زہریلے انجیکشنز لگنے والی امریکی خاتون ہوش میں آ گئی

امریکہ میں دو زہریلے انجیکشنز لگنے کے باوجود زندہ بچ جانے والی 50 سالہ خاتون کے ہوش میں آنے کے بعد اب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا اسے سزائے موت دینے کے عدالتی فیصلے پر دوبارہ عملدرآمد کی کوشش کی جائے گی یا نہیں۔ خاتون کے وکلا کا موقف ہے کہ ایک جرم کی پاداش میں دو مرتبہ سزا نہیں دی جا سکتی، لہٰذا اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ امریکی عدالتیں اس غیر معمولی صورتحال میں کیا فیصلہ کرتی ہیں، کیونکہ ماضی میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں جس کی بنیاد پر اس کیس کا فیصلہ کیا جا سکے۔
ٹینیسی میں گزشتہ ہفتے زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی دو ناکام کوششوں کے بعد زندہ بچ جانے والی کرسٹا پائیک اب ہوش میں آ گئی ہیں اور بات چیت بھی کر رہی ہیں۔ ان کے وکلا کے مطابق 50 سالہ پائیک تاحال انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہیں اور ہسپتال کے بستر پر انہیں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑ کر رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے ان کے جسم میں داخل کیے گئے زہریلے کیمیکل کو نکالنے کی کوشش کی، تاہم ان کی طویل مدتی طبی صورتحال اب بھی واضح نہیں۔
کرسٹا پائیک کو 1995 میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر 19 سالہ کولین سلیمر کو انتہائی تشدد کے بعد قتل کرنے کے جرم میں 1996 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ پائیک اس وقت صرف 18 برس کی تھیں۔ گزشتہ بدھ، 30 ستمبر کو ٹینیسی میں زہریلے انجیکشن کے ذریعے ان کی سزائے موت پر عملدرآمد کی کوشش کی گئی، تاہم پہلی کوشش ناکام ہونے کے بعد دوسری کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی اور پائیک زندہ رہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس لحاظ سے غیرمعمولی ہے کہ زہریلا مادہ ان کے جسم میں داخل کیا گیا، لیکن اس کے باوجود وہ موت سے بچ گئیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ میں سات قیدی ایسے واقعات میں سزائے موت سے بچ چکے ہیں، لیکن ان تمام کیسز میں زہریلا مادہ قیدی کی رگوں میں داخل کرنے میں کامیابی نہیں ملی تھی۔ کرسٹا پائیک کا معاملہ اس لیے منفرد ہے کہ ان کے جسم میں زہریلا کیمیکل داخل کر دیا گیا تھا اور سزائے موت کے طریقہ کار کے تحت تمام کارروائی بھی مکمل کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ زندہ بچ گئیں۔ اس غیر معمولی صورتحال نے اب قانونی طور پر ایک پیچیدہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا ریاست دوبارہ اسی خاتون کو موت دینے کی کوشش کر سکتی ہے۔ پائیک کے وکلا کا کہنا ہے کہ ایک جرم کی بنیاد پر سزا دی جا چکی ہے اور اس پر دوبارہ عملدرآمد کی کوشش قانونی طور پر ایک نئی بحث کو جنم دے گی۔ تاہم امریکی قانون میں اس نوعیت کی صورتحال کی کوئی واضح نظیر سامنے نہیں آتی، جس کے باعث یہ معاملہ ممکنہ طور پر عدالتوں میں ایک بالکل نئے قانونی سوال کے طور پر زیر بحث آئے گا۔ دوسری جانب قتل ہونے والی کولین سلیمر کے خاندان کے لیے بھی یہ صورتحال غیرمعمولی جذباتی آزمائش بن گئی ہے، کیونکہ گزشتہ تقریباً 30 برس سے انہیں یہ یقین دلایا جاتا رہا ہے کہ انصاف کا مطلب پائیک کو سزائے موت دینا ہے۔
یاد رہے کہ معروف صحافی ہیلن رابرٹس نے تقریباً 20 برس قبل سزائے موت کی کوٹھڑی میں کرسٹا پائیک کا تفصیلی انٹرویو کیا تھا۔ اس وقت پائیک 30 برس کی تھیں اور 11 سال سے ڈیتھ رو میں قید تھیں۔ رابرٹس کے مطابق وہ ایک انتہائی سفاک جرم میں ملوث خاتون سے ملاقات کی توقع لے کر گئی تھیں، لیکن ان کے سامنے آنے والی شخصیت ان کے تصور سے خاصی مختلف تھی۔ شیشے کی دیوار کے پار ہونے والی اس ملاقات میں پائیک نے ان کے سوالات کے کھلے اور واضح جواب دیے، مسلسل آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی اور کئی مواقع پر انہیں ایک عام انسان کی طرح محسوس ہوئیں۔
رابرٹس کے مطابق پائیک نے قتل کے واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ اپنے ماضی کو ایسے دیکھتی ہیں جیسے وہ کسی دوسرے شخص کی زندگی ہو۔ پائیک نے اپنے جرم پر افسوس کا اظہار بھی کیا تھا اور اعتراف کیا تھا کہ کوئی معافی یا پشیمانی کولین سلیمر کے خاندان کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ رابرٹس نے بتایا کہ پائیک نے اپنے بچپن میں والدین کی غفلت، بدسلوکی اور جنسی تشدد جیسے تلخ تجربات کا بھی ذکر کیا تھا۔ ان کے مطابق پائیک کا بچپن شدید مشکلات میں گزرا، تاہم 18 برس کی عمر میں وہ نرس بننے کا خواب دیکھ رہی تھیں اور اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دینا چاہتی تھیں۔
رابرٹس نے کہا کہ پائیک کے ماضی اور ان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو بیان کرنے کا مقصد ہرگز ان کے جرم کی سنگینی کو کم کرنا نہیں۔ ان کے بقول پائیک نے ایک سنگین جرم کیا تھا اور اسے اس کی سزا ملنی چاہیے تھی، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ اگر زندگی کے ابتدائی اور انتہائی نازک مراحل میں انہیں مناسب تحفظ، محبت، رہنمائی اور مدد میسر آتی تو کیا وہ اسی راستے پر چل کر اس انجام تک پہنچتیں۔ پائیک نے ڈیتھ رو میں روزانہ تقریباً 23 گھنٹے تنہائی میں گزارے، کتابیں پڑھیں، ٹی وی دیکھا اور قلمی دوستوں کو خطوط لکھے، جبکہ رابرٹس کے مطابق ملاقات کے بعد پائیک نے انہیں ہاتھ سے بنایا ہوا ایک تتلی نما کارڈ بھی بھیجا تھا۔
اب زہریلے انجیکشن کی دو ناکام کوششوں کے بعد کرسٹا پائیک کی زندگی ایک ایسے قانونی اور اخلاقی سوال کا مرکز بن گئی ہے جس کی امریکہ میں کوئی واضح مثال موجود نہیں۔ ایک طرف مقتولہ کولین سلیمر کے خاندان کا انصاف کا حق ہے، جبکہ دوسری طرف یہ سوال عدالتوں کے سامنے ہے کہ ریاست جس شخص کو موت کی سزا دے چکی ہو اور اس سزا پر عملدرآمد کی کوشش بھی کر چکی ہو، کیا اسی شخص کو دوبارہ موت دینے کی کوشش کر سکتی ہے۔ پائیک کے ہوش میں آنے اور گفتگو کرنے کے بعد اس معاملے میں آئندہ عدالتی فیصلہ نہ صرف ان کی اپنی قسمت کا تعین کرے گا بلکہ ممکنہ طور پر امریکی نظامِ سزائے موت میں ایک نئی قانونی نظیر بھی قائم کر سکتا ہے۔
