پی ٹی آئی کا صدرعلوی کے ذریعے بیک ڈور مذاکرات کا اعتراف


ایک جانب عمران خان روزانہ حکومت کو لانگ مارچ کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو دوسری جانب تحریک انصاف نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے صدر عارف علوی کچھ اہم معاملات پر حکومت کے ساتھ بیک ڈور خفیہ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی چیئرمین عمران خان دارالحکومت کی جانب ’فیصلہ کن مارچ‘ کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے مذاکرات کی نوعیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بتایا ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے حکومت سے مذاکرات ہو رہے ہیں اور یہ صدر علوی کر رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں واپس لانے کے لیے فیس سیونگ فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان یہ بھی چاہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تقرری پر ان سے بھی مشاورت کی جائے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس قسم کی مشاورت کی کوئی آئینی گنجائش موجود نہیں لہذا اس معاملے پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔میڈیا میں یہ خبریں پہلے ہی گرم ہیں کہ صدر عارف علوی موجودہ سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے بیک ڈور رابطے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اگر حکومت قبل از وقت الیکشن کرانے پر راضی ہوتی ہے تو پی ٹی آئی باضابطہ بات چیت کے لیے تیار ہے، اگر وہ اس پر آمادہ ہیں تو ہم ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں‘۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کے انتخابات کے بارے میں بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ’میرے خیال میں حکمران جماعت کے رہنما اس معاملے میں ایک پیج پر نہیں ہیں، احسن اقبال کہہ رہے ہیں کہ الیکشن 6 سے 8 ماہ میں ہوں گے جبکہ رانا ثنا اللہ کچھ اور کہہ رہے ہیں‘۔ ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اکتوبر میں ہی ہوگا۔ ان کا یہ بیان ان کی پارٹی کے سربراہ عمران خان کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لانگ مارچ اکتوبر سے آگے ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ ملک کو تباہی کی طرف لے کر جائیں گے لیکن الیکشن کا اعلان نہیں کریں گے اس لیے میں ان کو ایک مرتبہ پھر وقت دے رہا ہوں، لیکن مارچ اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اب سے لے کر اکتوبر میں کسی بھی وقت میں اعلان کر دوں گا، ان کو وقت دے رہا ہوں کہ ملک کی خاطر، اپنے آپ کو بچاتے بچاتے ملک کو تباہ نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے اعلان کے لیے یہ صحیح وقت ہے، اگر نہیں کریں گے تو میں مارچ کروں گا اور اس کے لیے میری تیاری تقریباً مکمل ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مارچ میں پتا چل جائے گا کہ عوام کہاں کھڑے ہیں، عوام سڑکوں پر خود آگئے تو کسی کے پاس روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

Back to top button