جاسوس کبوتراور ٹرینڈ ٹڈی دل کے بعد بھارتی میڈیا کی ایک اور بونگی

اپنی پاکستان دشمنی میں بھارتی میڈیا جس تیزی کے ساتھ مضحکہ خیز رپورٹنگ کے ذریعے اپنی ساکھ کا جنازہ نکال رہا ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ اڑ کر سرحد پار بھارت چلے جانے والے ایک کبوتر کو پاکستانی جاسوس قرار دینے کے بعد اب اسی میڈیا نے بھارت میں حملہ آور ٹڈی دل کو پاکستانی تربیت یافتہ دہشت گرد قراردیا ہے جو چن چن کر فصلوں پر حملہ کر رہے ہیں اور تباہی مچا رہے ہیں۔
لطیفہ باز بھارتی میڈیا نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ جہالت ور غیر ذمہ داری کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے PLA کو پیپلز لبریشن آرمی کی بجائے پاکستان لبریشن آرمی قرار دے دیا جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ جہالت پر مبنی یہ واقعہ
انڈین ٹاک شو ’نیوز آر 9‘ کے ایک پروگرام میں رونما ہوا جب انڈیا کے معروف خبر رساں ادارے ٹائمز ناؤ سے وابستہ نیوز اینکر ناویکا کمار نے اپنے ٹاک شو میں ایک تصویر نشر کی جس پر درج تھا ’پی ایل اے‘ کا جنگی ماڈل۔
بعد ازں ناویکا کمار نے اس ماڈل کو پاکستان سے جوڑے ہوئے اسے ’پاکستان لبریشن آرمی‘ کا قرار دے ڈالا حالانکہ پی ایل اے سے مراد چین کی مسلح افواج ہیں جنھیں پیپلز لبریشن آرمی کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور یہ بات بچہ بچہ جانتا ہے۔
اب یہ نیوز اینکر کی جہالت تھی یا جھوٹ بول کر ریٹنگ حاصل کرنے کا ایک طریقہ، لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس واقعہ نے بھارتی میڈیا کی ساکھ پر ایک اور بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ دراصل اپنے ٹی وی کے ریموٹ کا بٹن ڈباتے ہی پاکستان اور انڈیا کے ناظرین ایک ایسی دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں ڈرامائی انداز میں بات کرنے کا طریقہ اب ایک روایت بن گیا ہے۔ یہ مناظر کسی معروف پاکستانی ڈرامے یا بالی ووڈ فلم کے نہیں ہوتے بلکہ روز نشر ہونے والے ٹاک شوز کے ہوتے ہیں جنھیں دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لوگوں کو وہ آرمی بوٹ بھی یاد آیا ہے جو وفاقی وزیر برائے آبی وسائل ایک ٹاک شو میں اٹھا لائے تھے۔ ٹاک شو میں استعمال ہونے والے نازیبا الفاظ اور مہمانان گرامی کے ایک دوسرے کو رسید کیے جانے والے تمانچوں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔
انڈیا کے نجی چینل ریپبلک ٹی وی کے ایک ٹاک شو کی ویڈیو حال ہی میں خاصی وائرل ہوئی جہاں پاکستان سے مدعو کیے گئے ایک مہمان نے اپنے انڈین حریف کو میزائل کا ایک ماڈل دکھا کر دھمکیاں دیں اور خوب گالم گلوچ کی۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے مہمان اس کا جواب نہ دیں اور اگلے دو منٹ انڈین صاحب نے بھی جواب میں نیزے کا ایک ماڈل دکھایا اور ہر لفظی حملے کا ترکی با ترکی جواب دیا۔ جبکہ شو کے میزبان ارنب گوسوامی نے اس دوران مداخلت نہیں کی اور ہنستے رہے۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ارنب گوسوامی کے متنازع اور شعلہ بیان انداز گفتگو کا خوب چرچا رہتا ہے۔ چند روز قبل ریپبلک ٹی وی کے اینکر نے اپنے شو میں دعویٰ کیا کہ انڈیا میں کھیتوں اور فصلوں کو برباد کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے ٹڈی دل کے حملے کئے جا رہے ہیں۔ ارنب یہاں رُکے نہیں اور مذید کہا کہ یہ ٹڈی دل تربیت یافتہ ہے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
اس پر فیک آلٹ نیوز کے بانی پرتیک سنھا نے سوال کیا کہ ’اس نجی چینل کا اگر کوئی سابقہ صحافی نوکری کی تلاش میں نکلے گا تو وہ اپنی کس صحافتی کامیابی کا ذکر کرے گا؟‘ انہوں نے مزید یاد لوایا کے اس سے چند روز پہلے بھارتی میڈیا نے پاکستان سے آنے والے ایک کبوتر کو تربیت یافتہ پاکستانی جاسوس قرار دے کر یہ بھی دعویٰ کر دیا تھا کہ اس سے جاسوسی کے آلات بھی برآمد ہوئے ہیں ۔لیکن بعد میں یہ دعوی جھوٹ ثابت ہوا اور بھارت کو سرحد پار رہنے والے ایک پاکستانی شوقین کا کبوتر بھی واپس اڑانا پڑگیالیکن اوپر تلے مضحکہ خیز رپورٹنگ کے ان واقعات سے ایک بات طے ہو گئی ہے کہ بھارتی میڈیا پاکستان دشمنی میں اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button