قیدی خواتین کی کیمروں سے جاسوسی کون کروا رہا ہے؟

مریم نواز کی جانب سے ان کی قید کے دوران جیل کی بیرک اور باتھ روم میں کیمروں کے ذریعے جاسوسی کے انکشاف کے بعد خواتین کی جیلوں میں حالت زار سے متعلق بحث زور پکڑ گئی ہے کہ اگر بڑے سیاسی خانوادے کی خاتون کے ساتھ ایسا برا سلوک روا رکھا جاسکتا ہے تو عام عورت پر جیل میں کیا گزرتی ہو گی؟
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے جیل میں ان کے قید خانے میں کیمرے نصب کرنے کے الزامات کے بعد پاکستان میں جیلوں میں خواتین سے روا رکھے جانے والے سلوک اور انھیں دستیاب سہولتوں کے بارے میں ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں مریم کا کہنا تھا کہ عمران خان کی عورت کی عزت کرنے کے دعوے جھوٹ ہیں اور پاکستان میں میرے سمیت کوئی بھی خاتون ان کے دور حکومت میں محفوظ نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ جیل میں ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اور اگر وہ سب بتا دیا تو ان کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ مریم نے کہا کہ اگر میرے کمرے اور باتھ روم میں کیمرے لگائے جا سکتے ہیں تو پاکستان کی کوئی بھی خاتون محفوظ نہیں ہے۔
پاکستان میں خواتین قیدیوں کے حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس پیس پراجیکٹ کی لیگل اینڈ پالیسی سپیشلسٹ بیرسٹر سیدہ جگنو کاظمی نے بتایا کہ ملک بھر میں جیلوں میں قید خواتین کے حالات دیگر مرد قیدیوں سے مختلف نہیں ہیں۔پشاور اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ذاتی دورے کے تجربات کو بیان کرتے ہوئے جگنو کاظمی کا کہنا تھا کہ گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو جیل میں رکھنا تو عام بات ہے لیکن خواتین قیدیوں میں سب سے زیادہ مسئلہ ایسی خواتین کو ہوتا ہے جن کے ساتھ ان کے چھوٹے بچے ہوتے ہیں۔وہ کہتی ہیں ان میں سے کچھ خواتین کے بچے ان کے ساتھ جیل آتے ہیں اور چند ایک کے جیل میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ان خواتین کو ان کی پرورش، دیکھ بھال، پیپرز، اور دیگر ضرورتوں میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جیل کے دوروں کے دوران انھیں یہ علم ہوا کہ دو سال کی عمر تک کے بچوں کو جیل حکام اور فلاحی اداروں کی جانب سے دیے جانے والے عطیات کے ذریعے سوکھا دودھ دیا جاتا ہے لیکن ان کے لیے کھانا یا روزانہ کی خوراک وہ ہی ہوتی ہے جو جیل میں ماں کو ملتا ہے۔جگنو کاظمی نے بتایا کہ اگر نومولود بچے یا کسی چھوٹے بچے کی طبیعت خراب ہو جائے تو بھی ان خواتین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیل میں ایک ماہر نفسیات، ایک دندان ساز اور ایک عام ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہوتے ہیں لیکن کوئی ماہر اطفال نہیں ہوتا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ پشاور جیل اور اڈیالہ جیل میں چھوٹے بچوں کے لیے نرسری موجود تھی۔ جہاں چھوٹے بچوں کے لیے کھلونے وغیرہ موجود تھے۔
بیرسٹر جگنو کا کہنا تھا کہ جیلوں کے دورے کے دوران ہم نے خواتین سے جنسی استحصال کے متعلق سوال کیا جس پر انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔ تاہم اس سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ ایسے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ جگنو کاظمی کا کہنا تھا کہ جیلوں میں قید خواتین کا ایک اور سب سے بڑا مسئلہ سرکاری وکیل کا میسر نہ ہونا ہے۔’سرکاری وکیل نے برسوں سے کبھی ان خواتین کے مقدمات کو عدالتوں میں پیش ہی نہیں کیا۔ وہاں قید خواتین کو اپنے وکلا کا نام تک نہیں پتہ۔ان کا کہنا تھا کہ جیل اور قانون کا نظام اتنا بوسیدہ ہے کہ کچھ خواتین کو صرف دو برس کی قید ہوئی لیکن ان کے پاس ضمانت کے پیسے نہ ہونے کے باعث وہ کئی برسوں سے جیل میں ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ان خواتین کے ساتھ دوہرا ظلم یہ ہے کہ ایک وہ انتہائی غریب ہیں اور دوسرا وہ ان پڑھ ہیں، اس لیے جیل سے آزاد نہیں ہو پاتیں۔
واضح رہے کہ مریم نواز کے ان الزامات سے قبل سپریم کورٹ نے بھی وفاقی حکومت سمیت چاروں صوبائی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ملک کی مختلف جیلوں میں خواتین قیدیوں کو دستیاب سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں۔عدالت کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری کے معاملے پر کسی طور سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پاکستانی جیلوں میں قید خواتین قیدیوں کی حالت زار کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کی تو عدالت کو بتایا گیا کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے دو بڑے صوبوں، پنجاب اور سندھ میں جیلوں میں اصلاحات لانے کے لیے قانون سازی کر لی گئی ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان میں قانون سازی کے حوالے سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ وفاقی محتسب کی جانب سے مختلف جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز بھی دی گئی تھیں۔ ملک بھر کی مختلف جیلوں میں قید خواتین قیدیوں کے بارے میں ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ان کے لیے ہر جیل میں الگ سے بیرکیں بنانے کے علاوہ ان بیرکوں میں بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں، جن میں بیت الخلا کے علاوہ آرام کرنے کے لیے مناسب جگہ اور دیگر سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر کی مختلف جیلوں میں اس وقت خواتین قیدیوں کی تعداد 1300 کے قریب ہے جبکہ کم عمر قیدی بچوں کی تعداد نو سو سے زیادہ ہے۔ خواتین قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد 828 صوبہ پنجاب کی جیلوں میں ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تین صوبوں میں قائم جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہے جبکہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں قیدیوں کی تعداد جیلوں کی گنجائش سے کم ہے۔ بلوچستان میں گیارہ جیلیں ہیں جہاں پر قیدیوں کی گنجائش 2500 کے قریب ہے جبکہ اس وقت صوبے بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 2100 سے زیادہ ہے جن میں 23 خواتین قیدی بھی شامل ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت کے استفسار پر پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں کم عمر قیدیوں اور خواتین قیدیوں کے لیے الگ جگہ مختص کر دی گئی ہے۔
لیگی رہنما مریم نواز کی جانب سے جیل میں ان کی بیرک اور باتھ روم میں کیمرے لھنے ہونے کے الزامات کے بعد یہ ضروری ہے کہ وکلا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کو جیلوں کے ہنگامی دورے کروائے جائیں تاکہ حقیقت حال معلوم ہو۔ مریم کے الزامات کے بعد یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس حوالے سے باقاعدہ تحقیقات کروائی جائیں کہ آیا واقعی خواتین کی جیلوں میں کیمروں کے ذریعے ان کی فلم بندی کی جاتی ہے اور وہ اس سے یکسر بے خبر رہتی ہیں۔
