فیض حمید نے تحریک طالبان کو دوسری زندگی کیسے دی؟

خیبرپختونخوا کے شہر بنوں میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے دفتر پر تحریکِ طالبان پاکستان کے زیر حراست شدت پسندوں کے حالیہ قبضے سے ایک بار پھر یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ چند سال قبل تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور کمزور تر شدت پسند تنظیم دوبارہ اس قدر منظم اور مضبوط کیسے ہوگئی؟ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کی جانب سے پاکستانی طالبان کے ساتھ ساتھ شروع کیے جانے والے مذاکراتی عمل نے طالبان کو منظم ہونے اور اپنا نیٹ ورک دوبارہ بحال کرنے کا موقع فراہم کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ٹی ٹی پی کے خودکش بمبار اسلام آباد تک پہنچ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ 27 نومبر کو ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہی شدت پسند گروہ کے نام نہاد ‘وزیرِ دفاع’ مفتی مزاحم نے ایک اعلامیے میں تحریک کے تمام گروپ لیڈرز کو احکامات جاری کیے کہ پاکستان بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کریں۔ مفتی مزاحم ٹی ٹی پی کے نائب امیر قاری امجد کا تنظیمی نام ہے جس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع دیر کے علاقے ثمر باغ سے ہے۔مفتی مزاحم کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملے شروع کرنے کے اعلامیے کے چند دن بعد ہی امریکہ نے قاری امجد سمیت شدت پسند تنظیم القاعدہ برِصغیر کے تین دیگر رہنماؤں کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

دسمبر 2007 میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں فعال مقامی طالبان گروہوں کے انضمام سے وجود میں آنے والی ٹی ٹی پی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے سمیت قبائلی اضلاع میں فوج کی موجودگی کو جواز بناتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھی۔ ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکاروں سمیت عام شہری بھی نشانہ بنے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق 2020 کے وسط تک ٹی ٹی پی پاکستانی فورسز کے کریک ڈاؤن اور افغانستان میں امریکی ڈرون حملوں کی وجہ سے تنظیم کی قیادت کی ہلاکت کے سبب کافی حد تک کمزور ہوگئی تھی۔ اسی عرصے کے دوران تنظیم کے اندر دھڑے بندی کے باعث بعض رہنما سرحد سے ملحقہ افغان علاقے کنڑ اور ننگرہار چلے گئے تھے۔ لیکن امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری 2020 میں طے پانے والے امن معاہدے نے ٹی ٹی پی کو دوبارہ منظم ہونے کا حوصلہ دیا۔ جب افغان طالبان نے آئی ایس آئی چیف فیض حمید کے ذریعے پاکستانی حکام کو ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور کیا تو طالبان نے اس کا فائدہ اٹھایا اور خود کو منظم کرنا شروع کر دیا۔

ٹی ٹی پی کے معاملات سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اس میں ناراض دھڑوں اور نئے شدت پسندوں کی شمولیت کے بعد تنظیم کا نیا ڈھانچہ تشکیل دیا گیا جس کے بعد اس کے حملوں کی تعداد اور استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر مفتی نور ولی نے ماضی کی غلطیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ دوسالوں میں تنظیم سازی کے معاملے پر کافی سنجیدگی دکھائی ہے جس کا اظہار وہ اپنی تحریر کردہ "انقلاب محسود” اور دیگر مطبوعات میں بھی کر چکے ہیں۔ معلومات کے مطابق ٹی ٹی پی کی تنظیم کو فی الحال ملکی سطح پر نو ڈویژنز میں تقسیم کیا گیا ہے جسے تنظیمی طور پر افغانستان کی طرز پر صوبے یا ولایت کا نام دیا گیاہے۔
ان نو ڈویژنوں میں خیبر پختونخوا اورسابق قبائلی علاقوں کو سات ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیاہے جس میں ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کوہاٹ، پشاور، مالاکنڈ، مردان اور ہزارہ شامل ہے۔
بلوچستان کے علاقوں کو ژوب ڈویژن میں شامل رکھا ہے جب کہ کراچی کے نام سے ایک علیحدہ ڈویژن تشکیل دیا گیا ہے۔ ٹی ٹی پی کی ڈویژنوں کی سربراہی کے لیے مرکزی تنظیم رئیس یا ولی کا انتخاب کرتی ہے جس کی مدت ایک سال ہے۔ ڈویژن کی سطح کے سربراہ کی معاونت کے لیے ولایتی شوریٰ تشکیل دی گئی ہیں جب کہ ہر ڈویژن میں تحصیل کی سطح پر نظامی مسئول کی زیرِنگرانی مزید تنظیم سازی کی گئی ہے جن کی تقرریاں ڈویژن کے رئیس یا والی کی جانب سے کی جاتی ہے۔

اسکے علاوہ ٹی ٹی پی کی مرکزی سطح پر بھی از سرنو تنظیم سازی کی گئی ہے جس میں تنظیم کے مرکزی امیر اورنائب امیر کو سرِفہرست رکھا گیا ہے۔ ایک رہبری شوریٰ اور متعدد وزارتیں اور ادارے بھی قائم کی گئی ہیں جن کے سربراہان بالحاظ عہدہ تنظیم کی رہبری شوریٰ کے رکن ہوتے ہیں۔ نئے تشکیل کردہ اداروں میں وزارتِ دفاع یا نظامی ادارہ سرِفہرست ہے جس کا سربراہ قاری امجد عرف مفتی مزاحم کو بنایا گیاہے۔ اس نام نہاد وزارت کو چلانے کے لیے نظامی شوریٰ تشکیل دی گئی ہے جسے خطوں کی سطح پر شمالی وجنوبی زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نئی تنظیم سازی میں وزارتِ اطلاعات، فلاحی ادارہ، سیاسی ادارہ، انٹیلی جنس کا ادارہ اور اقتصادی ادارہ نامی شعبے بھی تشکیل دیے گئے ہیں جن کے سربراہان کوبھی بالحاظ عہدہ رہبری شوریٰ کے اراکین قرار دیا گیاہے۔ ان شعبوں کے سربراہان ہر ڈویژن یا ولایت کی سطح پراپنے شعبوں کے نگرانوں کا تقرر کرچکے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹی ٹی پی پہلے قبیلوں کی بنیاد پر حلقوں کی سطح پر فعال تھی جیسے حلقہ محسود اور حلقہ اورکزئی، جہاں تنظیم سے زیادہ قبائلی وابستگی کی زیادہ اہمیت تھی لیکن اب تنظیم نے اپنا ڈھانچہ تبدیل کیا ہے۔ 2013 میں امریکی ڈرون حملے میں ٹی ٹی پی کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد سوات سے تعلق رکھنے والے مولانا فضل اللہ شدت پسند گروہ کے سربراہ بنے تو متعدد قبائلیوں کی سطح پرتشکیل حلقوں نے انہیں نیا امیر ماننے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد تنظیم شدید گروہ بندی کا شکارہوگئی تھی۔ لہٰذا اب نئی تنظیم میں قبائلی بنیادوں کے بجائے تنظیمی بنیادوں پرمختلف علاقوں کے ذمے دار بنائے گئے ہیں تاکہ تنظیم میں قبائلی بنیادوں پر اختلافات پیدا نہ ہوں اور سارا زور ریاست مخالف کارروائیوں پر لگایا جائے۔

Back to top button