توشہ خانہ لوٹ مار: بشریٰ اور عمران ایک ہی صفحہ پر

سابق وزیراعظم عمران خان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہے در ہے لیک ہونے والی آڈیوز نے عمران خان کے نام نہاد کرپشن مخالف بیانیے کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ توشہ خانہ کی لوٹ مار میں دونوں میاں بیوی ایک ہی صفحے پر تھے۔ اس کی بنیادی وجہ ایک تازہ آڈیو لیک ہے جس میں بشری بی بی یہ بتاتی سنائی دیتی ہیں کہ خان صاحب کے ایم ایس یعنی ملٹری سیکرٹری نے توشہ خانہ کے زیورات ہم پر بھروسہ کر کے بنی گالا بھجوائے ہیں لہذا ان کی تصاویر کیوں بنوائی گئیں۔ یہاں بشری بی بی وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری کی بات کر رہی ہیں جنہوں نے تمام قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے توشہ خانہ سے تحائف نکلوا کر بنی گالہ میں بشریٰ بی بی کو بھجوانے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملٹری سیکرٹری کے لیے ایسا غیر قانونی عمل کرنا وزیر اعظم کی مرضی اور منظوری کے بغیر ممکن نہیں تھا لہذا اس میں اب کوئی ابہام نہیں کہ توشہ خانہ کی لوٹ مار میں عمران خان اور بشری بی بی دونوں ایک ہی صفحے پر تھے۔
عمران کی اہلیہ بشریٰ کی جو تازہ آڈیو لیک سامنے آئی ہے اس میں بظاہر توشہ خانہ سے ان کے گھر بھیجی گئی اشیا کی تصاویر بنائے جانے پر انہیں وزیراعظم ہاؤس کے ایک سٹاف ممبر انعام پر غصہ کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔بشریٰ کی اس سے قبل بھی ایک آڈیو منظر عام پر آئی تھی، جس میں وہ زلفی بخاری سے عمران خان کی گھڑیاں بیچنے کی بات کر رہی تھیں۔ تازہ آڈیو میں بشریٰ بی بی بنی گالہ میں ڈیوٹی پر موجود انعام امی افسر سے کہہ رہی ہیں کہ توشہ خانہ سے جو چیزیں آئی تھیں کیا انکی تصاویر بنوانے کے لیے آپ نے اکبر کو کہا تھا؟
انعام نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’نہیں، میں نے تو نہیں کہا تھا‘۔ اس۔پر بشریٰ بی بی غصے میں کہتی ہیں کہ ’تو تصاویر کیوں کھینچی تھیں، گھر کے اندر جو چیز آئے اس کی تصویر تو نہیں کھینچتے، صرف ان چیزوں کی تصاویر لینی چاہیں جو گھر سے باہر جا رہی ہوتی ہیں، جو چیزیں میرے پاس آرہی ہیں ان کی تصاویر کیوں لی جا رہی ہیں اور مقصد کیا ہے‘۔ جواب میں انعام نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ تصاویر کس کے کہنے پر بنائی گئی ہیں۔ اس پر بشریٰ بی بی دوبارہ کہتی ہیں کہ مجھے پتا چلا ہے کہ تم نے تصاویر لینے کا کہا تھا۔ اسکے بعد بشریٰ بی بی آواز دے کر ایک دوسرے شخص سے پوچھتی ہیں کہ ’کیا آپ نے انعام کو تصاویر بنا کر بھیجی ہیں اور ایسا کرنے کو کس نے کہا تھا۔
اس پر انعام تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ویسے تصاویر بھیجی تو گئی ہیں لیکن تصاویر بنانے کے لیے اس نے نہیں کہا تھا۔ اس پر بشری بی بی دوسرے شخص سے سوال کرتی ہیں ’کیا انعام نے آپ سے تصاویر لینے کا کہا تھا’، جواب میں بظاہر دوسرا شخص یہ کہتا تھا سنائی دیتا ہے کہ ثبوت کے طور پر تصاویر رکھنا ہوتی ہیں، اس پر بشری اور بھی زیادہ بھڑک جاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ کس چیز کا ثبوت چاہیئے؟ آپ کو کیا ضرورت ہے ثبوت دینے کی؟، آپ نے مجھ سے پوچھا ہے؟، جھاڑیں سننے کے بعد جب انعام سوری کہتا ہے تو بشرا بی بی جواب میں کہتی ہیں سوری کا کیا مطلب؟ آپ لوگوں نے اس گھر کو تماشا بنا رکھا ہے، خان صاحب کا ملٹری سیکرٹری ہم پر اعتماد کر کے چیزیں بھیج رہا ہے، آپ کون ہوتے ہیں ان چیزوں کی تصویریں کھینچنے والے‘۔ اس کے بعد بشریٰ بی بی انعام سے سخت غصے میں اونچی آواز میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہتی ہیں کہ ’آج کے بعد تم کسی صورت گھر کے اندر نہیں آؤ گے، سمجھ آئی۔ تم اب وہیں بیٹھو گے جہاں تم بیٹھے ہو اور جو تصویریں کھنچوائی ہیں وہ بھی اپنے پاس ہی رکھو،۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بشری بی بی کی تازہ آڈیو نے ایک بات ثابت کر دی ہے کہ توشہ خانہ کی لوٹ مار میں نہ صرف خاتون اول بلکہ ان کے مجازی خدا عمران خود بھی شامل تھے ورنہ وزیر اعظم کا بریگیڈیئر لیول کا ملٹری سیکرٹری تحائف نکلوا کر بنی گالہ نہ بھجوا رہا ہوتا۔ دوسری جانب فواد چوہدری نے حسب روایت عمران خان کی چوری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ کسی کی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ذاتی گفتگو عام کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف آڈیوز ریکارڈ کی جاتی ہیں اور پھر ان کو کاپی پیسٹ کر کے جور دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح کی آڈیوز یا ویڈیوز سے سیاسی فائدہ حاصل کرے گا اور عمران خان کو کرپٹ ثابت کر پائے گا تو پھر خیالی دنیا سے باہر آئیں اور حقیقی دنیا میں داخل ہوں۔
تاہم دوسری جانب انعام نامی شخص نے تصدیق کی ہے کہ بشری بی بی فون پر ان کے ساتھ گفتگو کر رہی تھیں اور یہ آڈیو اصلی ہے۔ اس آڈیو لیک پر لندن سے ردعمل دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ ’دراصل یہ انتہائی تربیت یافتہ چوروں اور دھوکے بازوں کا گینگ ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔
