منی لانڈرنگ ریفرنس: نصرت شہباز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا حکم

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس میں نصرت شہباز کو اشتہاری قراردینے کی کارروائی کا حکم دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کی طرف سے منی لانڈرنگ ریفرنس کے حوالے سے محفوظ ہونے والا فیصلہ سنادیا گیا ، عدالت نے اپنے فیصلے میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کی حاضری کی معافی کی درخواست مسترد کردی، عدالت نے نصرت شہباز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا حکم دے دیا۔
بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے درخواست مسترد کی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیرعلیٰ پنجاب مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا، تفصیلات کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، عدالت نے شہباز شریف کو کوٹ لکھپت جیل بھیجنے کا حکم دیا، سماعت کے موقع پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ مجھے ان کی حراست میں 85 دن ہوچکے ہیں، 26 اکتوبر 2018 کو آمدن سے زائد اثاثہ جات میں انکوائری شروع ہوئی، نیب نے جو سوالنامہ دیا وہ پرانا ہے، اس کا جواب دے دیا، میں نے ان سے کہا جو آپ پوچھ رہے ہیں وہ پہلے آپ مجھ سے پوچھ چکے ہیں، نیب کے تفتیشی افسر حقائق کے برعکس باتیں کررہے ہیں، عدالت نے نیب کو ایک ہفتے میں تحقیقات کا حکم دیا تھا، تفتیشی افسر کو حکم نامہ کا بتایا تھا کہ تحقیقات کرلیں، لیکن تفتیشی افسران نے ہفتے میں صرف 15 منٹ مجھ سے ملاقات کی، جس کے جواب میں نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ کوئی سوال کا جواب دینے کو تیار ہی نہیں ہیں، اب کیا ہم تفتیش ہی نہ کریں، شہباز شریف کو تحریری سوال نامے فراہم کیے مگر وہ جواب نہیں دے سکے۔
