فوج عمران خان کو احسان فراموش کیوں سمجھتی ہے؟

2018 کے الیکشن میں عمران خان کو اقتدارمیں لانے والی اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے ناقد آج خود عمران خان ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے نیوٹرل ہو کر انکی حکومت گرنے دی۔ لیکن دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کو عمران سے اس بھی زیادہ گلے ہیں اور وہ سمجھتی ہے کہ وزیراعظم بنوائے جانے کے باوجود انہوں نے مسلسل احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا اور آج فوج کے دشمن بن چکے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ جاوید چوہدری اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ملک میں چھ ماہ سے یہ سوال زیر بحث ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان آخر ایشو کیا ہے؟‘‘ میں نے یہ سوال چار ماہ میں مختلف عسکری شخصیات کے سامنے رکھا اور انکے جوابات سے ایک تصویر بنائی جو آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ تصویر سو فیصد درست ہے یا جزوی یہ فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کر سکتا ہے اور میں یہ فیصلہ اسی پر چھوڑتا ہوں۔ تاہم وہ سیاسی حقائق جو میرے علم میں آئے وہ میں جوں کے توں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ سے چار شکوے ہیں‘ ان کا پہلا شکوہ 2018 کے الیکشن ہیں‘ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں 2018 میں دو تہائی اکثریت مل رہی تھی لیکن ہماری سیٹیں جان بوجھ کر کم کی گئیں تاکہ سندھ میں آصف علی زرداری‘ پنجاب میں ن لیگ اور وفاق میں ہمیں کم زور رکھا جا سکے چنانچہ میں کمزور مینڈیٹ کی وجہ سے کھل کر فیصلے نہ کر سکا۔ انکا دوسرا شکوہ یہ تھا کہ میں نمائشی وزیر اعظم تھا‘ فیصلے کوئی اور کرتا تھا اور بدنامی میری جھولی میں ڈال دی جاتی تھی چنانچہ میں ساڑھے تین سال کے تجربے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اختیار اسی کے پاس ہونا چاہیے جس کے پاس اقتدار ہو ملک اس بے اختیاری میں نہیں چل سکے گا۔ عمران خان آصف علی زرداری اور نواز شریف کا نام نہیں لیتے لیکن یہ مانتے ہیں کہ ان لوگوں کا اختیار کے معاملے میں بیانیہ درست تھا۔ خان صاحب کا تیسرا شکوہ یہ ہے کہ ان کی اپوزیشن کو اسٹیبلشمنٹ نے ان کے خلاف اکٹھا کیا‘ بفرض محال یہ لوگ اگر خود اکٹھے ہوئے تھے تو بھی اسٹیبلشمنٹ کو انکی حکومت ضرور بچانی چاہیے تھی لیکن وہ عین وقت پر نیوٹرل ہو گئے اور یوں ملک کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ انکا چوتھا شکوہ یہ ہے کہ میں ملک میں نئے الیکشن چاہتا ہوں لیکن یہ لوگ اس امپورٹڈ حکومت کو سپورٹ کر رہے ہیں۔
بقول جاوید چوہدری، یہ چار عمران خان کے بنیادی شکوے ہیں لیکن دوسرے فریق کا موقف یکسر مختلف ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی مانتے ہیں کہ نواز شریف نے انھیں زیادہ عزت دی تھی‘ تین بار ان کی حکومت گرائی گئی‘ انھیں جلاوطن بھی کیا گیا‘ تیسری مرتبہ ان کی بیٹی کو ان کے سامنے گرفتار کیا گیا اور مریم نواز کو جیل میں بھی رکھا گیا لیکن نواز شریف نے کبھی فوج کو میر جعفر اور میر صادق کا خطاب نہیں دیا‘ انھوں نے کبھی فوج کو نیوٹرل اور جانور ہونے کا طعنہ بھی نہیں دیا۔ ان کی بری سے بری تقریر بھی گجرانوالہ کی تقریر تھی اور اس میں بھی وہ ہر بار جنرل باجوہ اور جنرل فیض کو صاحب کہہ کر مخاطب کرتے رہے جب کہ دوسری طرف ہزار احسانات کے باوجود فوج کو کیا کیا نہیں کہا جا رہا؟ نواز شریف کے دور حکومت میں پیدا ہونے والے ڈان لیکس تنازعے کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جب فوجی ترجمان نے اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ کے جواب میں ریجیکٹڈ کی ٹویٹ کر دی تھی اور حکومت کی رٹ تقریباً ختم ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود جب آرمی چیف نواز شریف سے ملے تو وزیراعظم نے صرف اتنا کہا ’’جنرل صاحب، فیصلے غصے میں نہ کیا کریں۔
جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ دوسری جانب عمران خان اور انکے ساتھی فوج کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہہ رہے۔اسٹیبلشمنٹ مانتی ہے ہمیں غلط فہمی تھی کہ عمران خان کے پاس ملکی مسائل کا حل موجود ہے‘ وہ 200 لوگ لے کر آئیں گے اور ملک بدل جائے گا۔ لیکن جب حکومت بنی تو دو تین ہفتوں ہی میں سب کی آنکھیں کھل گئیں‘ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ عمران حکومت کے شروع کے دنوں میں ہم وزیراعظم آفس گئے تو وہاں ایک نوجوان کو دیکھا‘ اس نے بالوں میں جیل لگایا ہوا تھا‘ ہونٹوں پر چیپ سٹک تھی اور چہرے پر میک اپ تھا‘ وہ وزیراعظم کے کمرے میں جاتا تھا اور باہر نکلتا تھا‘ ہم نے اسٹاف سے پوچھا‘ یہ کون ہے؟ ہمیں بتایا گیا ہے یہ ذلفی بخاری ہیں۔ ہمارے ایک کولیگ کے منہ سے حیرت سے نکل گیا ’’اف یہ ذلفی بخاری ہے‘‘۔ کابینہ کے پہلے اجلاس میں وزیراعظم نے تمام معاونین خصوصی اپنے سامنے بٹھا لیے اور وفاقی وزراء کو وڈیو کال پر لے لیا‘ وزراء دوسرے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے‘ وہ برا مان گئے اور انھوں نے اٹھنا شروع کر دیا‘چیف نے وزیر اعظم کو سمجھایا‘ سر آپ اپنے ساتھیوں کو عزت دیں۔
یہ ڈیکورم کے خلاف ہے لیکن وزیراعظم نے اس کے باوجود معاونین خصوصی کو اہمیت دی اور وزراء کو فاصلے پر رکھتے رہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاسوں میں شیریں مزاری کی موجودگی پر اعتراض تھا‘ ان کا کہنا تھا ان کا پورٹ فولیو ہیومین رائٹس ہے‘ وہ کسی بھی طرح اس کمیٹی میں فٹ نہیں ہوتیں لیکن انھیں اجلاس میں بھی بٹھایا جاتا اور وہ لمبی تقریریں بھی جھاڑتیں۔ سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کی خرابی میں بھی شیریں مزاری کی ٹویٹس کا بہت ہاتھ تھا‘ انھوں نے امریکی نائب صدر کے بارے میں بھی ٹویٹ کر دی جو بعدازاں غلط ثابت ہوئی۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ فوجی قیادت کے ساتھ اکثر گفتگو کے دوران سابق وزیر اعظم کا دعویٰ ہوتا تھا کہ ’’میں 22 سال سے سیاست کر رہا ہوں‘‘ لہٰذا ایک دن انھیں جواب دیا گیا کہ ’’سر ہم 70 سال سے سیاست کر رہے ہیں۔لہٰذا ہم اپنے تجربے کی بنیاد پر آپ کو بتا رہے ہیں کہ پارٹی اور ملک اس طرح نہیں چل سکتے‘‘۔ وزیراعظم نے ایک دن فوجی بڑوں کو بلا کر کہا ’’آپ اگر اپوزیشن کے 20 لوگوں کو اٹھا لیں تو سارے مسئلے ختم ہو جائیں گے‘‘۔ جواب دیا گیا ’’سر ہم انھیں کیسے اٹھا سکتے ہیں‘ ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں‘‘۔ اس پر وزیراعظم نے کہا ’’جنرل مشرف نے بھی تو انھیں اٹھا کر جیلوں میں پھینک دیا تھا‘‘۔ جواب دیا گیا ’’سر وہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے جب کہ ملک میں اس وقت جمہوریت ہے‘ ہم لیڈرز کو کیسے اٹھا سکتے ہیں؟‘‘ وزیراعظم کا حکم تھا ’’آپ بس اٹھا لیں‘‘۔ جواب دیا گیاکہ ’’سر آپ ہمیں لکھ کر آرڈر کر دیں ہم اٹھا لیتے ہیں‘‘۔ وزیراعظم نے کہا ’’لکھ کر کیسے دیا جا سکتا ہے؟‘‘۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ عمران خان نے میرے ساتھ ایک ملاقات میں دعویٰ کیا تھا کہ تحریک لبیک کے اکتوبر 2021 کے لانگ مارچ کے پیچھے نیوٹرلز تھے۔ عمران نے بطور وزیر اعظم اکتوبر کے آخری دنوں میں فوجی بڑوں کو کابینہ کے اجلاس میں طلب کر کے کہا تھا‘ کہ آپ چناب کے پُل پر سٹیٹ کی رٹ قائم کریں۔ اس پر آرمی چیف نے جواب دیا کہ سر فوج میں وائیٹ یا بلیک ہوتا ہے، گرے نہیں ہوتا۔ ہم نے اگر ایک بار آرڈر دے دیا توگولی چل جائے گی اور پہلے حملے میں پچاس لوگ مارے جائیں گے۔ آپ اگر پچاس لاشوں کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں تو آپ حکم دے دیں‘ ہم آئینی طور پر آپ کے حکم کے پابند ہیں۔ اس پر کابینہ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ وزیراعظم سمیت کوئی شخص نہیں بولا۔ ایک مشہور بزنس مین اور اسٹاک ٹائی کون آرمی چیف سے رابطے میں تھے‘ اس شام انھوں نے چیف کو فون کیا اور بتایا ایک معروف فلاحی ٹرسٹ سے وابستہ شخصیت کا ٹی ایل پی سے رابطہ ہے‘ وہ درمیان کا راستہ نکال سکتے ہیں، یوں بزنس ٹائی کون اس فلاحی ٹرسٹ سے وابستہ شخصیت کو لے کر آئے اور31 اکتوبر 2021 کی رات معاہدہ ہو گیا اور خطرہ ٹل گیا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے عمران کے دور میں سفارتی سطح پر پاکستان کو بہت نقصان پہنچا‘ وزیراعظم نے لندن کے تین دورے منسوخ کر دیے‘ ایک دورہ بہت اہم تھا‘ امریکی صدرکانفرنس میں لندن آ رہے تھے‘ عمران کی شرکت کے لیے ریاست نے بہت کام کیا لیکن وزیراعظم نے ایک دن قبل یہ دورہ بھی منسوخ کر دیا‘ وزیراعظم کے اسٹاف کا کہنا تھا‘ عمران کے صاحب زادے لندن میں رہتے ہیں‘ وہ ان سے ملنے اپنی سابق اہلیہ کے گھر نہیں جانا چاہتے لہٰذا یہ ہر بار دورہ منسوخ کر دیتے ہیں‘ اسی طرح وزیراعظم نے ترک صدر طیب اردگان کو سعودی ولی عہد کے بارے میں کہہ دیا… اور اردوان نے یہ بات ولی عہد محمد بن سلمان کو بتا دی اور یوں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات انتہائی خراب ہو گئے۔ آرمی چیف کو ایک بار پھر درمیان میں آنا پڑا‘ وہ مشترکہ مشقوں کی تقریب میں شرکت کے لیے سعودی عرب گئے‘ یہ چار دن کا دورہ تھا لیکن چیف نے اسے ایک دن کا کر دیا اور صرف ڈپٹی وزیردفاع شہزادہ خالدبن سلمان سے ملاقات کی اور اس میں بھی شکوہ کیا ’’آپ اگر ہمارے وزیراعظم کو پسند نہیں کریں گے تو ہمارے برادرانہ تعلقات کیسے آگے بڑھیں گے؟‘‘ شہزادہ خالد درمیان میں آئے اور یوں تعلقات بحال ہوئے‘ وزیراعظم کو دورے کے لیے سعودی عرب بلایا گیا لیکن اس بار خاتون اول کی سابق فیملی بھی ساتھ تھی اور اسٹاف کا زیادہ تر وقت وزیراعظم کی انٹری سے قبل خاور مانیکا کو ہوٹل سے نکالنے میں صرف ہوجاتا تھا‘ وہ اس مسئلے میں الجھے رہتے تھے کہ کہیں دونوں کا ٹاکرا نہ ہو جائے۔
