فیروز خان اور علیزے میں بچوں کے خرچ کا تنازع لٹک گیا

چار سال تک رشتہ ازدواج میں منسلک رہنے والے اداکار فیروز خان اور ان کی سابق اہلیہ علیزے فاطمہ میں بچوں کے ماہانہ خرچ کے حوالے سے تنازع طے نہیں طے پا سکا۔ دونوں کی جانب سے ماہانہ خرچ پر عدالت سے باہر معاملہ طے نہ ہو سکنے پر عدالت اب خود فیصلہ کرے گی، علیزے اور فیروز خان کے درمیان شادی کے 4 سال بعد ستمبر 2022 میں طلاق ہوگئی تھی، دونوں کے دو بچے ہیں، جو اس وقت والدہ کے پاس ہیں۔ طلاق لینے کے بعد علیزے نے عدالت میں بچوں کے اخراجات دلوانے کے لیے درخواست دائر کی تھی جب کہ فیروز خان نے اسی کورٹ میں بچوں کی حوالگی کے لیے کیس دائر کیا تھا۔
دونوں کی درخواستوں پر اکتوبر سے سماعتیں جاری تھیں، ابتدائی طور پر دونوں کے درمیان بچوں کے خرچے کے حوالے سے تنازع تھا اور عدالت نے دونوں فریقین کو اپنی رضامندی کے تحت اخراجات کے معاملات حل کرنے کے لیے وقت دیا تھا، تاہم ان کے درمیان اس حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہو پایا۔
اسی حوالے سے فیروز خان کے وکیل فائق علی جاگیرانی نے بتایا کہ ان کے موکل نے علیزے فاطمہ کو بچوں کے اخراجات کے لیے سالانہ 15 لاکھ روپے دینے کی پیش کش کی مگر ان کی سابقہ اہلیہ نے رقم لینے سے انکار کیا۔ فیروز کے وکیل نے بتایا کہ علیزے کی جانب سے بچوں کے اخراجات کے لیے سالانہ 30 سے 35 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا جو کہ ان کے موکل کے لیے فراہم کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ فیروز خان نے دونوں بچوں کے ہر طرح کے اخراجات کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے، دونوں عیدوں کے لیے فی بچہ ایک لاکھ روپے جب کہ داخلہ اور سکول کی چھٹیوں کے لیے بھی ایک ایک لاکھ روپے دینے کی پیش کش کی۔ مجموعی طور پر اداکار نے سالانہ 15 سے 16 لاکھ روپے دینے کی پیش کش کی مگر علیزے نے یہ پیش کش مسترد کردی۔
وکیل کے مطابق چونکہ دونوں فریقین اخراجات کے لیے اپنی رضامندی سے کوئی معاملہ طے نہیں کر پائے، اس لیے اب بچوں کے اخراجات کا فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی۔ ممکنہ طور پر 20 دسمبر کو عدالت پہلے بچوں کے اخراجات کا فیصلہ کرے گی، جس کے بعد باقی ٹرائل کئی ماہ تک چلنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب علیزے کے وکیل قاسم شاہ نے بھی سماعت کے بعد تصدیق کی کہ اب بچوں کے اخراجات کا فیصلہ عدالت کرے گی اور دونوں کی درخواستوں کا اب باضابطہ ٹرائل چلے گا، ابھی تک عدالت نے فریقین کو صلح کے مواقع دیے جو کہ ناکام ہوئے۔ قاسم شاہ نے بتایا کہ فیروز خان نے عدالت میں اپنی آمدنی کے حوالے سے دو بینک سٹیٹمنٹ جمع کروائی ہیں، جن میں سے ایک کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا کام متاثر نہیں ہوا، ان کا طرز زندگی اور آمدنی ویسی ہی جیسے پہلے تھی۔ علیزے فاطمہ کے وکیل کے مطابق انہوں نے فیروز سے بچوں کی کفالت کے لیے سالانہ 30 سے 35 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا، جس میں میڈیکل سمیت تمام طرح کے اخراجات شامل تھے مگر اداکار نے یہ رقم دینے سے انکار کیا۔
سماعت کے موقع پر فیروز خان کے ہمراہ ان کی بہن اداکارہ حمیمہ ملک بھی عدالت پہنچیں۔ حمیمہ نے فیس ماسک اور نقاب سے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا اور آنکھوں پر بھی سیاہ چشمہ پہن رکھا تھا۔ حمیمہ نے صحافیوں سے بات کرنے سے گریز کیا جب انہیں احاطہ عدالت میں بھی خاموش دیکھا گیا۔ ان کی عدالت آمد کے حوالے سے فیروز خان کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل نے ایک اور درخواست جمع کروائی ہے، جس میں بچوں کی ملاقات ان کی پوپھو، کزنز اور دیگر رشتے داروں کے ساتھ کروانے اور بچوں کو سردیوں کی چھٹیوں کے وقت والد کے پاس جانے کی اجازت کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے موقع پر فیروز خان کو کمرہ عدالت میں دونوں بچوں کو گود میں اٹھا کر گھومتے دیکھا گیا اور وہ بچوں کے ساتھ انتہائی خوش دکھائی دیے۔
