15 روز بعد بھی کراچی واقعہ کی انکوائری رپورٹ کیوں نہیں آئی؟


کراچی میں مریم نواز شریف کے کمرے کا دروازہ توڑ کر ان کے شوہر کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنے کے واقعے کو دو ہفتے سے زائد گزر چکے لیکن نہ تو ابھی تک مریم اور صفدر سے تحقیقات کرنے والوں نے ان کا موقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی ابتدائی رپورٹ سامنے آئی ہے حالانکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ انکوائری دس روز میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ دوسری طرف اپوزیشن حلقوں کا یہ مطالبہ زور پکڑ گیا ہے کہ کراچی واقعے کی تحقیقات کو فوری طور پر مکمل کیا جائے اور جن لوگوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ان کا نام بلا تفریق سامنے لایا جائے۔
کراچی میں مریم صفدر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے دو ہفتے بعد اب لندن میں مقیم مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی سندھ کے اغوا کے واقعے کی انکوائری کے نتائج ابھی تک سامنے نہیں آ سکے۔ ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ کے اغوا اور مریم نواز شریف کے کمرے کا دروازہ توڑنے کے واقعے کی انکوائری کے نتائج جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی یقین دہانی کے باوجود اب تک قوم کے سامنے نہیں آسکے۔ کیا قوم کو اس تاخیر کی وجہ جاننے کا حق ہے؟ یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ تو نہیں کہ اس پر چند گھنٹوں سے زیادہ وقت درکار ہوتا۔
دوسری طرف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اس واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ہفتے سے زائد ہونے کو آئے لیکن آئی جی سندھ کے اغواء اور مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑ کر ان کے شوہر کو گرفتار کرنے کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آسکی جس سے نون لیگ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ نہ صرف آئین اور قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف تھا بلکہ اس میں چادر وچاردیواری کی حرمت کو بھی پامال کیا گیا۔
نون لیگ کی حلقوں کا خیال ہے کہ انکوائری رپورٹ تیار کرنے میں تاخیر کا بنیادی مقصد اس معاملے پر مٹی ڈالنا ہے۔ ان کا یہ بھی موقف ہے کہ اگر ایسی کوئی تحقیقات ہو رہی ہیں تو اس میں بنیادی طور پر مریم نواز اور کیپٹن صفدر کا بیان لیا جانا بہت ضروری تھا لیکن دو ہفتے گزر جانے کے باوجود ابھی تک ان دونوں سے اس حوالے سے کسی نے بھی کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس سارے معاملے میں مرکزی کردار آئی ایس آئی کراچی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر حبیب کا ہے جن کی جانب سے آئی جی مشتاق مہر پر 18 اکتوبر کی شام سے ہی کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ تاہم جب آئی جی نے پنجاب سے آئے ہوئے مہمان کو سندھ میں آدھی رات کو گرفتار کرنے سے معذوری کا اظہار کیا تو پھر 18 اور 19 اکتوبر کی رات کے پچھلے پہر 3 بجے کے قریب مشتاق مہر کی سرکاری رہائش گاہ پر رینجرز کا ایک خصوصی دستہ بھجوایا گیا جس نے آئی جی کو اپنی تحویل میں لے کر زبردستی سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کے کراچی دفتر پہنچا دیا جہاں ایڈیشنل آئی جی سندھ بھی پہلے ہی پہنچائے جا چکے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر حبیب نے آئی جی مشتاق مہر کو کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے احکامات جاری کرنے پر مجبور کیا کیا حالانکہ ان کا اصرار تھا کہ رات کے اس پہر ایسی کارروائی کا کوئی جواز نہیں کیونکہ مزار قائد کی بے حرمتی کا جرم قابل ضمانت ہے لیکن جواب میں انکو بتایا گیا کہ ایف آئی آر میں ایک شخص کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی دفعات بھی موجود ہیں جو کہ ناقابل ضمانت جرم ہے لہٰذا ان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ اس دوران آئی جی کے ساتھ بدزبانی بھی کی گئی اور ان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں جس کے بعد کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا معاملہ ایک انٹیلی جنس آپریشن تھا جس کا بنیادی مقصد پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی مرکزی قیادت کے مابین خلیج پیدا کرنا تھا۔ اس سارے معاملے میں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری کا کردار بھی نمایاں ہے جنہوں نے پہلے آئی جی سندھ مشتاق مہر کو اپنے ایک خصوصی دستے کے ذریعہ تحویل میں لیا اور پھر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے لیے کراچی کے فائیو سٹار ہوٹل کا گھیراؤ بھی کروایا۔ بعد ازاں گرفتاری کے لیے پولیس ٹیم کو بھی رینجرز کے دستے کی نگرانی میں ہوٹل بھجوایا گیا اور اس حوالے سے تمام احکامات ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے جاری کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید دونوں سے کیا تھا۔ لیکن آرمی چیف نے تحقیقات کی ذمہ داری کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز کو اس لیے سونپی کہ بنیادی طور پر آئی جی سندھ کو اغوا کرنے اور کیپٹن صفدر کو گرفتار کروانے کا الزام آئی ایس آئی کراچی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر حبیب پر لگایا جا رہا ہے۔ لہذا آرمی چیف کا یہ موقف تھا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ایک غیر جانبدار شخص کو تحقیقات کی ذمہ داری دی جائے۔
دوسری طرف نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے حلقے یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ آئی جی سندھ کے اغوا اور کیپٹن صفدر کی گرفتاری میں وزیراعظم عمران خان کا مرکزی کردار ہے اور باقی سب صرف استعمال ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا بنیادی مقصد اپوزیشن اتحاد میں دراڑیں ڈالنا تھا اور ایسا کرتے ہوئے عمران خان نے اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنایا جو انہوں نے چند روز پہلے ایک تقریر میں منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپوزیشن کو دی تھی۔
اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ انوائری دس روز میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا لیکن دو ہفتے گزرنے کے باوجود اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہونا ان خدشات کو تقویت دیتا ہے کراچی واقعے پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لہذا اپوزیشن حلقوں کے اس مطالبے میں شدت آگئی ہے کہ واقعے کے ذمہ داران کا نام سامنے لا کر ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے نہ کہ بڑی مچھلیوں کو بچانے کی کوشش کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button