پولیس ریپ وکٹم ڈیانا کو زبردستی آذربائیجان لے گئی

لاہور میں ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور اس کے دوستوں کے ہاتھوں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی آذربائیجان کی 22 سالہ لڑکی ڈیانا کو ریپ کیس کی کارروائی کے دوران لاہور پولیس زبردستی واپس آذربائیجان پہنچا آئی ہے اور مدعا غائب کر دیا گیا ہے تاکہ آگے کیس چلانے والا کوئی نہ ہو۔ لاہور پولیس کے تین افسران ڈیانا کو اپنے ساتھ آذربائجان لے کر گئے، ایسے میں ڈیانا کے اس الزام کی تصدیق ہو گئی ہے کہ پولیس اسے ریپ کرنے والے با اثر ملزمان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ ڈیانا دو روز قبل لاہور ایئرپورٹ پر آذربائیجان جانے سے انکار کرتے ہوئے واضح طور پر کہہ چکی تھی کہ وہ پاکستان میں رہ کر اپنے مقدمے کی پیروی کرنا چاہتی ہے، لیکن اگلے ہی روز اسے لاہور پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں زبردستی جہاز پر سوار کروا کے باکو روانہ کردیا گیا۔ تاہم جب اس حوالے سے لاہور پولیس کے سینیئر افسران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یہ دعوی کر ڈالا کہ پولیس اہلکاروں کو ڈیانا کے ساتھ بھیجنے کی درخواست آذربائیجانی سفارتخانے نے کی تھی، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب متاثرہ خاتون خود پاکستان میں رہ کر انصاف کے حصول کی خواہش ظاہر کرچکی تھی تو اسے کیس کی تکمیل سے پہلے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اذربائجان کا سفارتخانہ یہ نہیں چاہے گا کہ اس کے ملک کی ایک شہری کے ساتھ ریپ کرنے والے ملزمان کے خلاف کارروائی اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔

یاد ریے کہ ڈیانا کی پاکستان سے روانگی سے ایک روز پہلے لاہور ایئرپورٹ پر بننے والی ویڈیوز نے اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت دے دی تھی۔ ڈیانا نے حکام سے بحث کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستان نہیں چھوڑنا چاہتی اور اپنے کیس کو انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔ وہ جہاز میں سوار ہونے کے بعد واپس اتر گئی اور اسے آف لوڈ کردیا گیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ اسے زبردستی آذربائیجان بھیجا جا رہا ہے۔ بعدازاں تاہم اسے تین پولیس افسران کے ہمراہ دوبارہ پرواز میں سوار کیا گیا اور 4 اکتوبر کو وہ باکو روانہ ہوگئی۔

یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ ڈیانا کا کیس ابھی ختم نہیں ہوا تھا بلکہ اس میں پولیس کی تفتیش اور عدالت کی کارروائی جاری تھی۔ پولیس نے ملزمان گرفتار کیے، گاڑی سمیت شواہد حاصل کیے، ڈیانا کا طبی معائنہ کرایا اور اس کے جسمانی نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوائے۔ 28 ستمبر کو ڈیانا کا دفعہ 164 کے تحت عدالتی بیان بھی ریکارڈ ہوا جس میں اس نے خود کو ریپ کرنے والے افراد کے نام بھی بتائے۔ 5 اکتوبر کو عدالت نے دو ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید چار روز کی توسیع بھی کر دی تھی، جبکہ ایک خاتون ملزمہ کا عبوری ضمانت کا معاملہ بھی عدالت میں زیر سماعت رہا۔ اس صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب پولیس خود کہہ رہی ہے کہ مقدمے کی تفتیش مکمل نہیں ہوئی، ملزمان کے موبائل فون برآمد کرنا اور دیگر فرانزک کارروائی باقی ہے اور ایک ملزم کی گرفتاری بھی زیر التوا ہے، تو مقدمے کی بنیادی متاثرہ اور شکایت کنندہ کو پاکستان سے واپس بھیجنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

اگرچہ غیر ملکی شہری کا پاکستان سے چلے جانا قانونی طور پر مقدمے کے خود بخود ختم ہونے کا سبب نہیں بنتا، تاہم متاثرہ خاتون کی جسمانی عدم موجودگی گواہی، شناخت اور دیگر قانونی مراحل کو پیچیدہ ضرور بنا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیانا کی واپسی کے فیصلے کی قانونی بنیاد اور اس میں اسکی رضامندی کی حیثیت واضح کرنا ضروری ہے۔ ڈیانا کا معاملہ اس سے قبل لاہور میں غیر ملکی خواتین کے ریپ کے ایک اور کیس کی یاد دلاتا ہے۔ جولائی میں نیدرلینڈز اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے اغوا، قید اور جنسی زیادتی کا مقدمہ ڈیفنس سی تھانے میں درج ہوا تھا۔ پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کیا اور عدالت نے ان میں سے چار کو 17 جولائی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

اس مقدمے میں احمد رضا ڈار بھی شامل جو کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا نواسہ بتایا جاتا ہے۔ اس کیس میں بھی متاثرہ خواتین کو زور زبردستی ملک سے بے دخل کر کے واپس بھجوا دیا گیا تھا۔ یعنی اس کیس میں بھی خواتین کو ان کے ملک بھجوا کر مدعا غائب کر دیا گیا تاکہ کیس کی پیروی کرنے والا کوئی نہ ہو۔

دونوں واقعات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان میں اگر کوئی غیر ملکی خاتون خود کو جنسی زیادتی کا شکار قرار دے کر فوجداری مقدمہ درج کراتی ہے تو کیا اسے مقدمے کے اہم مراحل مکمل ہونے تک پاکستان میں رہنے، آزاد قانونی مشورہ لینے اور اپنی گواہی و مقدمے کی پیروی کے حقوق کے بارے میں تحفظ فراہم کرنا چاہیئے یا نہیں۔ ڈیانا کے معاملے میں یہ سوال اس لیے زیادہ اہم ہوگیا ہے کہ اس نے خود پاکستان سے روانگی کی مخالفت کی اور مقدمہ جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن اس کے باوجود اسے پولیس سکواڈ کے ساتھ ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ اب اصل امتحان لاہور پولیس کا ہے کہ وہ واضح کرے کہ ڈیانا کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کس اتھارٹی نے کیا، اس کی قانونی بنیاد کیا تھی، کیا اس کی رضامندی باقاعدہ طور پر حاصل کی گئی اور آذربائیجان پہنچنے کے بعد بھی اس کی گواہی، شناخت اور مقدمے میں قانونی شرکت کس طریقے سے یقینی بنائی جائے گی۔

Back to top button