سیاست دانوں کے بعد پی آئی اے افسران نیب کے شکنجے میں آگئے

قومی احتساب بیورو (نیب) نے قومی ایئر لائن پی آئی اے میں ماضی میں کی جانے والی بھرتیوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔
ذرائع کے مطابق نیب نے ماضی میں ہونیوالی بھرتیوں کی تفصیلات کے لیے جنرل منیجر انڈسٹریل ریلیشن اور فوکل پرسن شعیب احمد ڈاہری کو خط لکھتے ہوئے پی آئی اے کے سابقہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ آر ڈائریکٹر کسٹمر کیئر تبسم عبدالقادر کے دور میں بھرتیوں کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی طرف سے پی آئی اے میں بھاری معاوضے پر کیڈٹ پائلٹ پائلٹس اور ٹیکنیشن اور انسپیکشن اسسٹنٹ اور اہم عہدوں پر بھرتیوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے پی آئی اے چیئر مین کے پرنسپل اسٹاف آفیسر اور ڈپٹی چیف انجینئر سید احمد کامران کے کوائف بھی طلب کر لئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے سابق سی ای او مشرف رسول سیان کے دور میں بھاری معاوضوں پر بھرتیوں سے ایئر لائن کو خسارے کا سامنا رہا،تاہم پی آئی اے کے سابقہ ادوار میں اہم عہدوں پر کام کرنے والے کئی افسران ملک سے باہر جا چکے ہیں۔
دوسری جانب اس حوالے سے ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے پی آئی اے میں بھرتیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ہدایات پر انکوائری شروع کی گئی ہے ، جس کے تحت پی آئی اے میں سابقہ ادوار میں بھرتیوں کی تفصیلات نیب نے طلب کی ہیں جس میں مکمل تعاون کیا جائے گا ۔ ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ شعیب احمد ڈاہری نیب کے معاملات میں فوکل پرسن مقرر کئے گئے تھے وہ نیب کی جانب سے طلب کئے گئے کوائف فراہم کریں گے۔
