فوج PDM حکومت کی عمران جتنی خدمت کیوں نہیں کر رہی؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ واقعی نیوٹرل ہو چکی ہے اور اسطرح اتحادی جماعتوں کی ”خدمت“ نہیں کررہی جیسے عمران کی ہوتی تھی اور اسکے لیے الیکشن نتائج بھی تبدیل کر دیے جاتے تھے۔ دوسری جانب عمران خان بھرپور سیاست کررہے ہیں ۔ وہ سادہ لوح عوام کو اپنا جھوٹا چورن بیچنے میں کامیاب ہیں لیکن حکومت اپنا سچ بھی عوام تک نہیں پہنچا پا رہی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ 16 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات پاکستانی تاریخ کے سب سے فضول، بلاجواز اور غیراخلاقی انتخابات تھے۔ اس معاملے میں کوئی فریق اخلاقی جواز کے اسلحہ سے لیس نہیں تھا۔ پہلی بات تو یہ کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے جو کام کیا، وہ انتہائی غیرجمہوری اور غیرپارلیمانی تھا۔ کیونکہ پی ٹی آئی کے تمام ممبران اسمبلی نے اسی طرح استعفے دیئے تھے جس طرح ڈی نوٹیفائی ہونے والے گیارہ ممبران نے دیئے تھے ۔ جس طرح عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے اسپیکر کے سامنے جاکر اپنے استعفوں کی تصدیق نہیں کی اور کئی ایک بدستور پارلیمنٹ لاجز میں رہ رہے ہیں اسی طرح ان ڈی نوٹیفائی ہونے والوں نے بھی اسپیکر کے پاس جاکر تصدیق نہیں کی تھی لیکن اسپیکر نے ان میں سے صرف گیارہ کے استعفے منظور کئے۔

اب سوال یہ ہے کہ کونسے ضابطے کے تحت گیارہ اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کئے گئے اور باقی کے نہیں ہوئے۔ یوں حکومتی اتحاد کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا۔ دوسری طرف ایسے عالم میں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں سیلاب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہیں، حکومت کی طرف سے ضمنی انتخابات کا ڈرامہ رچانا ان لوگوں کے ساتھ ظلم سے کم نہیں تھا۔ چونکہ اخلاقی جواز نہیں تھا اس لئے حکومتی اتحاد الیکشن کے بارے میں متذبذب رہا۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ مریم نواز وغیرہ نے انتخابی مہم میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ ضمنی الیکشن کرانے کا فیصلہ بھی حکومت نے کیا تھا لیکن جب 16 اکتوبر قریب آئی تو الیکشن سے چند روز قبل وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن میں انتخابات ملتوی کرانے کے لئے درخواست دی جبکہ دوسری طرف حکومتی اتحاد میں شامل اے این پی کے ایمل ولی خان نے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں رٹ دائر کردی ۔ اسی طرح ایک ہفتہ قبل تک اے این پی اور جے یو آئی گورنر کے مسئلے پر آپس میں حالت جنگ میں تھیں لیکن اچانک بارگیننگ کرکے اے این پی نے گورنر شپ جے یوآئی کے سپرد کردی۔ اب آ جائیے دوسرے فریق یعنی عمران خان کی طرف۔ تماشہ یہ ہے کہ انہوں نے اسمبلی سے استعفے دے دیئے ہیں لیکن اپنے ممبران پر اعتبار نہیں یا پھر اسمبلی میں واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس لئے معاملہ مکانے کے لئے عدالتی وضاحت کے باوجود اسپیکر کے پاس جاکر اپنے استعفوں کی تصدیق نہیں کررہے اور نہ استعفے واپس لے رہے ہیں اور نہ اسمبلی میں جارہے ہیں۔ پھر جن ارکان کے استعفے منظور ہوئے تھے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ ان کے استعفے غلط طور پر منظور کئے گئے ہیں لیکن جب عدالت نے ان سے کہا کہ کیا وہ اسمبلی میں واپس جاکر بیٹھنے اور اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کرنے کی گارنٹی دیتے ہیں تو عمران خان نے انہیں اس گارنٹی کی اجازت نہیں دی۔ اسی طرح عمران خان نیازی کی سیاست کا ہدف اسمبلی کی تحلیل اور جلدازجلد انتخابات ہیں، جس کے لئے وہ اسلام آباد مارچ کے ذریعے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنےکا رِسک لے رہے ہیں۔

لیکن سلیم صافی کے بقول یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ وہ اگر پختونخوا اور پنجاب کی اسمبلیاں تحلیل کردیں اور قومی اسمبلی سے استعفوں کی تصدیق کرادیں تو حکومت کے پاس نئے انتخابات کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ لیکن عمران خان اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی سیٹوں کی غیر مضر قربانی دینے کی بجائے دوسرا خطرناک راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اسی طرح شاید یہ دنیا کی پارلیمانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ پہلے سے رکن قومی اسمبلی اور اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر عمران خان اسمبلی میں نہیں جارہے۔ انہوں نے استعفیٰ دیا ہے لیکن اس کی تصدیق کے لئےا سپیکر کے پاس نہیں جارہے۔ پھر یہ تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک شخص اسمبلی کا ممبر ہے لیکن دوبارہ اسمبلی کا ممبر بننے کے لئے انتخاب لڑرہا تھا اور وہ بھی ایک نہیں بلکہ نصف درجن حلقوں سے۔ انتخاب لڑتے ہوئے امیدوار لوگوں سے کہتا ہے کہ میں اسمبلی میں جاکر یہ یہ کام کروں گا لیکن عمران خان یہ کہہ کر لوگوں سے ووٹ مانگ رہے تھے کہ میں اسمبلی نہیں جائوں گا۔ اب کسی ووٹر نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ جب آپ نے اسمبلی ہی نہیں جانا تو پھر ووٹ کیوں مانگ رہے ہیں۔ ایک طرف خان صاحب کہتے ہیں کہ وہ موروثی سیاست کے مخالف ہیں لیکن دوسری طرف شاہ محمود قریشی، جو پہلے سے ایم این اے ہیں اور ان کا بیٹا ممبر صوبائی اسمبلی ہے، انکی بیٹی کو ٹکٹ دیا گیا، لیکن دوسری طرف برسوں سے اپنے حلقوں میں الیکشن لڑنے والوں کی جگہ وہ خود کھڑے ہوئے۔

سلیم صافی کے بقول جہاں تک الیکشن نتائج کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ ان انتخابات میں لوگوں نے عمران خان سے محبت کا اظہار کم کیا ہے لیکن حکومتی اتحاد پر غصہ زیادہ نکالا ہے۔ لوگوں میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ مقبول ہوتا ہے اور جو جماعتیں گزشتہ کئی سال سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کر کے عمران خان کو کٹھ پتلی کہا کرتی تھیں، لوگوں کی نظروں میں اب وہ اسٹیبلشمنٹ کی ہمنوا نظر آئیں۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوگئی ہے اور اسطرح اتحادی جماعتوں کی ”خدمت“ نہیں کررہی جیسے وہ عمران کی کیا کرتی تھی۔ دوسری جانب عمران خان بھرپور سیاست کررہے ہیں ۔ وہ سادہ لوح عوام کو اپنا جھوٹا چورن بیچنے میں کامیاب ہیں لیکن حکومت اپنا سچ بھی عوام تک نہیں پہنچا پا رہی۔ معیشت کے سلسلے میں جو بارودی سرنگیں سابق حکومت نے بچھائی تھیں، وہ بھی یہ لوگ عوام کو نہیں سمجھا سکے اور لوگ ناقابل برداشت مہنگائی کا ذمہ دار موجودہ حکمرانوں کو سمجھنے لگے ہیں۔ لیکن تماشہ یہ ہے کہ قوم کے بے تحاشہ وسائل ضائع کرنے اور الیکشن جیتنے کے بعد بھی عمران خان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی دو نشستیں کم جبکہ شہباز شریف کی دو بڑھ گئیں۔ ایک فائدہ بہر حال یہ ہوا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی غیرجانبداری ثابت کردی اور پی ٹی آئی نے اسے گالیاں دینے میں ایک دن کا وقفہ کردیا۔

Back to top button