اسٹیبلشمنٹ کے لئے عمران کو کرش کرنا آسان کیوں نہیں؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا ہے کہ اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد عمران خان کو سیاسی طور پر کرش کرنے کا منصوبہ بھی تیار ہے لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اب زمانہ بدل چکا ہے اور ایسا کرنا اتنا آسان نہیں جتنا کہ سمجھا جا رہا ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ایاز میر کہتے ہیں کہ آخری معرکہ شروع ہے، لائنیں کھینچی جا چکی ہیں۔ ایک دوسرے کے مد مقابل کون ہیں، ہم سب جانتے ہیں۔ ایک طرف تمام پرانی جماعتیں ہیں جن کے پیچھے وہ قوتیں ہیں جنہیں ہم طاقتور اداروں کا نام دیتے ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی ہے جس کے خلاف ہر حربہ استعمال ہو رہا ہے تاکہ اسے معرکے سے نکالا جائے اور اقتدار میں بیٹھے افلاطونوں کا ٹولہ حکومت کی معیاد پوری کرے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان طاقتوروں کا بس چل نہیں رہا۔ گزرے زمانے ہوتے تو ایک عوامی لیڈر کو پکڑنا نسبتاً آسان ہوتا۔ شیخ مجیب الرحمن مشرقی پاکستان کے بے تاج بادشاہ تھے لیکن جب عوامی لیگ کے خلاف ایکشن شروع ہوا تو شیخ مجیب کو گرفتار کر لیا گیا۔ پھر انہیں مغربی پاکستان لایا گیا جہاں وہ 1971ء کی جنگ کے اختتام تک قید میں رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اقتدار سے ہٹائے گئے تو وہ مقبول ترین عوامی لیڈر تب بھی تھے۔ لیکن ان پر قتل کا مقدمہ بنانا گیا اور پھر انہیں اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پھانسی دینے تک پنجاب کی جیلوں میں رکھا گیا۔

تاہم ایاز میر کا کہنا ہے کہ اب زمانہ بہت تبدیل ہو چکا ہے اور اس زمانے کے اپنے تقاضے ہیں۔ اب وہ سب کرنا اتنا آسان نہیں رہا جتنا کہ جنرل ضیاالحق کے دور میں تھا۔ لہذا عمران خان کو کرش کرنے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانا اتنا آسان نہیں۔ اس دوران دونوں اطراف میں کشمکش جاری ہے اور آنے والے انتخابات تک اس کی شدت بڑھتی جائے گی۔ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں بھی انتخابات ہونے تھے لیکن یک جنبش قلم انہوں نے الیکشن منسوخ کر کے گیارہ برس تک ڈنڈے کے زور پر حکمرانی کی۔ مگر اب ایسا کرنا آسان نہیں۔ اگلے انتخابات تب ہی منسوخ ہو سکتے ہیں جب جمہوریت کا بستر گول کیا جائے۔ ماضی میں ایسا کرنا آسان ہوتا تھا جب ‘میرے عزیز ہم وطنو والا اعلان کر دیا جاتا تھا اور جمہوریت کا بستر گول ہو جاتا تھا۔ لیکن اب قباحتیں پیدا ہو چکی ہیں۔ باہر کی دنیا والے بھی ایسی حرکات کو آسانی سے تسلیم نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا کے آلات پاکستانی عوام کے ہاتھ آگئے ہیں۔ اب خبریں منٹوں سیکنڈوں میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہیں، فوٹو انٹرنیٹ پر چڑھ جاتے ہیں اور چیزیں وائرل ہو جاتی ہیں۔ سرکار کی طرف سے کوئی ارشاد آئے تو ایسے تبصرے لکھے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ انکا کہنا ہے کہ گزرے زمانوں میں مقدس گائے بھی ہوتی تھی اور بھینسیں بھی۔ اداروں پر تنقید تو کیا ان کا نام بھی نہیں لیا جا سکتا تھا۔

ایاز امیر کہتے ہیں کہ مگر اب زمانہ ایسا بدلا ہے کہ مقدس گائے اوربھینسوں کا بھرم بھی نہیں رہا۔ سب کے پردے چاک ہو چکے ہیں، اب نام لیے جاتے ہیں، آوازے کسے جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی والوں کا کمال ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے تقاضوں کو سمجھ گئے اوراس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سوشل میڈ یا پران کے لوگ چھائے ہوئے ہیں۔ مریم نواز نے بھی اپنی میڈیا ٹیم بنائی تھی لیکن پی ٹی آئی والوں کے سامنے وہ پرائمری کلاس کے طالب علم لگتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جلسے ہی دیکھ لیں کیا رنگ وبہار ہوتی ہے۔ جھنڈے ترانے لوگوں کا جوش و خروش۔ بچے کب جلسوں میں آتے تھے لیکن یہاں پورے کے پورے خاندان جلسوں میں حاضری دیتے ہیں۔ تواتر سے جھنڈے لہرائے جاتے ہیں اور نعرہ بازی میں خواتین و بچے برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اس کے مقابل میں دوسری جماعتوں کے جلسے دیکھ لیجئے۔ روٹین کی کارروائی ہوتی ہے رنگ و بہار کی تو بات ہی نہ کیجئے۔ ان جماعتوں کے پاس کہنے کو بھی کچھ نہیں۔ نون لیگ والے جب نواز شریف کی مدح سرائی کرتے ہیں تو آج کا نوجوان کیسے متاثر ہو گا۔ نون لیگ والے یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خاندانوں والی قیادت اور سیاست سے آج کا نو جوان بیزار ہو چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب شریف خاندان کا طوطی بولتا تھا۔ لیکن نون لیگ والوں کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ وہ زمانہ چلا گیا ہے۔ آج کا نو جوان پھرا ہوا ہے۔ ذہن کی زنجیریں توڑ رہا ہے۔ فضول کے بھرم کے پردے چاک کر رہا ہے۔ اس نوجوان نے مریم نواز یا حمزہ شہباز کی گاڑیوں کے پیچھے کیوں بھاگنا ہے؟

ایاز امیر کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا بھی یہی حال ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو بڑا لیڈر تھا۔ بے نظیربھٹو کوبھی بڑا لیڈر مانا جاتا تھا لیکن کیا آصف علی زرداری کو آج کا نوجوان لیڈر مانے گا؟ شہباز شریف اور آصف زرداری کو سونے کے رنگ سے پینٹ کر دیا جائے تو کیا انکی حقیقت بدل جائے گی؟ لہذا اکابرین ملت اس قوم پر کچھ رحم کیجئے۔ جو کھیل آپ کھیل رہے ہیں وہ بے سود ہے۔ نئے الیکشن کا راستہ رک نہیں سکتا۔ اس سال نہیں تو اگلے سال کے اختتام سے پہلے نئے الیکشن کرانے پڑیں گے۔ آج کے معرکے میں آنے والے وقت کا نمائندہ عمران ہے خان ہے اور اسے کوئی نہیں روک سکتا۔

Back to top button