غداروں کے اس سنہرے دور میں مشرف کو یاد کیوں نہیں کیا جاتا


سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں آمرانہ حکومت کے ناقدین کو غدار وطن قرار دینے کا جو ٹرینڈ شروع ہوا تھا وہ عمران خان کے دور حکومت میں اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے اور ان کی پالیسیوں پر یا حکومتی ناکامیوں پر تنقید کرنے والے سیاستدانوں اور صحافیوں کو جوق در جوق غدار قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں 1947 سے 2019 تک صرف ایک شخص کو آئین شکنی کرنے پر غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی اور اس کا نام ہے پرویز مشرف۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو ہر چھوٹی بڑی بات پر غدار قرار دے کر لفظ غداری کی اہمیت کم کرنے والی کپتان حکومت نے آج دن تک پاکستان کے پہلے اور آخری مستند ترین غدار وطن کو پاکستان واپس لاکر سزائے موت دینے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آئے تھے اور آج دن تک وہ عوام کی بجائے اسٹبلشمنٹ کی نوکری کیے جا رہے ہیں۔ چناچہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے اسٹیبلشمنٹ ان سے ناراض ہو جائے۔ یاد رہے کہ جب ایک خصوصی عدالت نے دسمبر 2019 میں پرویز مشرف کو آئین سے غداری کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی تو فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کے تب کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں اس فیصلے کو سختی سے رد کر دیا تھا۔ موصوف نے اپنے ایک ٹویٹ میں فرمایا تھا کہ ’خصوصی عدالت کے فیصلے نے مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں کو اضطراب اور صدمے سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ ایک سابق آرمی چیف، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا چیئرمین اور صدرِ پاکستان جس نے 40 برس سے زائد ملک کی خدمت کی اور ملکی دفاع کے لیے جنگیں لڑیں ہرگز غدار نہیں ہو سکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے عمل، اپنے دفاع کے بنیادی حق، قانونی کاروائی صرف ایک شخص کی ذات کے خلاف مرتکز کرنے اور مقدمے کو عجلت میں نمٹانے کے عمل میں جائز قانونی طریقِ کار کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ افواجِ پاکستان کو توقع ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق انصاف کیا جائے گا۔‘
تاہم عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور شاید یہ بھول گئے کہ وہ ایک ایسے مفرور اشتہاری کے دفاع میں طوطا کہانی سنا رہے ہیں جس نے 1973 کے متفقہ آئین کی دو مرتبہ دھجیاں بکھیریں اور جس پر بے نظیر بھٹو شہید اور نواب اکبر بگٹی شہید جیسے قابل تعظیم سیاستدانوں کے قتل کا الزام ہے ۔
خیال رہے کہ سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف فیصلے کی شکل میں پاکستان کی عدالتوں نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی فرد کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیا تھا۔ خصوصی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے اور آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔ مشرف پر آئین شکنی کا الزام تین نومبر 2007 کو آئین کی معطلی اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے تھا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی شخص کو آئین شکنی کے جرم میں سزا سنائی گئی۔ جسٹس سیٹھ وقار، جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل خصوصی عدالت نے یہ مختصر فیصلہ سنایا جو ایک اکثریتی فیصلہ تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے اور آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔ آئین کی شق نمبر چھ کے مطابق وہ شخص جس نے 23 مارچ 1956 کے بعد آئین توڑا ہو یا اس کے خلاف سازش کی ہو ، اس کے عمل کو سنگین غداری قرار دیا جائے گا اور اس کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جائے گی۔
مشرف کو سزائے موت دیے جانے کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے 30 دن کا وقت مقرر تھا تاہم اپیل دائر کرنے کے لیے پرویز مشرف کو پاکستان واپس آ کر عدالت کے سامنے پیش ہونا ضروری تھا اس لیے اس فیصلے کے خلاف مشرف اپیل بھی دائر نہیں کر سکا۔ مشرف نے 1999 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی تھی جس کے بعد وہ 2001 سے 2008 تک ملک پر قابض رہا۔ یاد رہے کہ غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران وہ صرف ایک مرتبہ عدالت میں پیش ہوا جس کے بعد اسے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال راولپنڈی پہنچا دیا گیا جہاں سے ایک رات اسے چپکے سے دبئی روانہ کر دیا گیا۔ سزا کے بعد مشرف۔نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ اسکے خلاف مقدمہ بےبنیاد ہے اور ان پر غداری کا الزام سراسر جھوٹ ہے۔
چنانچہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آئینِ پاکستان کی نظر میں غداری کیا ہے اور غدار کون ہوتا ہے، غداری کا تعین کرنے اور غدار کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کا حق آئین کس کو دیتا ہے؟ پھر یہ کارروائی کیسے ہوتی ہے؟ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ’ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔‘ یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔ لہذا جنرل پرویز مشرف پر غداری کا الزام اس لیے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ آئین پاکستان کو پامال کیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بجائے کہ عمران خان کی حکومت مشرف کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے اسے وطن واپس لا کر عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر عمل درآمد کرتی، الٹا مشرف کو سزا سنانے والے بینچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف اسٹیبلشمینٹ کے ایما پر وزیر قانون کی جانب سے کارروائی کرنے کا اعلان کیا گیا جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
یاد رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ ایک ریٹائرڈ جرنیل کے بارے میں عدالتی فیصلے پر مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے کھل کر تبصرہ کیا گیا حالانکہ روایتی طور پر ایسے ردِعمل کی توقع کسی متعلقہ ذمہ دار آئینی عہدیدار سے کی جاتی ہے۔ البتہ اس تبصرے سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ اگر کسی آیئن شکن جرنیل کو اگر کوئی عدالت غدار قرار دے بھی دے تو اس کے سابق ادارے کو کس قدر صدمہ ہوتا ہے۔ لیکن اب ذرا ان سیاستدانوں یا سویلینز کے اضطراب اور دکھ کا اندازہ لگائیے جنھیں بغیر مقدمہ چلائے تھوک کے بھاؤ غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ راتوں رات شاہراہوں پر ان کی غداری کے بینر لگ جاتے ہیں، سوشل میڈیا کے آسمان پر ان کی غداری ٹرول کی شکل میں چھا جاتی ہے۔ غیر معروف لوگوں کی جانب سے ان کے خلاف پرچے درج ہو جاتے ہیں۔ ان غداروں کو یہ سہولت بھی حاصل نہیں ہوتی کہ کوئی ادارہ ان کے پیچھے کھڑا ہو اور پھر یہ مہم اچانک ایک دن صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے اور ہجوم کسی نئے غدار کے تعاقب میں روانہ کر دیا جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ مہم تھمنے کے بجائے اور پست ہوتی جا رہی ہے۔ جب سے حزبِ اختلاف نے حکومت کے خلاف جلسے شروع کیے ہیں۔ وزیرِ اعظم سے لے کر ان کے نائب قاصد تک سب کو پاکستانی حزبِ اختلاف انڈیا اور اسرائیل کی ایجنٹ نظر آ رہی ہے۔ کسی کو یاد نہیں کہ کل تک یہی انڈین و اسرائیلی ایجنٹ اس ملک پر منتخب نمائندوں کی صورت میں حکومت کر رہے تھے۔ ان میں سے بہت سے ایجنٹ اس وقت بھی رکنِ پارلیمان ہیں اور کل کلاں جب انتخابات ہوں گے تو ان میں سے کئی غدار دوبارہ منتخب ہو کر اسی پاکستان کے آئین کے تحت حلف اٹھا رہے ہوں گے۔
کہا جاتا ہے کہ ’پارلیمنٹ سپریم ہے‘ اور پارلیمانی کاروائی کے دوران ایوان میں ہونے والی تقاریر کو کسی دوسرے فورم پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ صرف سپیکر یا سینیٹ چیئرمین فیصلہ دے سکتا ہے۔ مگر اب یہ تمیز بھی ختم ہو گئی ہے۔ رکنِ قومی اسمبلی اور سابق سپیکر ایاز صادق کی ’ابھینندانہ تقریر‘ کے خلاف غیر معروف لوگ تھانوں میں درخواستیں دے رہے ہیں۔ ان کے خلاف نامعلوم محبانِ پاکستان کی جانب سے میر جعفر و میر صادق کے بینرز نمودار ہو گئے ہیں۔ اسی پارلیمان میں ایک وزیر پلوامہ میں ہونے والی دہشت گرد کاروائی کی ذمہ داری قبول کر رہا ہے اور پھر اسے زبان کی پھسلن کہہ کر انڈین میڈیا پر بھی برس رہا ہے۔ ایاز صادق بھی انڈین میڈیا کو بیان مسخ کرنے کا الزام دے رہے ہیں۔ انڈین میڈیا پر غصہ ایسے ہی ہے جیسے چرچل جرمنی سے شکوہ کرے کہ نازی میڈیا اس کی تقاریر کو مسخ کر کے پیش کر رہا ہے یا بلی سے شکایت کی جائے کہ اس نے پرات میں پڑا دودھ بلا اجازت کیسے پی لیا۔
شاید اتنا کافی نہیں تھا لہٰذا آئی ایس پی آر نے بھی پارلیمانی تقریر پر یہ تبصرہ کرنا ضروری سمجھا کہ انڈین پائلٹ ابھینندن کی رہائی کی بابت جو بیان دیا گیا ہے وہ قومی سلامتی سے متعلق تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن فوجی ترجمان یہ بتانا بھول گئے کہ پاکستان پر حملہ کرنے والے بھارتی پائلٹ کو فوری طور پر رہا کرنے والے لوگ غدار ہوتے ہیں یا اس کی رہائی پر تبصرہ کرنے والے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button