لاہور میں سات لاکھ کرونا مریض ہیں تو ملک بھر میں صرف 77 ہزار کیسے؟

وفاقی حکومت کے ملک میں کرونا کے صرف 77 ہزار مریضوں کی موجودگی کے دعوے کی اس وقت قلعی کھل گئی جب محکمہ صحت پنجاب نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھجوائی گئی خفیہ سمری میں انکشاف کیا کہ صرف لاہور میں کرونا مریضوں کی تعداد 6 لاکھ 70 ہزار 8سو سے تجاوز کر چکی ہے اور شہر کا کوئی علاقہ کرونا وباء سے محفوظ نہیں رہا۔ محکمہ صحت پنجاب کی سمری سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک بھر میں یہ وباء کس حد تک خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت نےسب اچھا کی گردان الاپتے ہوئے کرونا سے بچنے کی ذمہ داری عوام پر ڈال کر تمام کاروبار زندگی کھول دیا ہے۔
طبی ماہرین ملک میں لاک ڈاؤن نرم کرنے کے حکومتی اقدامات کو عوام کو موت کے منہ میں دھکیلنے کا سبب قرار دے رہے ہیں۔ پرائمری اینڈ سیکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو کرونا کی صورتحال کے حوالے سے ارسال کی گئی سمری میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاہور میں ‘کوئی بھی کام کی جگہ یا رہائشی علاقہ کرونا وباء سے محفوظ نہیں رہا۔ ایک تخمینے کے مطابق صرف لاہور میں کرونا متاثرین کی تعداد 6 لاکھ 70 ہزار 800 سے تجاوز کر چکی ہے۔ سمری میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی علامات کے بغیر سامنے آنے والے کیسز شہر میں انفیکشن اور مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کا سبب بن رہے ہیں۔ محمکمہ صحت کی طرف سے لاہور شہر کے تمام علاقے متاثرہ ہونے کی وجہ سے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئےشہر میں مکمل سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
سمری میں بتایا گیا کہ محکمہ صحت کی طرف سے ایک طریقہ کار وضع کر کے لاک ڈاؤن کے دوران کام کرنے والوں میں بیماری کی موجودگی کا پتہ لگانے کیلئے شہر کےچند مقامات پر اہداف مقرر کر کے لوگوں کے آرٹی ایس ٹیسٹ اور اسمارٹ سیمپلنگ کی گئی۔ اسمارٹ سیمپلنگ کے ذریعے عام آبادی میں وائرس کے پھیلاؤ کا پتہ چلا۔
سمری میں بتایا گیا کہ محکمہ صحت کی جانب سے ٹیسٹوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ایک کروڑ 10لاکھ آبادی کے حامل لاہور شہر میں اس وقت کرونا وائرس کے 6لاکھ 70ہزار 800 کیسز موجود ہیں تاہم یکم جون تک پورے صوبہ پنجاب میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کرونا کے مریضوں کی تعداد صرف 26ہزار 240 ظاہر کی گئی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق اس عمل سے مقامی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ اور منتقلی کی ایک انتہائی خطرناک شکل نکل کر سامنے آئی جس سے شہر میں مختلف اہم مقامات اور وائرس کا مرکز تصور کیے جانے والی کام کی جگہوں اور رہائشی علاقوں سے رپورٹ ہونے والے کیسز کا موازنہ کیا جا سکتا ہے اور وہاں آر ٹی ایس کے کیسز کی شرح 5.18فیصد اور اسمارٹ سیمپلنگ کی شرح 6.01 فیصد ہے۔ وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی سمری کے مطابق شہر کے کسی بھی علاقے میں کوئی بھی کام کی جگہ یا رہائشی علاقہ اس بیماری سے محفوظ نہیں اور لاہور میں وائرس کی منتقلی کا ایک خطرناک رجحان نظر آرہا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں کیے جانے والے ٹیسٹوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے سمری میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ان میں سے 6فیصد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جبکہ شہر کے کچھ علاقوں میں یہ شرح 14.7فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جن کیسز میں علامات ظاہر نہیں ہو رہیں وہ کیسز کی طور پر رپورٹ نہیں ہو رہے لیکن یہ کیسز کی منتقلی اور انفیکشن کا اصل ذریعہ ہیں اور شہر میں کرونا متاثرین کی شرح 2.11 سے 9.33 فیصد کے درمیان ہے۔
صرف لاہور میں پونے سات لاکھ کرونا متاثرین کی موجودگی کا دعویٰ اس بات کا غماز ہے کہ کرونا نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے اس صورتحال میں حکومت کو اپنے جھوٹے موقف پر ہٹ دھرمی دکھانے کی بجائے عوامی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں۔
