ایل این جی کیس: شاہد خاقان، مفتاح اسماعیل پر 16 نومبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایل این جی ریفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ان کے بیٹے عبد اللہ خاقان، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، سابق ایم ڈی سوئی سدرن گیس لمیٹڈ محمد امین اور سابق ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ملزمان کو 16 نومبر کو طلب کرلیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل احتساب عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی استدعا مسترد کردی تھی۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر قطر ایل این جی ٹرمنل ون منصوبہ کا ٹھیکہ غیر شفاف طریقہ سے دینے پر دو ریفرنسز دائر کیے جا چکے ہیں۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی کابینہ میں بطور وزیر پٹرولیم منصوبے کا ٹھیکہ دیا جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔نیب کے مطابق ملزمان نے ایل این جی ٹرمینل ون کے سلسلے میں کمپنیز کو 14 ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچانے کےلیے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور اب تک مجموعی طور پر 21 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔ جب کہ ٹھیکے کی مدت ختم ہونے تک قومی خزانے پر مزید 47 ارب روپے کا نقصان اٹھانے پڑے گا۔ نیب کے پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سال 2013 سے 2017 تک شاہد خاقان عباسی کے اکاؤنٹ میں 1 ارب 29 کروڑ جب کہ ان کے بیٹے عبد اللہ خاقان کے اکاؤنٹ میں 1 ارب 60 کروڑ روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن کی گئی تھی جب کہ ایل این جی منصوبے کی ڈیل اسی دوران کی گئی تھی۔ شاہد خاقان کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے سماعت کے دوران ایک بار پھر نیب کی جانب سے متعلقہ دستاویزات فراہم نہ کرنے کا اعتراض اٹھایا اور کہا کہ نیب کے مطابق اب بھی منصوبے سے قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے تو ایک جرم اگر جاری ہے تو اس پر فرد جرم کیسے عائد ہو سکتی ہے۔ احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم کے وکیل کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا آپ کو تمام دستاویزت فرد جرم سے پہلے فراہم کر دی جائیں گی جب کہ کراچی میں موجود ملزمان پر فرد جرم ویڈیو لنک کے ذریعے عائد کی جائےگی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 نومبر تک ملتوی کر دی۔
