فراڈ کرنے والے سرکاری عہدیداروں کو برطرفی کی سزا دینی چاہیئے

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عہدیداروں کی جانب سے دیگر افراد کو فنڈز یا املاک کی فراہمی یا خود حاصل کرنا فراڈ ہے اور جو سرکاری اراضی یا پیسے میں یہ فراڈ یا غبن کررہے ہوں ان کے خلاف ڈسپلنری کارروائی میں نرمی یا انہیں ملازمت جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
چیف جسٹس گلزار احمد کے لکھے حکم نامے میں کہا گیا کہ لہٰذا ایسے سرکاری ملازمین کو ریاستی اراضی کے غبن میں ملوث ہوں ان کو ملازمت سے کچھ سالوں کی چھٹی کے بجائے برطرفی کی سزا دینی چاہیئے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ لاہور کے سروس ٹریبونل کے 3 مارچ 2017 کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ درخواست پر فیصلہ سنایا۔ مذکورہ اپیل فیصل آباد ڈویژن کے کمشنر نے اللہ بخش نامی شخص کے خلاف دائر کی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب فریق نے بذات خود جرم کرنے کا اعتراف کیا تھا کہ اس نے ضلع جھنگ کی چک 492/جے بی میں 270 کنال کی سرکاری اراضی منتقل کی جس سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا، فریق کا یہ فعل محض غفلت قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ بد انتظامی ہے اس قانون کے تحت اس پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ عائد کیا جانا چاہیئے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چوہدری فیصل حسین نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم نے بذات خود جرم کا اقرار کیا ہے لیکن پنجاب سروس ٹریبونل نے قرار دیا کہ فریق اللہ بخش کی جانب سے ایک شخص کے حق میں سرکاری زمین کی حیثیت میں تبدیلی غلط کام نہیں کیوں کہ اس سے حکومت کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ چنانچہ کہا گیا کہ محکمے کی جانب سے سنائی گئی ملازمت سے برطرفی کی سزا جرم کی سنگینی سے مطابقت نہیں رکھتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button