بدنامِ زمانہ سیریل کلر چارلس سوبھراج کو رہائی مل گئی

ایشیا بھر میں قتل کی خوفناک وارداتوں میں ملوث بدنام زمانہ چارلس سوبھراج کو نیپال کی جیل سے رہا کر دیا گیا ہے، سوبھراج 1970 کی دہائی میں ایشیا بھر میں قتل کی کئی وارداتوں کے سلسلے میں جیل میں سزا کاٹ چکا ہے۔ سوبھراج کے بارے میں نیٹ فلکس پر ’’دا سرپنٹ The Serpent ‘‘ کے نام سے ایک سیریز بھی بن چکی ہے، نیپال کی سپریم کورٹ نے 21 دسمبر 2022 کو سوبھراج کو جیل سے رہا کر کے ملک بدر کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ 2003 سے شمالی امریکہ کے دو سیاحوں کے قتل کے الزام میں نیپال کو مطلوب  78 سالہ سوبھراج کو میڈیکل بنیادوں پر رہا کیا جانا چاہئے، فیصلے میں لکھا گیا کہ انہیں مسلسل جیل میں رکھنا قیدی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اگر ان کے خلاف کوئی اور کیس زیر التوا نہیں ہے، تو یہ عدالت اسے آج رہا کرنے اور 15 دنوں کے اندر ان کے ملک واپس بھیجنے کا حکم دیتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سوبھراج کو اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت ہے اور ان کی رہائی قانون کے مطابق ہے جو ایسے بیمار قیدیوں کے ساتھ رحم دلی کی اجازت دیتا ہے، جو اپنی سزا کا تین چوتھائی حصہ پہلے ہی کاٹ چکے ہوں۔ یاد رہے کہ چارلس سوبھراج کے دل کا 2017 میں پانچ گھنٹے طویل آپریشن ہوا تھا اور اب ڈاکٹرز کا مشورہ ہے کہ اسے دوبارہ دل کی سرجری کروانا ہو گی۔ چارلس سوبھراج کو ممکنہ طور پر کٹھمنڈو کی سینٹرل جیل سے رہا کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اپنے بچپن میں چھوٹے موٹے جرائم کی وجہ سے فرانس میں کئی برس تک جیل کی سزا کاٹنے کے بعد سوبھراج نے 1970 کی دہائی کے اوائل میں دنیا کے مختلف ملکوں کے چکر لگانا شروع کر دیئے تھے، اس دوران چارلس سوبھراج تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں زخمی بھی ہو گیا تھا۔ اس کا طریقہ واردات اپنے شکار کو لبھانا اور اس سے دوستی کرنا ہوتا تھا، اکثر مغربی سیاح جو مشرقی روحانیت کی تلاش میں بنکاک آتے تھے، سوبھراج انہیں منشیات دینے کے بعد لوٹتے اور پھر قتل کر دیتے۔ انکے ہاتھوں ہونے والا پہلا قتل ایک نوجوان امریکی خاتون کا تھا جنکی بکنی پہنی لاش پٹایا کے ساحل پر 1975 میں پائی گئی تھی، بالآخر سوبھراج کا تعلق 20 سے زیادہ قتل کے واقعات سے جوڑا گیا۔ ان کے متاثرین کا گلا گھونٹا گیا، مارا پیٹا گیا یا پھر جلایا گیا۔ سوبھراج اکثر اپنی اگلی منزل تک جانے کے لیے اپنے شکار کے پاسپورٹ استعمال کیا کرتے تھے۔

اسی لیے سوبھراج کا لقب ’دی سرپنٹ‘ یا سانپ بن گیا تھا، کیوں کہ وہ کینچلی بدل کر نئی شناخت حاصل کر لیتا تھا۔ یہی لقب بعد میں نیٹ فلکس کی سیریز کا عنوان بن گیا۔ سوبھراج کو بالآخر 1976 میں بھارت میں گرفتار کیا گیا جہاں اس نے 21 سال جیل میں گزارے۔ تاہم 1986 میں وہ جیل سے فرار ہو گیا لیکن پھر بھارت کی ساحلی ریاست گوا سے پکڑا گیا۔ 1997 میں وہ سزا کاٹ کر رہا ہوا تو پیرس چلا گیا۔ کچھ عرصہ بعد چارلس واپس آگیا اور پھر کھٹمنڈو چلا گیا جہاں 2003 میں انہیں نیپال پولیس نے پکڑ لیا۔ اس پر مقدمہ چلا اور عدالت نے اسے 1775 میں امریکی سیاح کونی جو برونزِچ کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی۔ ایک دہائی بعد انہیں برونزِچ کے کینیڈین ساتھی کو قتل کرنے کا مجرم بھی پایا گیا، 2008 میں جیل میں سوبھراج نے نیہیتا بسواس نامی خاتون سے شادی کی، جو ان سے 44 سال چھوٹی اور ایک نیپالی وکیل کی صاحب زادی ہیں۔ یہ شادی اب بھی برقرار ہے اور اب سوبھراج جیل سے باہر آ رہے ہیں۔

Back to top button