فیض حمید کا انجام بھی مشرف کی سیاست جیسا ہوگا

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے بعد لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید بھی سیاست کا شوق پورا کر دیکھیں، لیکن خیال رہے کہ سیاست دان پھانسی پر جھول جاتا ہے، برسوں قید کاٹتا ہے، جلاوطن ہوتا ہے، مفتوحہ عدالتوں سے ناکردہ گناہوں کی سزائیں پاتا ہے، لیکن کبھی آئین شکنی نہیں کرتا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاستدان آئین بناتے ہیں اور اسکا دفاع کرتے ہوئے آئین شکنوں کے ہاتھوں پھانسی کے پھندے پر جھول جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری جانب سب سے پہلے پاکستان کا جھوٹا نعرہ لگانے والوں مشرف جیسے آئین شکن سزائے موت پانے کے بعد تاریخ کے ہاتھوں قتل ہونے کے لیے ملک چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں۔
اپنی تازہ تحریر میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ان دنوں وطن عزیز میں ایک فیض صاحب کا بہت چرچا ہے جو حال ہی میں بہت بے آبرو ہو کر رخصت ہوئے اور اب سیاسی میدان میں اترنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایک جنرل عبدالحمید خاں گزرے ہیں۔ دسمبر 1971 میں جب ملک ٹوٹ رہا تھا تو حمید خان فوج کی سربراہی کے لیے یحییٰ خان سے پنجہ آزمائی کر رہے تھے۔ کوئی بیس برس بعد لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نمودار ہوئے۔’’ فاتح جلال آباد‘‘ حمید گل بھی آرمی چیف بننے کے آرزو مند تھے۔ لیکن جب آس ٹوٹی تو مستعفی ہو گئے۔
ایم کیو ایم، آئی جے آئی اور تحریک انصاف جیسی جمہوری دستکاریاں حمید گل ہی کے دست اعزاز کا کرشمہ ہیں۔ دو دہائی بعد لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید وارد ہوئے۔ 2017ء سے 2022 ء تک قوم کی شہر پناہ پر جو بھی گولہ آن کر گرا اس میں فیض آباد دھرنے کے ماسٹر مائنڈ فیض حمید کی انگشت فتنہ ساز کو دخل تھا۔ عمران نے فیض سے بھرپور فیض اٹھایا لیکن آرمی چیف کی دوڑ میں قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ہماری تاریخ میں ایک جنرل فیض علی چشتی بھی گزرے ہیں۔ 5 جولائی 1977 کی رات دس کور کے کمانڈر اور بھٹو کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے فیض علی چشتی ہی تھے جو آجکل ریٹائرڈ فوجیوں کی ایک تنظیم کے پلیٹ فارم سے عمران خان کے حق میں جھنڈا لے کر نکلے ہوئے ہیں پاکستان کی قسمت سنوارنا چاہتے ہیں۔ وجاہت کہتے ہیں کہ حالیہ نومبر ہمارے سیاسی سمندروں کی تہہ میں پوشیدہ طوفانوں کی رستاخیز سے معمور تھا۔ بالآخر جنرل عاصم منیر کی نامزدگی ہوئی تو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کو ہی مناسب سمجھا۔ چکوال کی سڑکوں پر حروف عقیدت میں گندھے سنگ ہائے بنیاد پر وقت کی گرد پڑ گئی۔
عموماً اعلیٰ عسکری افسر سپرسیڈ ہونے پر مستعفی ہوتے ہیں۔ یہاں تو ایسا کچھ نہیں تھا۔ معمولی فہم رکھنے والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ دو اعلیٰ عسکری افسروں کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ ادارہ جاتی روایت کا حصہ نہیں بلکہ سعی ناکام کی دستاویز پر دستخط کی تقریب تھی۔ اس قبیلے کے ایک سردار لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام تو حالیہ ضمنی انتخابات میں اپنے سیاسی جھکائو کا اشارہ دے چکے ہیں۔ اب منگوال کے عمائدین کا ایک وفد فیض حمید کے فارم ہائوس پر پہنچا جس نے ارض چکوال کے لئے ان کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ جب ایک مقرر نے عوام کی خدمت کے جذبے سے سرشار فیض حمید کو سیاست میں آنے کی دعوت دی تو اس موقع پر قبلہ فیض نے سینے پر ہاتھ رکھ کر ذرا سا جھکتے ہوئے انکساری کی حد کر دی، یعنی انہوں نے اس پیشکش کو قبولیت بخشنے کا عندیہ دیا حالانکہ وہ تو پچھلے دس برس سے سیاست ہی کر رہے تھے۔
وجاہت مسعود کے بقول اب فیض حمید کی وضاحت آئی ہے کہ وہ سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اس پر وجاہت کہتے ہیں، نہیں صاحب، ایسا نہیں کہئے۔ کارِ سیاست میں آپ کا وسیع تجربہ قوم کے کام آنا چاہئے۔ آپ سے پہلے میجر جنرل سکندر مرزا نے ریپبلکن پارٹی بنائی تھی۔ پہلا مارشل لاء لگانے والے فیلڈ مارشل ایوب خان نے کنونشن لیگ بنائی تھی۔ ضیا کو خط لکھ کر مارشل لاء کا راستہ ہموار کرنے والے ایئر مارشل اصغر خان نے تحریک استقلال بنائی تھی۔ ڈھاکہ میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کو بھی سیاست کا کیڑا تنگ کرتا تھا اور موصوف قومی اتحاد کے جلسوں میں کروفر سے خطاب فرمایا کرتے تھے۔
1990 کے جنرل الیکشن میں دھاندلی کے لیے آئی ایس آئی کے ذریعے خفیہ فنڈز بانٹنے والے جنرل اسلم بیگ نے بھی ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی تھی۔ جنرل مشرف سے برطرف ہونے کے بعد یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں بحال ہو کر اسی کو برطرف کرنے والے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی یہ کوشش کر دیکھی۔ دو مرتبہ آئین شکنی کرنے والے مشرف نے بھی آل پاکستان مسلم لیگ بنائی تھی جس کا اب کوئی اتا پتا نہیں۔ لہٰذا فیض حمید صاحب، واللہ آپ بھی اپنا سیاست کا شوق پورا کیجئے لیکن خیال رہے کہ سیاست دان پھانسی پر جھول جاتا ہے، برسوں قید کاٹتا ہے، جلاوطن ہوتا ہے، مفتوحہ عدالتوں سے ناکردہ گناہوں کی سزائیں پاتا ہے، لیکن آپ کی طرح یوں ریٹائر نہیں ہوتا جیسے کہ آپ کو ہونا پڑا۔
