فوجی بوٹ اتنا مضبوط کیوں ہوتا ہے اور کہاں سے آتا ہے؟

https://www.youtube.com/watch?v=21RRzJ8oHJI&t=1s
پاکستانی سیاست اور ریاست کا جزو لازم ہونے کی وجہ سے بوٹ پاکستانیوں کے لیے ایک استعارہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ تاہم سیاستدانوں اور حکومتوں کو اپنی نوک پر رکھنے والا یہ درپردہ بوٹ گزشتہ دنوں تب کھل کر منظر عام پر آ گیا جب ایک ٹی وی ٹاک شو میں بڑبولے فیصل واوڈا نے اچانک ایک کالے رنگ کا فوجی بوٹ میز پر رکھ دیااور ہر طرف آگ لگا دی۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے وفاقی وزیر یہ فوجی بوٹ کہاں سے لیکر آئے؟
ذرائع کے مطابق اس طرح کے فوجی بوٹ راولپنڈی کے ریلوے روڈ پر واقع کباڑی بازار میں فوجی ساز و سامان کی دکانوں پر باآسانی دستیاب ہیں۔ ان دکانوں پر فوجی بوٹوں کے علاوہ دوسرا فوجی سامان بھی بکتا ہے۔ دکانداروں کے مطابق یہ بوٹ فوجیوں کے علاوہ سویلین بھی خریدتے ہیں اور اکثر لوگ انہیں بارشوں میں یا پہاڑی علاقوں کے سفر کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ فوجی بوٹ بہت مضبوط اور بھاری ہوتے ہیں اور ان کی گرفت بھی بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ فوجی بوٹ میں دو قسم کا چمڑا استعمال کیا جاتا ہے۔ پورا بوٹ سیلف پرنٹ والے کھردرے چمڑے سے بنایا جاتا ہے جب کہ بوٹ کے آگے والے حصے پر چمک دار اور ملائم چمڑے کا ٹکڑا لگایا جاتا ہے، جو پالش ہونے کے بعد جگمگانے لگتا ہے۔
فوجی بوٹ دوسرے عام بوٹوں کے برعکس تقریباً آدھی پنڈلی تک پہنچ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فوجی بوٹوں میں تسمہ بھی بڑے سائز کا استعمال کیا جاتا ہے اور تسمہ ڈالنے کےلیے اس میں ایک درجن سے زیادہ سوراخ ہوتے ہیں۔ مارکیٹ میں دو قسموں کے فوجی بوٹ دستیاب ہیں۔ ایک وہ ہیں جو سیاہ رنگ میں آتے ہیں اور ڈیزائن اور رنگ کے لحاظ سے بالکل فوجی بوٹ ہی ہوتے ہیں۔ یہ فوجی بوٹ پاکستان میں تیار کیے جاتے ہیں اور ان کے کارخانے کراچی میں بڑی تعداد میں موجود ہیں جب کہ یہ لاہور اور راولپنڈی میں بھی بنتے ہیں۔
فوجی بوٹوں کی دوسری قسم بیرونی ممالک، خاص کر چین سے درآمد کی جاتی ہے۔ یہ اکثر بھورے رنگ کے مختلف شیڈز میں آتے ہیں جو اکثر سابر چمڑے سے بنے ہوتے ہیں۔ امپورٹڈ فوجی بوٹوں میں کالے رنگ کے فوجی بوٹ بہت کم ہوتے ہیں۔ سابر چمڑے کے علاوہ پیرا شوٹ کپڑے سے بنے فوجی بوٹ بھی بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔
راولپنڈی کے کباڑی بازار میں نئے فوجی بوٹوں کے علاوہ پرانے فوجی بوٹ بھی دستیاب ہیں۔ پرانے فوجی بوٹ کباڑی بازار پہنچتے ہی سب سے پہلے موچی کو دیے جاتے ہیں جو ان کی مرمت کرتا ہے اور پالش کرکے انہیں خوب چمکاتا ہے، اور خصوصاً بوٹ کے آگے والے حصے کو رگڑ رگڑ کر ملتا ہے۔ مرمت اور پالش سے پرانے فوجی بوٹ بالکل نئے لگنے لگتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اصولا فوجی بوٹوں کا یہ کاروبار مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور کوئی بھی فوجی کسی بھی قانون کے تحت اپنے پرانے یا نئے بوٹ بازار میں فروخت نہیں کر سکتا۔ تاہم اعتراض کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس بوٹ کو پاکستان میں ہر جائز ناجائز کام کرنے کی آزادی ہے، اس کے لیے ملک میں کوئی قانون موجود نہیں اور اسی لیے یہ بوٹ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک آئین پاکستان کو روندتا چلا رہا ہے شاید اسلئے کہ آئین سازی بلڈی سویلینز کرتے ہیں جو غدار بھی ہوتے ہیں اور جیسا کہ فوجی ترجمان نے مشرف کیس میں سزائے موت کے فیصلے پر ارشاد فرمایا کہ کوئی فوجی کبھی غدار ہو ہی نہیں سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button