قطری شیخوں کے لیے 200 شاہین قطر بھجوانے کی اجازت

کپتان حکومت نے قواعد میں نرمی کرتے ہوئے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کو پاکستان سے تلور کا شکار کرنے والے 200 نایاب شاہینوں کو برآمد کرنے کی خصوصی اجازت دے دی ہے.
یاد رہے کہ عرب ممالک کے شیخ پاکستان میں پائے جانے والے نایاب پرندے تلور کو ویاگرا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہینوں کو برآمد کرنے کی اجازت دے کر حکومت نے غیر وائلڈ لائف مارکیٹ کے کالے دھندے کو قانونی کر دیا ہے کیونکہ شاہینوں کو پکڑنے، قید کرنے، فروخت کرنے اور غیر قانونی طور پر خریدنے پر پابندی عائد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات کے لیے اب ان شاہینوں کو غیر قانونی طور پر وائلڈ لائف کی تجارت کرنے والوں سے ہی خریدنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق نہایت نایاب قسم کے شاہینوں کی نسل ساکر اور پیراگرائن کو بین الاقوامی سطح پر تحفظ پانے والے تلور کے سردیوں کے موسم میں شکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ شاہین کی جب عمر زیادہ ہوجاتی ہے تو شکاریوں کو انہیں تبدیل کرکے نئے کم عمر شاہین لانے پڑتے ہیں جو تلور کا شکار مزید موثر انداز میں کرسکیں جس کی وجہ سے قطر نے برآمدات کی اجازت طلب کی تھی جو پاکستان نے دے دی۔ تیل کی دولت سے مالا مال عرب شکاری بڑی تعداد میں شاہین رکھتے ہیں تاکہ تلور کا شکار کرسکیں۔تاہم ان کی تعداد تیزی سےکم ہونے کو مد نظر رکھتے ہوئے شاہینوں کو قید کرنے اور ان کی تجارت کرنے پر پابندی عائد ہے لیکن تعلقات کی بنیاد پر حکومت عرب شہزادوں کو پاکستان میں نایاب پرندوں کے شکار اور ملک سے بھجوانے کی خصوصی اجازت دیتی رہتی ہے جو ملک میں ان نہایت نایاب پرندوں کی معدومیت کی بڑی وجہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ وزارت خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد عدیل پرویز کی جانب سے جاری ہونے والے برآمدات کا پرمٹ (نمبر: ڈی سی پی (پی اینڈ آئی) – 18/6/20-2019 شاہین / قطر) میں کہا گیا کہ سفارت خانہ 200 شاہینوں کو پاکستان سے قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے ذاتی استعمال کے لیے برآمد کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button