کیا عوامی دباؤ کی آڑ میں وردی والے قانون بھی توڑ سکتے ہیں؟


کراچی میں 18 اکتوبر کے روز آئی جی سندھ کو یرغمال بنانے اور مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑ کر ان کے شوہر کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنے کے واقعہ کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں آئی ایس آئی اور رینجرز کے 4 افسران معطل کر دیئے گئے۔ تاہم ان فوجی افسران کی جانب سے آئی جی سندھ کو یرغمال بنانے کی جو بھونڈی اور غیر قانونی توجیہہ انکوائری رپورٹ میں پیش کی گئی ہے وہ ابھی تک عوام کو ہضم نہیں ہو سکی اور ہر جانب زیر بحث اور زیر تنقید ہے۔
یاد رہے کہ فوجی انکوائری رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی اور رینجرز کے متعلقہ افسران نے یہ حرکت مزار قائد کی بے حرمتی کے بعد بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے تحت جذبات اور جوش میں آ کر کی تھی۔ یہ ادھوری رپورٹ آنے کے بعد سے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا ایک سیلاب نظر آتا ہے۔ صارفین کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ کوئی قانون ہوتا ہے، کوئی ضابطہ ہوتا ہے، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے پوچھا ہے کہ یہ نام نہاد عوامی دباؤ عوام کو نظر کیوں نہیں آیا اور وہ کونسا طریقہ تھا جس کے ذریعے آئی ایس آئی اور رینجرز والوں نے یہ خفیہ عوامی دباؤ ماپا اور ایکشن لینے کا فیصلہ کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ کیا ہم نہیں جانتے کہ نام نہاد عوامی دباؤ ڈالنے کے لیے جھوٹی ایف آئی آر کروانے والا حلیم عادل شیخ کا بھانجا جھوٹا نکلا ہے اور سندھ پولیس نے اس کو مفرور قرار دے دیا یے۔ ایک صارف فوجی دستوں کی 1999 میں پی ٹی وی ہیڈکوارٹر کا گیٹ پھلانگنے کی تصویریں شیئر کرتے ہوئے پوچھ رہا ہے کہ کیا یہ سب بھی عوامی ردعمل کے تحت تھا۔ ایک صارف نے فیض آباد دھرنے کے شرکاء میں فوجی افسران کی جانب سے پیسے تقسیم کرنے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ حرکت بھی عوامی دباؤ میں کی گئی؟ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ آخر انکوائری رپورٹ میں آئی ایس آئی اور رینجرز افسران کی جانب سے کی گئی غیر آئینی اور غیر قانونی حرکت کی یہ بھونڈی توجیح پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ عوامی دباؤ میں آگئے اور جذباتی ردعمل دکھا دیا۔ سب جانتے ہیں کہ دباؤ عوامی نہیں بلکہ عسکری تھا اور ردعمل جذباتی نہیں بلکہ سوچا سمجھا تھا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جن لوگوں نے پی پی پی اور پی ایم ایل این اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کے لیے یہ سارا منصوبہ ترتیب دیا وہ صاف بچ گئے اور دوبریگیڈیر اوردو کرنل قربانی کے بکرے بنا دیے گئے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی یہی موقف اختیار کرتے ہوئے فوج کی جانب سے کروائی گئی انکوائری رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے لفظ ریجیکٹڈ استعمال کیا ہے۔
یاد رہے کہ کراچی واقعہ کی انکوائری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر کی گئی۔ کورٹ آف انکوائری کی تحقیقات کے مطابق 18 اور 19 اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان رینجرز سندھ اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز مزار قائد کی بے حرمتی کے نتیجے میں شدید عوامی ردِ عمل سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں مصروف تھے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان رینجرز اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی  کے آفیسرز پر مزارِ قائد کی بے حرمتی کے بعد قانون کے مطابق بروقت کارروائی کیلئے عوام کا شدید دباؤ تھا۔ ان آفیسرز نے شدید عوامی ردِ عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے مدِ نظر سندھ پولیس کے طرزِ عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سُست روی کا شکار پایا۔
فوجی انکوائری رپورٹ کے مطابق اس کشیدہ مگر پُراشتعال صورتحال پر قابو  پانے کے لیے ان آفیسرز نے اپنی حیثیت میں کسی قدر جذباتی ردِ عمل کا مظاہرہ کیا اور ضرورت سے ذیادہ پر جوش ہو گے حالانکہ ذمہ دار اور تجربہ کار  آفیسرز کے طور پر انہیں ایسی ناپسندیدہ صورتحال پیدا کرنے سے گریزکرنا چاہیے تھا جس سے ریاست کے دو اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
فوجی کورٹ آف انکوائری کی اس ہوشربا رپورٹ کے انہی مندرجات سے متائثر ہو کر معروف لکھاری اور ناول نگار محمد حنیف نے بی جی سی کے کیے ایک پورا طنزیہ کالم لکھ مارا ہے۔ محمد حنیف اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ میرے شہر کراچی میں ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نامی ایک بندے کے خلاف پرچہ کٹوانا تھا، شاید گرفتار بھی کروانا تھا، کراچی کے حساب سے یہ ایک ایس ایچ او لیول کا کام تھا۔۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کراچی صدر کا کوئی ایک عام سا ایس ایچ او آواری ہوٹل پہنچ کر کہتا کہ صفدر کو ہمارے حوالے کر دو تو ہوٹل کے سکیورٹی گارڈ ہی انھیں کمرے سے نکال کر پیش کر دیتے۔ لیکن کچھ لوگوں کے جذبات قائد اعظم کے مزار پر انھیں ایوب آمریت کے خلاف لڑنے والی مادر ملت فاطمہ جناح کے حق میں نعرے لگاتے دیکھ کر بھڑکے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ اور جذباتی لوگوں سے کیا جنہوں نے جوش میں آ کر یہ جذباتی فیصلہ کیا کہ سندھ کے غیر جذباتی آئی جی کو ابھی اٹھا کر لاؤ اور کہو کہ اتنی رات گزر گئی پرچہ کیوں نہیں کٹا۔چنانچہ آئی جی اٹھا لیا گیا۔
حنیف لکھتے ہیں کہ پرچہ کٹ گیا پھر کچھ غیر جذباتی افسروں نے جذباتی جونیئرز سے تفتیش کی اور رپورٹ بھی جاری کی کہ بس ذرا ہمارے بندے تھوڑے جذبات میں بہہ گئے تھے لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ سندھ پولیس اتنی سست روی سے کام لے رہی تھی حالانکہ مزار قائد پر پر ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے سے بڑا جرم پاکستان میں آج دن تک سرزد ہی نہیں ہوا۔ تاہم سوال یہ بھی ہے کہ جب ماضی قریب میں عمران خان نے مزار قائد پر جلوس کی صورت میں جا کر ہلڑ بازی کی تھی اور ان کے ساتھیوں نے نعرے لگائے تھے تب عوامی ردعمل اور عسکری جذبات کیوں نہیں جاگے تھے۔ حنیف کے مطابق اس پورے معاملے میں ڈراؤنی بات یہ ہے کہ جو کام کراچی کا ایک ایس ایچ او کر سکتا تھا وہ کام ہمارے سپہ سالار جنرل قمر باجوہ کو کرنا پڑا اور پورے ایک مہینے تک ہمارے تجزیہ نگاروں اور ترجمانوں کو قلابازیاں لگانی پڑیں کہ یہ کام ہوا ہی نہیں، یہ تو ایک کامیڈی ہے، ہم نے تو کہا ہی نہیں کہ آپ ایسا کام کرو اور اب رپورٹ آ گئی تو پھر یہی کہا کہ ادارے نے تو اپنے جذباتی افسروں کی سرزنش کر لی لیکن وہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو کسی نے کیوں نہیں پکڑا؟
محمد حنیف کا کہنا ہے کہ کراچی میں اگر بندہ دو سال کی پوسٹنگ پر بھی آئے تو تھوڑا زیادہ جذباتی ہو جاتا ہے۔ قصہ کچھ یوں یے کہ میں نے کراچی کو الطاف بھائی کے چنگل سے چھڑانے کے لیے پہلے فوجی آپریشن کے دوران ایک کرنل صاحب کا انٹرویو کیا جو نئے نئے کراچی آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ بہت پریشان ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کا مسئلہ تو انھوں نے چٹکی بجا کر، کچھ لوگوں کو اٹھا کر، کچھ کو بٹھا کر حل کر لیا لیکن یہ بوٹ بیسن میں کیا ہو رہا ہے۔ میں نے کہا تکے کباب اور کیا، انھوں نے کہا وہاں پر ادھ ننگی لڑکیاں گھومتی ہیں، میرے جوان ڈیوٹی پر وہاں کھڑے ہیں، ساری رات ڈر لگتا ہے کہ کہیں غیرت میں آ کر مشین گن سے فائر ہی نہ کھول دیں۔ حنیف کے مطابق میں نے عرض کیا کہ ایسا بھی ماحول نہیں ہے جیسا آپ کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے مجھے بغیر آستین کی قمیض پہننے والی لڑکیوں اور حوالداروں کی نفسیات کے بارے میں لیکچر دیا۔ شکر ہے ان کی کمان میں حوالداروں نے اپنے جذبات پر قابو رکھا اور کوئی سانحہ نہیں ہوا۔ اس جذباتی قوم کے جذباتی اداروں میں ترقی کرنے کا واحد طریقہ یہ ہی ہے کہ تھوڑا سا غیر جذباتی ہو کر رہا جائے۔ جب جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن والے معاملے پر پٹیشن ہوئی کہ اس کا قانون ہی موجود نہیں ہے تو وہ بالکل جذباتی نہیں ہوئے۔ انھوں نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا تو قانون بنا دو، اور سب سلیکٹڈ، ریجیکٹڈ، ریاست کے اندر ریاست اور ریاست کے اوپر ریاست کا شور مچانے والوں نے بغیر جذباتی ہوئے سترہ منٹ میں قانون پاس کر دیا۔
تو ہمارے بڑوں کو چاہیے کہ وہ اداروں میں ہوں یا اداروں کے کسی گیٹ کے باہر کھڑے ہوں، تو وہ اپنے سے چھوٹوں کو بھی غیر جذباتی ہونے کا درس دیا کریں کیونکہ دل اس خیال سے دہل جاتا ہے کہ اگر کل کسی جذباتی نے چین میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی تصویریں دیکھ لیں اور رات کے پچھلے پہر دوسرے جذباتیوں سے کہا کہ ذرا اس سی پیک والے کو اٹھا کر لے آؤ، اس کو سمجھاتے ہیں۔ پھر دل کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ قوم جذباتی تو ہے لیکن اتنی بھی نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button