لاہور میں کڑاکے کی ٹھنڈ پڑنے کی وجہ سامنے آ گئی

لاہور میں ریکارڈ توڑ کڑاکے کی ٹھنڈ پڑنے کی بنیادی وجہ دنیا بھر کے ایکو سسٹم میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں جن کے باعث ممکنہ طور پر رواں برس مارچ اور اپریل میں بھی درجہ حرارت ماضی کی نسبت کافی کم رہے گا اور خوش کن طور پر گرمیوں کے موسم میں بھی پارہ ماضی کے مقابلے میں کم رہنے کی امید ہے۔
لاہور کو ان دنوں لندن سے بھی کم ٹمپریچر کا سامنا ہے اور غیر متوقع شدید سردی کی لہراس وقت ٹاک آف دا ٹاؤن بنی ہوئی ہے۔ نئے سال کا پہلا دن یعنی یکم جنوری 2020 کی صبح موجودہ موسم سرما کی سرد ترین صبح تھی جب درجہ حرارت دو سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ سردی کی یہ شدید لہر ابھی کچھ دن اور چلے گی۔ ماہرین موسمیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لاہور کا درجہ حرارت دو سے نیچے بھی جا سکتا ہے کیونکہ ماضی میں لاہور کا درجہ حرارت صفر تک بھی پہنچا تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شدید سردی کی موجودہ لہر صرف لاہور میں ہی نہیں بلکہ اس وقت ملک کے شمالی علاقہ جات بھی شدید سردی اور برف باری کی لپیٹ میں ہیں اور سرد ہوائیں چل رہی ہیں جبکہ پاکستان کے جنوب میں بھی سائیبرین ہوائیں کراچی کے ساحلوں پر پہنچ چکی ہیں جس کی وجہ سے وسطی پاکستان بھی سردی کی اسی لہر کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ خاص طور پر وسطی اور جنوبی پنجاب کے باسی بھی اس سرد موسم کی زد میں ہیں لیکن یہ کوئی غیر معمولی صورت حال نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مرتبہ تھوڑی غیر معمولی سردی اس لیے بھی محسوس ہو رہی ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں زیادہ شدت کی سردی نہیں پڑی لہذا لوگ کم سردی کے عادی ہو گئے تھے۔ ایسے میں جب عوام کی طبیعت کم سردی کی عادی ہے تو نارمل سردی بھی کچھ زیادہ ہی محسوس ہوتی ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے مطابق آئندہ ہفتے بارشوں کے ایک چھوٹے سلسلے کی توقع ہے جس سے دھند میں کمی آئے گی اور سورج نکلنے سے سردی کی شدت میں بھی کمی واقع ہو گی۔ موسم کا حال بتانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ شدید سردی اس اعتبار سے فائدہ مند بھی ہے کہ ان حالات میں اس بار سردیوں کے موسم کا دورانیہ بھی تھوڑا زیادہ ہونے کا امکان ہے اور ممکنہ طور پر مارچ اپریل تک موسم خوشگوار ہی رہے گا۔
ماہرین موسمیات کے مطابق موسم کی بے اعتنائی میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا بڑا عمل دخل ہے بلکہ اس موسم کو ماحولیاتی تخریب کاری سے ہٹ کے دیکھنا ممکن ہی نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی بھی ایک خطے کا موسم پورے ایکو سسٹم سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا. ماحولیاتی تبدیلیوں کے جو اثرات اس وقت پوری دنیا میں مرتب ہو رہے ہیں اس میں ہمارے خطے کے حصے میں کتنا اور کیسے آتا ہے، اس کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال موسمِ گرما شاید اتنی شدت کا نہ ہو جتنی شدت کا پچھلے سال محسوس کیا گیا اس کی ایک وجہ سردی کے موسم کی طوالت اور پھر مون سون کے دو دور ہیں کیونکہ اب پری مون سون بھی بارشوں کا ایک الگ سے موسم بنتا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button