فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ سے پاکستانی برانڈز بھی رگڑے گئے


فرانس میں پیغمبر اسلام کے متنازع خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور اس بارے میں فرانسیسی صدر میکخواں کے قابل اعتراض بیان کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے مختلف مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم نے پاکستانی برانڈز کی فروخت پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔ اس مہم سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا مشہور بسکٹ لو (LU) بھی ہے جسے کہ غلط فہمی کی بنا پر فرانسیسی برانڈ قرار دے کر رگڑا لگایا جا رہا ہے حالاںکہ یہ بسکٹ مکمل طور پر پاکستان میں تیار ہوتا ہے اور اس کی ملکیت ایک امریکی کمپنی کے پاس ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا پر عوام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم کا پرچار کرتے نظر آرہے ہیں۔ مگر کیا فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سے واقعی فرانس کو اقتصادی طور پر کچھ فرق پڑ رہا ہے؟ اس بارے میں انجمن تاجران پاکستان کے جنرل سیکرٹری نعیم میر کا کہنا تھا کہ تاجروں کی جانب سے فرانسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے لیکن اس میں یہ بات بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم ان جانے اور لاعلمی میں کسی کے ساتھ زیادتی نہ کر دیں۔‘ یہی وجہ ہے کہ انجمن تاجران اس بات کا بھی تعین کر رہی ہے کہ کون سے برانڈ فرانسیسی ہیں اور کون سے ایسے برانڈز ہیں جو پاکستانی ہیں اور جن کے بائیکاٹ سے کہیں پاکستان ہی کو نقصان نہ ہو جائے۔ حال ہی میں شروع ہونے والے بائیکاٹ سے فرانسیسی کمپنیوں میں شمار ہونے والا بسکٹ بنانے والا برانڈ ‘لو’ بھی اس سے بڑی طرح متاثر ہو رہا ہے جسے کہ فرانس کی پروڈکٹ قرار دیے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے پیمانے ہر بائیکاٹ کا سامنا ہے۔
فرانسیسی صدر میکخواں کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز خاکوں اور فرانسیسی سیکیولر ازم کے دفاع کے تناظر میں پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آ رہا ہے اور فرانسیسی مصنوعات کی خرید و فروخت کے بائیکاٹ کی مہم میں پیش پیش دیکھائی دے رہے ہیں۔
پاکستان کے سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی روز سے ’فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ‘ کرنے کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ صارفین کی جانب سے مختلف برانڈز اور مصنوعات کی تصویریں پوسٹ کر کے کہا جا رہا ہے کہ ’ان مصنوعات کا تعلق فرانس سے ہے اس لیے انھیں استعمال نہ کیا جائے۔‘ اویس بلوچ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’حقیقی بائیکاٹ کا آغاز ہو گیا ہے اور کراچی کے ایک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور نے تمام فرانسیسی مصنوعات کی کی سیل بند کر دی ہے۔‘ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’دنیا کی تقریباً 28 فیصد آبادی مسلم ہے اور دنیا میں تقریباً 80 ٹریلین ڈالرز کا جی ڈی پی بنتا ہے، اگر تمام مسلمان فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیں تو وہ چھ ماہ میں ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔‘
لیکن سچ تو یہ ہے کہ پوسٹ کی جانے والی مصنوعات میں چند ایسی مصنوعات بھی شامل ہیں جن کے استعمال کو روکنے سے فرانس کو نہیں بلکہ پاکستانی کمپنیوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ اس بائیکاٹ کی زد میں آ کر نقصان اٹھانے والوں میں برانڈ ’لو بسکٹ‘ بھی شامل ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی یہ بات زیر بحث ہے کہ لو بسکٹ پاکستان کا ہے یا فرانسیسی۔ ایک صارف نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر گالا جو ’لو‘ کمپنی کا بسکٹ ہے، اس کی تصویر لگا کر لکھا کہ یہ تو میرے دیس کا بسکٹ نہیں تھا؟
لیکن پاکستان میں ‘لو’ بسکٹ بنانے والی کمپنی کانٹینینٹل بسکٹ لیمیٹیڈ کے ایم ڈی حسن علی خان کا کہنا ہے کہ لو بسکٹ کا فرانس سے کوئی تعلق نہیں اور یہ بسکٹس پاکستان میں تیار کیے جاتے ہیں اور انھیں کسی اور ملک سے درآمد نہیں کیا جاتا۔ ’یہ خالصتاً پاکستانی مصنوعات ہیں۔ ان بسکٹس میں استعمال ہونے والی گندم چینی، تیل اور دیگر خام مال کی ہر چیز پاکستان سے ہی خریدی جاتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’اس کمپنی میں کام کرنے والا ہر فرد، اس کی انتظامیہ اور مالک سب پاکستانی ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس 4500 لوگ ملازمت کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ کئی ہزار افراد کا روزگار ہم سے وابستہ ہے۔ جبکہ ان 4500 ملازمین کے علاوہ بھی بالواسطہ طور پر ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں۔ جن میں ڈسٹریبئوٹر، ٹرانسپورٹرز، خام مال فراہم کرنے والے افراد شامل ہیں جو اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔‘ انھوں نے اس بات کے خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ ’ہمیں یہ خوف بھی لاحق ہے کہ اس احتجاج اور بائیکاٹ کی وجہ سے کسی بھی قسم کا ردعمل آ سکتا ہے، ہم ایک آسان ہدف ہیں اور اس لیے اس وقت ہمارے نزدیک اپنے ملازمین، سیلز پرسن اور ڈسٹری بیوٹرز کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔‘
یاد رہے کہ آج سے چند عرصہ قبل تک ’لو‘ برانڈ فرانسیسی ٹریڈ مارک ضرور تھا لیکن 2007 میں ایک امریکی کمپنی کرافٹ فوڈز نے اس وقت تقریباً 7.8 بلین ڈالر میں اسے فرانس سے خرید لیا تھا۔ 2012 میں کرافٹ فوڈ نے اپنی کمپنی کو دو حصوں میں الگ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک نئی کمپنی تشکیل دی جس کا نام مونڈلیز انٹرنیشنل رکھا گیا۔ جو اس وقت بسکٹ اور چاکلیٹ کا تمام بین الاقوامی کاروبار سنبھالتے ہیں اور اب مونڈلیز انٹرنیشنل ہی ’لو‘ برانڈ کے بین الاقوامی سطح پر نئے مالک ہیں۔ مونڈلیز انٹرنیشنل ایک امریکی کمپنی ہے اور اس کا ہیڈکوٹر شکاگو میں ہے۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے سی بی ایل کے ایم ڈی حسن علی خان کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر معلومات عوامی دستاویز ہیں اور کوئی بھی ان کی تصدیق کر سکتا ہے کہ یہ فرانسیسی کمپنی نہیں ہے۔ ’اگر مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے والے افراد تھوڑی سی کوشش کر کے حقیقت کو تلاش کریں تو انھیں اندازہ ہو جائے گا کہ اس بائیکاٹ سے فرانس کو نہیں پلکہ پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button