فلم میں بولڈ کردار نے شرمیلا ٹیگور کی نیندیں کیسے اڑائیں؟

بالی ووڈ سٹار شرمیلا ٹیگور نے 1966 میں فلم میں وہ کردار کر کے دکھایا تھا جس کو ادا کرتے وقت ہیروئنز سینکڑوں مرتبہ سوچتی ہیں، جی ہاں، اداکارہ نے فلم ’’این ایوننگ ان پیرس’’ میں مختصر لباس کے ساتھ سینز عکسبند کرائے جس کے پوسٹرز شہر بھر میں نمایاں تھے۔
فلم میں کردار ادا کرنے اور پوسٹرز کی بھرمار کے بعد شرمیلا ٹیگور کو اپنے ہونے والے شوہر نواب منصور علی خان کی ناراضگی کا خیال ستانے لگا لیکن اداکارہ نے انہیں فون پر ساری صورتحال بتا کر اعتماد میں لیا تو کچھ دن بعد ساس کے آنے کی خبر نے اداکارہ پر کپکپی طاری کر دی۔
شرمیلا ٹیگور کو بتایا گیا تھا کہ نواب بیگم آف بھوپال ساجدہ سلطان علی خان پٹودی بمبئی آنے والی ہیں۔ نواب بیگم شرمیلا ٹیگور کی بہت جلد ساس بننے والی تھیں اور ان کی بمبئی آمد کی خبر نے جیسے شرمیلا کی روح کو کپکپا دیا تھا، جبھی انہوں نے بہت سوچ بچار کر اپنے ڈرائیور کو فوری طور پر طلب کرلیا۔
شرمیلا ٹیگور کو ان دنوں بے صبری سے انتظار تھا کہ ان کی نئی فلم ’این ایوننگ اِن پیرس‘ کا، جس کی نمائش سے پہلے ہی اس مووی کا چرچا تھا۔ ہدایت کار شکتی سمانتھ کی اس تخلیق میں شرمیلا ٹیگور کا ہیجان خیز اور ہوشربا انداز تھا۔
بالخصوص ایسے میں ہر ایک کی دلچسپی اور بڑھ گئی جب انہوں نے فلم فیئر میگزین کے سرورق پر ان کی ایسی تصویر شائع کی، جس نے فلم نگری میں آگ بھڑکا دی۔ اس کے بعد فلم کی عکس بندی سے جو تصاویر مختلف اخبارات اور فلمی جرائد کی زینت بنیں اس میں بخوبی دیکھا جا سکتا تھا کہ شرمیلا ٹیگور سوئمنگ کاسٹیوم میں ہیں۔
یہ 1966 میں کسی بھی ہیروئن کا بہت بڑا بولڈ قدم تھا۔ ایسی جرات کرنے کا کسی اور دوسری ہیروئن میں دم نہیں تھا، لیکن شرمیلا ٹیگور نے تمام تر حدوں کو پار کرکے وہ سب کچھ کردیا جس کا تصور ہی محال تھا۔
ان دنوں شرمیلا ٹیگور کی شامیں نواب منصور علی خان پٹودی کے ساتھ بیت رہی تھیں اور دونوں بہت جلد زندگی کا سفر اکٹھا شروع کرنے والے تھے، جس میں خاندان کی باہمی رضا مندی بھی شامل تھی۔ شرمیلا ٹیگور کو ایک خوف یہ بھی تھا کہ ’این ایوننگ ان پیرس‘ کی بے باکی سے بھرپور ان کی تصاویر کو دیکھ کر نواب منصور علی خان پٹودی خفا نہ ہو جائیں۔
شرمیلا ٹیگور بھی تذبذب سے دوچار تھیں جبھی انہوں نے نواب منصور علی خان کو تار کے ذریعے بتایا کہ انہوں نے فلم میں کچھ عامیانہ لباس زیب تن کیے ہیں، کہیں انہیں اعتراض تو نہیں ہو گا؟شرمیلا ٹیگور کا خیال تھا کہ ٹائیگرپٹودی کا غصے سے بھرا ٹیلی فون آئے گا اور ممکن ہے کہ ان کی شادی بھی نہ ہو پائے لیکن شرمیلا ٹیگور کے تمام تر خدشات اور تحفظات اس وقت پانی کے بلبلے کی طرح بیٹھ گئے جب نواب منصور علی نے جوابی ٹیلی گرام میں کہا کہ شرمیلا ٹیگور ان مختصر سے ملبوسات میں قیامت ڈھا رہی ہیں۔
شرمیلا ٹیگور نے سکھ اور چین کا ایک لمبا سانس لیا۔ انہیں خوشی اس بات کی ہوئی کہ نواب منصور علی خان نے تنگ نظری کے بجائے کشادہ ذہنیت کا مظاہرہ کیا۔شرمیلا ٹیگور کو کیا معلوم تھا کہ ایک نئی پریشانی ان کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہے۔ آنے والے دنوں میں انہیں اطلاع دی گئی کہ ٹائیگرپٹودی کی والدہ اور نواب بیگم آف بھوپال ساجدہ سلطان علی خان پٹودی بمبئی کا رخ کرنے والی ہیں۔
شرمیلا ٹیگور ایک مرتبہ پھر ہلکان ہونے لگیں۔شرمیلا ٹیگور کو یہی خوف تھا کہ اگر اس فلم کے پوسٹرز پر ساس صاحبہ کی نظر پڑ گئی تو زندگی کس قدر کٹھن اور دشوار ہو جائے گی۔ شرمیلا ٹیگور اس وقت بمبئی کے کارمائیکل روڈ پر رہتی تھیں جس کے آس پاس ان کی بہت جلد آنے والی ’این ایوننگ ان پیرس‘ کے ہوشربا انداز کے پوسٹرز بھی سجے تھے۔
ڈرائیور کو حکم دیا گیا کہ گھر کے اطراف میں جتنے بھی پوسٹر لگے ہیں ان کا ہر صورت میں صفایا کیا جائے، چند گھنٹوں بعد ڈرائیور نے بتادیا کہ ان کے فرمان کے مطابق کام کر دیا گیا ہے تب جا کر انہوں نے نیند کی وادی میں کھونے کا فیصلہ کیا۔
اگلے دن نواب بیگم آئیں تو شرمیلا ٹیگور نے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ شادی کے بعد شرمیلا ٹیگور کی یہ فلم ساس نے بھی دیکھی لیکن انہیں اس فلم کے کسی بھی منظر پر کوئی اعتراض نہیں ہوا۔
