فیصلہ کن وقت،ہر حل میں اسلام آباد جائیں گے

تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان نےیوٹرلز اور ججز کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہرحال میں اسلام آباد جائیں گے، یہ فیصلہ کن وقت ہے،ادھر سے ہم کدھر جاتے ہیں وہ فیصلہ کرے گا کہ ہم کس طرح کے پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکاکہنا تھا کہفاشسٹ حکومت جس کی ہمیں ساری تاریخ پتہ ہے انہوں نے ہمیشہ ایسی چیزیں کی ہیں،یہ دو خاندان 30 سال سے پاور میں رہی ہیں اور ہمیں ان کی 30 سالہ تاریخ پتہ ہےان کے اندر اور فوجی آمر میں کوئی فرق نہیں رہا۔ یہ وہی حربے استعمال کرتےہیں جو آمر استعمال کرتے ہی،یہ اتنے ہی غیر جمہوری ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کی اسی طرح دھجیاں اڑائی ہیں جو آمروں نے اڑائی ہیں۔ جب یہ اپوزیشن میں ہوتےہیں تو انہیں جمہوریت یاد آجاتی ہے۔
انہوں نے کہا جب یہ حکومت میں آتے ہیں 1985 سے پنجاب میں شریف خاندان کے آنے سے میں نے ان کو وہ حرکتیں کرتے دیکھا ہے جو فوجی آمر کرتے ہیں،میرا پہلا سوال یہ ہے ہمارے دور حکومت کے ساڑھے تین سال میں کتنی دفعہ یہ سڑکوں پر نکلے۔ کتنی دفعہ انہوں نے حکومت گرانے کی مارچ کی۔ مجھے بتائیں کہ لوگوں کے گھروں میں جا کر چادر نہ چار دیواری کا لحاظ کررہے ہیں،تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ریٹائرڈ میجر کے گھر میں رات کے اندھیرے میں اس کی چھوٹی بیٹی رو رہی ہے، میجر کی بیوی وہاں بیٹھی ہے یہ کونسے ملک میں ہوتا ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اور کیا چیز ہورہی ہے کہ یہ اس طرح کے ہتکھنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ میری 26 سالہ سیاسی تاریخ ہے مجھے کوئی بتایے کہ میں نے کوئی قانون توڑا ہو۔ کوئی انتشار پھیلا ہو۔ ہم نے 126 دن کے دھرنے میں ہم نے کسی قسم کی لڑائی کی ہو، کوئی مجھے بتائے؟میں رات سے دیکھ رہا ہوں کہ اپنے لوگوں سے جو مجھے پیغامات آرہے ہیں میں آج سب سے سوال پوچھ رہا ہوں کہ یاد رکھیں فیصلہ ہوگا کہ کس طرح کا پاکستان بننا ہے ۔ یہ اب فیصلہ ہوگا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ہم دو طرف جاسکتے ہیں کیا ہم اس کو وہ پاکستان بنانا چاہتے ہیں کہ وہ عظیم لیڈر قائد اعظم، قانون کی حکمرانی ماننے والے، مخالفین بھی انہیں کہتے تھے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہیں۔ کیا وہ پاکستان جو علامہ اقبال کی سوچ تھی یا یہ چور ڈاکوؤں کا پاکستان۔ 60 فیصد کابینہ مجرموں پر مشمل ہے۔ ان میں سے 60 فیصد ضمانتوں پر ہیں،وزیر اعظم اور اس کے بیٹے کو سزا ہونی تھی۔ 24 ارب روپے کے کسیز کی سزا ہونی تھی اور آج یہ لوگ ملک کے فیصلے کر رہے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا میرا سوال سب سے ہے، وہ ادارے جنہوں نے ملک کے فیصلے کرنے ہیں، میں اپنی عدلیہ سے کہتا ہوں یہ آج آپ کا ٹرائل ہے۔ ساری قوم آپ کے فیصلوں کی طرف دیکھے گی۔ اگر آپ نے اس وقت اس ملک کی جمہوریت کو تحفظ نہ دیا،جب ہم کہہ رہے ہیں کہ پُرامن احتجاج کریں گے اور یہ ہمارا جمہوری حق ہے اور ہم اس لیے کرنے جارہے ہیں کہ باہر کی سازش جو کہ ہم مراسلہ سب کو تقسیم کیا۔ صدر نے چیف جسٹس کو انکوائری کا کہا۔ قومی سلامتی کونسل میں ثابت ہوا کہ بیرونی مداخلت ہوئی،ان لوگوں کو لایا گیا ہے جو اس ملک کے 30 سال کے مجرم ہیں۔ 30 سال سے یہ لوگ ملک کو لوٹ رہے ہیں تو میرا سوال ہے کہ کیا ہمیں یہ اتنا غلام سمجھتے ہیں کہ اتنا بڑا ظلم ہو قوم کے ساتھ اور ہمیں اسلام آباد میں احتجاج تک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
سابق وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا جب بلاول اسلام آباد میں ‘کانپیں ٹانگنے والی ‘ مارچ کے لیے آیا تھا کیا کسی کو پکڑا گیا؟ کیا کسی کے گھر پر ریڈز کی گئیں؟ فضل الرحمٰن نے حکومت آنے کے چند ماہ بعد ہی دھرنا دیا تھا؟ بلکہ ہم نے تو کہا تھا کہ ان کی مدد کرتے ہیں۔ سی ڈی اے ان کی مدد کرے گا اگر ان کو کسی چیز کی ضرورت ہے،ہم نے کبھی اس طرح کی حرکت کی ہے۔ تو یہ جو آج ہو رہا ہے میں اپنی عدلیہ سے بڑے ادب سے پوچھ رہا ہوں کہ اگر آپ نے اس کی اجازت دی جو یہ کررہے ہیں ، ملک بند کردیا، رکاوٹیں کھڑی کردیں، اور یہ حراساں کر رہے ہیں، خواتین کا خیال نہیں کر رہے شریف لوگوں کے گھروں پر حملے کررہے ہیں جنہوں نے کبھی کوئی جرم نہیںکیا۔ کیا ہماری عدلیہ اس کی اجازت دے گی؟
انکا کہنا تھاکہ بڑے افسوس سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے اجازت دی تو اس ملک میں عدلیہ کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہاں جمہوریت نہیں ہے،دوسرا میں اپنے عوام سے بات کرنا چاہتا ہوں اور آج اپنے وکیلوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جس طرح وہ پاکستان کی جمہوریت کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوئے ہیں لیکن وہ بار ایسوسی ایشنز جو اس کی مذمت نہیں کررہیں۔ مجرموں کی کابینہ نے جو غیر قانونی فیصلہ کیا ہے،اس وقت کسی کے لیے نیوٹرل رہنے کی گنجائش نہیں ہے۔ نیوٹرل رہنے کی قرآن میں اللہ اجازت ہی نہیں دیتا۔ آپ نے فیصلہ کرنا ہے یا آپ اچھائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امر بالمعروف۔ یا آپ دوسری طرف کھڑے ہیں۔ اللہ نے آپ کو اجازت نہیں دی کہ بیچ میں بیٹھ جائیں۔ بیچ میں بیٹھنے کا مطلب مجرموں کی مدد ہے۔ جو نیوٹرل کہتے ہیں ان کو واضح کرنا چاہتا ہوں، آپ نے حلف لیا ہے پاکستان کی سالمیت، پاکستان کی خوداری کی حفاظت کرنا ہے۔
انہوں نے کہا مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ جو سابق فوجیوں سے کررہے ہیں یہ ساری قوم کو سمجھنا چاہیے کہ وہ آپ کے اوپر بھی ‘ججمنٹ’ آنے والی ہے۔ اگر ملک تباہی کی طرف جاتا ہے تو آپ اتنے ہی بڑے زمہ دار ہونگے۔ ہم نے واضح طور پر کہا کہ دیکھیں ملک کے حالات برے ہیں،ان لوگوں نے ڈیڑھ مہینے میں دیکھتے دیکھتے معیشت تباہ کردی۔ روپیہ تیزی سے نیچے گرا۔ اسٹاک ایکسیچنج کریش کرگیا۔ ہر روز مہنگائی بڑھتی جارہی ہے۔ روپے کی قدر کم ہرنے کا جیسے ہی اثر پڑے گا مہنگائی کی نئی لہر آئے گی اس کا ہر چیز پر اثر پڑے گا۔ جب تک یہ حکومت قائم ہے قوم کو اندھیرا نظر آرہا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھااس کا ایک ہی جمہوری حل ہے کہ فوری طور پر انتخابات کروائیں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔ انتخابات کے علاوہ کچھ بھی کریں گے ملک نیچے ہی جائے گا۔ اور مجھے خوف آرہا ہے کہ ہم ہفتوں میں سری لنکا جیسی صورتحال کی طرف جارہے ہیں،ہمارے راستے میں ان چوروں کو بٹھا دیا ہے۔ چور اس لے نہیں چاہ رہے کہ انہوں نے اقتدار میں آکر ملک کی خدمت نہیں کرنی بلکہ اپنے اوپر کرپشن کے کسیز کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے نیب کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے،ان لوگوں نے تیاری کرنی ہے کہ جب بھی انتخابات ہوں دھاندلی کرکے جیت سکیں۔ جو انہوں نے ہمیشہ کیا ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس لئے نیوٹرلز، ججز، وکلاء سمیت سب کو پیغام دیتا ہوں کہ یہ فیصلہ کُن وقت ہے۔ اور میں صحافیوں کو سلیوٹ کرتا ہوں جو آج کھڑے ہوئے ہیں اس ملک کی خودداری اور حق اور سچ کے لیے جن کے پیچھے آج ایف آئی آر کاٹی جارہی ہیں، جن کو غدار کہا جارہا ہے۔ جن کو غدار کہا جارہا ہے قوم ان کو بڑی دیر سے جانتی ہے سب لوگ ان کی ساکھ کو مانتے ہیں۔ صحافیوں کو ڈرایا جارہا ہے،آج میں ان صحافیوں سے پوچھتا ہوں جو ہمارے ساڑھے تین سال کے دور میں کہتے ہیں کہ ہم آزادی رائے پر پابندی لگا رہے ہیں۔ ہم پر جتنی تنقید ہوئی پاکستان کی تاریخ میں اتنی کسی پر نہیں ہوئی۔ اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ باہر سے پیسہ کدھر آیا اور کن کن میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں پر لگا۔
