فنڈنگ کیس میں 3 نوٹسز کے بعد عمران کی گرفتاری کا فیصلہ

باخبر حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر سابق وزیراعظم عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ تعاون نہ کیا اور ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہ ہوئے تو ایسی صورت میں انہیں گرفتار کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ باقی نہیں بچے گا، بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو اب تک دو نوٹس جاری ہو چکے ہیں اور اگر وہ تیسرا اور آخری نوٹس ملنے کے بعد بھی ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کے سامنے پیش نہ ہوئے تو قانون کے مطابق انہیں گرفتار کرنا ہوگا تاکہ تفتیش کی جا سکے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کی رٹ قائم کرنے کے لیے عمران کی گرفتاری کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر ہر صورت عملدر آمد کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے پارٹی فنڈز اور اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کی خاطر عمران کو گرفتار کرنے کے لیے عدالت سے اجازت لے گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو تین نوٹسز بھیجے جانے کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ایف آئی اے نے 19 اگست کو عمران خان کو دوسرا نوٹس جاری کر دیا تھا، عمران کو پہلا نوٹس 17 اگست کو موصول ہوا تھا لیکن انہوں نے پارٹی فنڈز اور اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے صاف انکار کر دیا تھا، روزنامہ جنگ سے وابستہ سینئر صحافی شکیل انجم کے مطابق ایف آئی اے ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پی ٹی آئی کی مزید 5 کمپنیوں کا سراغ لگالیا گیا ہے جن کا الیکشن کمیشن آف پاکستان اور ایف بی آر کو جمع کرائی گئی رپورٹس میں ذکر نہیں تھا اور انہیں خفیہ رکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کمپنیاں امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ اور بیلجیم میں کام کر رہی ہیں، ایف آئی اے نے ان کمپنیوں کی آڈٹ رپورٹس اکٹھی کر لی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ جب ایف آئی اے کے بینکنگ سرکل نے پی ٹی آئی سے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا تو انہوں نے وکیل کے ذریعے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ تو ایف آئی اے کو جوابدہ ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی اداراہ اپنے بینک اکاؤنٹس کی معلومات دینے پر مجبور کر سکتا ہے لیکن دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے نے عمران کا موقف مسترد کر دیا ہے اور 20 سوالات پر مشتمل نوٹس دوبارہ بھیج دیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کیا عمران کو تین دفعہ نوٹسز جاری کرنے کے بعد قانون کے مطابق انکی گرفتاری کے وارنٹس جاری کئے جائیں گے۔

یاد رہے کہ یہ تحقیقات الیکشن کمیشن کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد شروع کی گئی ہیں، الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف پر بیرونِ ملک سے ممنوعہ فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیوں نہ یہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں اس کے علاوہ یہ معاملہ وفاقی حکومت کو بھیج دیا گیا تھا جس نے ایف آئی اے کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تحریکِ انصاف نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے کمیشن کے سامنے صرف آٹھ اکاؤنٹس کی ملکیت کو تسلیم کیا ہے جبکہ اس نے 13 اکاؤنٹس کو نامعلوم قرار دیتے ہوئے اظہارِ لاتعلقی کیا، کمیشن کے مطابق سٹیٹ بینک سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق پی ٹی آئی نے جن اکاؤنٹس سے لاتعلقی کا اظہار کیا وہ پی ٹی آئی کی سینئر صوبائی اور مرکزی قیادت اور عہدیداروں نے کھولے اور چلائے تھے۔ یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے سینئر پارٹی قیادت کے زیرِ انتظام تین مزید اکاؤنٹس کو چھپایا۔

کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے ان 16 بینک اکاؤنٹس کو چھپانا آئین کی شق 17 (3) کی خلاف ورزی ہے، فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کے سربراہ نے 2008 سے 2013 تک کے لیے جو فارم ون جمع کروایا تھا، وہ کمیشن کی جانب سے سٹیٹ بینک سے حاصل کردہ ڈیٹا اور دیگر ریکارڈ کی بنا پر بے انتہا غلطیوں کا حامل ہے، چنانچہ الیکشن کمیشن پارٹی کو نوٹس جاری کر رہا ہے کہ کیوں نہ یہ ممنوعہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔

Back to top button