فیض حمید کی ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں انٹری

پاکستانی سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل اور سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اپنی ریٹائرمنٹ کے چند روز بعد ہی سیاست میں باقاعدہ انٹری ڈال دی ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فیض حمید کی ریٹائرمنٹ کی درخواست 10 دسمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظور کی تھی۔ لیکن 14 دسمبر کو فیض کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل جس میں انہیں اپنے آبائی علاقے چکوال میں ایک سیاسی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اجتماع کا انتظام جنرل فیض کے بھائی سابق پٹواری نجف حمید نے کیا تھا جو پہلے ہی تحریک انصاف کا حصہ بن چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنرل فیض اس تقریب کے مہمان خصوصی ہیں اور مختلف مقررین ان کی شان میں تقریریں کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ایک مقرر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ آپ پاکستان کے آرمی چیف بنیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو یہ ملک کی خوش قسمتی اور آپ کا بڑا کارنامہ ہوتا۔ لیکن اب ہمیں امید یے کہ آپ سیاست میں آ کر عوام کی خدمت کریں گے اور وہ عہدہ حاصل کریں گے جو آپ فوج میں حاصل نہیں کر پائے۔ مقرر نے فیض حمید کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپکی وجہ سے ڈوڈھیال اور منگوال سمیت چار یونین کونسلون کو پچیس پچیس کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز مل گئے ہیں۔ ایک اور مقرر نے فیض سے والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں کو امید ہے کہ جس طرح آپ نے فوج میں رہ کر اپنے علاقے کی خدمت کی ہے سیاست میں اس سے بڑھ کر اپنے علاقے کی خدمت کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے مختلف کیسز میں عمران خان کی ممکنہ نااہلی کے پیش نظر خود کو تحریک انصاف کی متبادل قیادت کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ فیض حمید کی جانب سے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ جلد از جلد انتخابی سیاست کے لئے اہل ہونا چاہتے ہیں۔ فیض حمید کو یہ خوش فہمی بھی ہے کہ پی ٹی آئی کے ورکرز اور ووٹرز میں وہ شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور پرویز خٹک کے مقابلے میں ذیادہ مقبول ہیں۔ یاد رہے کہ فیض حمید نے جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف کا چارج سنبھالنے سے قبل ہی ریٹائر ہو جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جنرل باجوہ نے اپنی سروس کے آخری دن انکی ریٹائرمنٹ کی منظوری دی۔ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ان کی ریٹائرمنٹ اوکے کر دی۔ اس طرح دس دسمبر کو لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا فوج میں آخری دن تھا اور وہ اب ریٹائر ہو کر گھر جا چکے ہیں۔
یاد رہے کہ فیض حمید کا خاندان پہلے ہی باقاعدہ تحریک انصاف میں شامل ہو چکا ہے۔ انکے بھائی نجف حمید پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے چکوال میں سیاست کر رہے ہیں اور عمران خان کے چکوال جلسے میں انکے ساتھ سٹیج پر موجود تھے۔ فیض حمید کے قریبی حلقے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ وہ خود سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن وہ اسے صرف ممبر پارلیمان بننے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ وہ اپنا سیاسی کریئر اس سے زیادہ اور اس سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ فیض حمید کا خیال یے کہ وہ تحریک انصاف اور اس کے سوشل میڈیا فالورز میں کافی مقبول ہیں اس لئے پی ٹی آئی میں ان کی گنجائش موجود ہے۔ ویسے بھی عمران خان کی جماعت کو 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے اقتدار تک پہنچانے میں فیض حمید کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس لئے ان کے قریبی ذرائع کے مطابق عمران کی ممکنہ نااہلی کے بعد فیض حمید خود کو تحریک انصاف کی متبادل قیادت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ایک بھر پور سیاسی اننگز کھیل سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ فیض ابھی ساٹھ برس کے بھی نہیں ہوئے اس لئے ایک بھر پور سیاسی اننگز کھیلنے کے لئے ان کے پاس کافی وقت موجود ہے۔
فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد آئین کے مطابق فیض حمید پر دو سال کے لئے عملی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی ہے لیکن وہ ان دو برسوں میں اپنے نئے کیرئیر کے لیے نیٹ پریکٹس کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی رائے میں 2023 کے الیکشن کے بعد ان کے لئے تحریک انصاف میں بطور متبادل سامنے آنے کا بہترین وقت ہوگا۔ ابکے بقول فیض حمید 2023 سے اگلے الیکشن میں اپنا سیاسی کردار دیکھ رہے ہیں۔
