع نہیں کیا تھا۔
عمر شریف کے مقبول اسٹیج ڈراموں میں دلہن میں لے کر جاؤں گا، سلام کراچی، انداز اپنا اپنا، میری بھی تو عید کرا دے، نئی امی پرانا ابا، یہ ہے نیا تماشا، یہ ہے نیا زمانہ، یس سر عید نو سر عید، عید تیرے نام، صمد بونڈ 007، لاہور سے لندن، انگور کھٹے ہیں، پٹرول پمپ، لوٹ سیل، ہاف پلیٹ، عمر شریف ان جنگل، چوہدری پلازہ اور وغیرہ شامل ہیں۔ عمر کچھ فلموں میں بھی مرکزی کرداروں میں جلوہ گر ہوئے اور اپنی دھاک بٹھائی۔ فلموں میں شکیلہ قریشی کے ساتھ ان کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ ان کی مقبول فلموں میں مسٹر 420، مسٹر چارلی، خاندان اور لاٹ صاحب شامل ہیں۔ انہوں نے کافی عرصہ لاہور میں بھی گزارا اور وہاں بھی تھیٹر کی دنیا پر راج کرتے نظر آئے۔ 2009 میں وہ ایک نجی چینل پر مزاح سے بھرپور پروگرام ”دی شریف شو“ میں جلوہ گر ہوئے اور خوب داد سمیٹی۔ بھارت میں آج کل چلنے والے شوز اسی کا چربہ ہیں جو طرح طرح کے ناموں سے اب بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔
