لاہور کا ایک پرانا گھر اکھاڑ کر امرتسر کیوں لیجایا گیا؟

’میرے خاندان کا تعلق پاکستان سے ہے اور میں ہمیشہ سے ہی پاکستان جانے کی خواہشمند ہوں کیوںکہ میں لاہور دیکھنا چاہتی ہوں۔ میرے دادا تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان سے انڈیا آئے تھے اور اپنا گھر دیکھنے لاہور جانا چاہتے تھے لیکن فوج میں ہونے کی وجہ سے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ اب میں انکی یہ خواہش اپنی آنکھوں سے پوری کرنا چاہتی ہوں‘۔ یہ کہنا ہے بالی ووڈ اداکارہ راکول پریت سنگھ کا جنہوں نےامرتسر اور لاہور سے متعلقہ ایک بھارتی فلم ’سردار کا گرینڈ سن‘ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
حال ہی میں نیٹ فلیکس پر ریلیز ہونے والی اس فلم میں کام کرنے والے اداکار ارجن کپور اور نینا گپتا بھی پاکستان دیکھنے کے متمنی ہیں۔ یاد رہے کہ فلم ‘سردار کا گرینڈ سن’ میں نینا گپتا نے امرتسر میں رہنے والی ایک ایسی 90 سالہ بوڑھی دادی کا کردار ادا کیا ہے جو تقسیم ہند کے وقت لاہور سے ہجرت کر کے کے بھارت چلی گئی تھی اور اب مرنے سے پہلے ایک مرتبہ لاہور جا کر اپنا پرانا گھر دیکھنا چاہتی ہے لیکن اسے پاکستان کا ویزہ نہیں مل پاتا جس کے بعد نینا گپتا کے پوتے کا کردار ادا کرنے والے ارجن سنگھ لاہور پہنچ کر اپنی دادی کا آبائی گھر اپنی گرل فرینڈ کا کردار ادا کرنے والی راکول پریت سنگھ کی مدد سے بذریعہ ٹیکنالوجی اکھاڑ کر بھارت لے جانے کا کارنامہ سرانجام دیتے ہیں۔
فلم کی کہانی ایک دادی اور پوتے کے رشتے کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ امریکہ سے واپس آنے والا پوتا ارجن کپور کیسے اپنی دادی نینا گپتا کی آخری خواہش پوری کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ نینا گپتا، جنہوں نے سردارنی کا کردار ادا کیا ہے، چاہتی ہیں کہ ان کا پوتا انہیں لاہور میں واقع ان کے آبائی گھر لے جائے اور اگر وہ ایسا کر لیتا ہے تو وہ اپنا سارا بزنس انہیں دے دیں گی۔لیکن پوتا انہیں لاہور لے جانے کی اجازت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا اور فیصلہ کرتا ہے کہ وہ ان کے آبائی گھر کو اکھاڑ کر امرتسر لے آئے گا۔
فلم کے بارے میں نینا گپتا کا کہنا ہے کہ یہ جذبات اور ہنسی سے بھرپور ہے اور اس کو گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جاسکتا ہے۔ ‘سردار کا گرینڈ سن’ کی شوٹنگ گذشتہ سال کرونا وائرس کی وبا کے دوران ہوئی تھی۔ اس کو سینما گھروں میں ریلیز کیا جانا تھا تاہم بعدازاں ہدایتکار بھوشن کمار نے فیصلہ کیا کہ فلم کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ریلیز ہونا چاہیے تاکہ ان تمام لوگوں تک پہنچ سکے جن کے لیے یہ فلم بنائی گئی ہے۔
ایک انٹرویو میں اداکارہ سری دیوی کے سوتیلے بیٹے ارجن کپور کا کہنا تھا کہ فلم کی زیادہ تر شوٹنگ امرتسر اور دہلی میں کی گئی ہے لیکن انہیں لاہور بنا کر دکھایا گیا ہے، تاہم ان کی خواہش ہے کہ وہ اصل لاہور کو خود جا کر دیکھیں۔ ارجن نے کہا کہ کووڈ کے دوران جس طرح پاکستانی عوام اور فنکاروں نے انڈیا کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور انڈین عوام کے دکھ میں ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے اس سے صاف ظاہر ہے کہ دونوں طرف کے عوام کے دل ملے ہوئے ہیں۔ ارجن کپور نے امید ظاہر کی کہ کووڈ کے بعد بھی یہ رشتہ سیاست کی نظر نہ ہو بلکہ برقرار رہے۔ فلم میں دادی کا کردار ادا کرنے والی نینا گپتا کا کہنا تھا کہ ان کی یہ فلم سرحد کے دونوں جانب رہنے والوں کے جذبات کو جوڑے گی اور لوگ اس میں اپنائیت محسوس کریں گے۔ نینا کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ خراب نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ماحول خراب کیا جاتا ہے۔ نینا نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے جب وہ نیو یارک گئیں تو پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے ان سے کرایہ لینے سے انکار کر دیا جس سے ظاہر ہے کہ لوگ سرحد کی پروا کیے بغیر ہم سے محبت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ انڈیا میں کووڈ بحران کے دوران پاکستانی اداکار اور گلوکار علی ظفر سمیت ملک کے کئی فنکاروں نے انڈیا کے لیے گیت گائے اور محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بھی دونوں ملکوں کے عوام رابطے میں رہے اور ایک دوسرے کے لیے دعائیں کیں۔
دوسری جانب فلم سردار کا گرینڈ سن میں ارجن کپور کے کردار کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے جو لاہور کے لوگوں کی مدد سے اپنی دادی کا پرانا گھر اکھاڑ کر بھارت لے جانے میں کامیاب ہوتے ہیں حالانکہ شہر کا میئر اس کام میں ہر طرح کے روڑے اٹکاتا ہے۔ کپور خاندان کا پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق نیا نہیں بلکہ ارجن کپور کے والد اور فلمساز بونی کپور کی فلم ’مام‘ میں پاکستانی اداکارہ سجل علی اور عدنان صدیقی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ اسی خاندان کے چشم و چراغ سنجے کپور سے جب ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ اگر انھیں ماضی کی کسی شخصیت کی روح سے بات کرنے کا موقع ملے تو وہ کس سے بات کرنا پسند کریں گے، تو سنجے نے کہا کہ وہ شاہ جہاں سے بات کرنا چاہیں گے اور ان سے رومانس پر مشورہ کریں گے۔ سنجے نے کہا کہ شاہ جہاں ایسے رومانٹک شہنشاہ تھے جنھوں نے شاندار عمارتیں تعمیر کروائیں خاص طور پر تاج محل جو محبت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔
