کابینہ سے نکالے گے وزراء کی شیڈو کابینہ تیار ہو گئی

وزیراعظم عمران خان کی کابینہ دنیا کی وہ واحد کابینہ ہے جس میں کرپشن اور نااہلی کے الزامات پر فارغ ہونے والے وزراء کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انکی ایک شیڈو کابینہ بنائی جا سکتی ہے۔
وزیر اعظم کے ذاتی دوست اور معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی سید ذوالفقار بخاری راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں اپنا نام آنے کے بعد وفاقی کابینہ سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ لیکن زلفی کپتان کی کابینہ کے پہلے رکن نہیں جنہوں نے کرپشن سکینڈل میں الزام لگنے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہو۔ پچھکے تین برس میں وفاقی کابینہ سے فارغ ہونے والے وزرا کی تعداد اتنی ذیادہ ہے کہ برطانیہ کی شیڈو کابینہ کی طرز پر تحریکِ انصاف حکومت کے فارغ ہونے والے وزرا کی ایک شیڈو کابینہ‘ تیار کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ ماضی میں کرپشن اور نااہلی کے الزامات پر استعفے دینے والے کئی وزرا کو عمران خان نے دوبارہ کابینہ کا حصہ بنا لیا۔
زلفی بخاری سے پہلے وفاقی کابینہ کے جو ارکان مختلف وجوہات کی بنیاد پر استعفے دے چکے ہیں ان میں سرفہرست اسد عمر ہیں، جنہیں عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر خزانہ مقرر کیا تھا لیکن کچھ عرصے بعد انہیں نا اہلی کے الزام پر وزارت خزانہ سے فارغ کر کے وزارت منصوبہ بندی سونپ دی گئی تھی۔ کابینہ سے نکالے جانے والے دیگر افراد میں سینیٹر اعظم سواتی، ڈاکٹر بابر اعوان، فردوس عاشق اعوان، ڈاکٹر فروغ نسیم، ارباب شہزاد، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، ندیم افضل چن، ڈاکٹر ظفر مرزا، تانیہ ایدروس اور عامر کیانی شامل ہیں۔ تاہم مختلف مسائل، سکینڈلز اور الزامات کی بنا پر مستعفی ہونے کے باوجود ان میں سے کئی خوش قسمت افراد دوبارہ کابینہ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ کچھ کی وزارتیں تبدل کر دی گئی ہیں۔ اس وقت وفاقی کابینہ میں ایسے وزرا بھی شامل ہیں جن کی وزارتیں بار بار تبدیل کرنے کے باوجود انہیں کابینہ سے نہیں نکالا گیا۔ ان میں بڑے نام شیخ رشید احمد، مخدوم خسرو بختیار، فواد چوہدری اور شبلی فراز کے ہیں۔
دوسری طرف پنجاب کابینہ میں بھی ایسے ارکان شامل ہیں جنہیں مقدمات، تنازعات اور بیانات کے باعث اپنے عہدوں سے استعفے دینے پڑے۔ ان میں سرفہرست عبدالعلیم خان، فیاض الحسن چوہان، شہباز گل، اسد کھوکھر اور عون چوہدری ہیں جبکہ کئی معاونین کبھی وفاق اور کبھی پنجاب میں اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا بھی اس معاملے میں پنجاب سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں اور وہاں بھی کابینہ کے ارکان کی آمد اور رخصت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان کی کابینہ میں کئی ایسے افراد ہیں جو مختلف وجوہات کی بنیاد پر کابینہ سے رخصت ہوئے اور پھر واپس شامل کر۔لیے گے۔ ان میں سب سے اہم ترین نام عاطف خان اور انکے کزن شہرام ترکئی کے ہیں۔ ان کے علاوہ ضیا اللہ بنگش، غزن جمال اور حمایت اللہ خان بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کے وزیراعلی جام کمال کی کابینہ سے بھی کئی وزراء مستعفی ہو چکے ہیں جن میں اسلم بھوتانی، سردار سرفراز ڈومکی، مٹھا خان نور محمد دمڑ، سردار مسعود اور محمد خان شامل ہیں۔
وفاقی کابینہ سے مستعفی ہونے والے وزرا اور معاونین میں ایسے منتخب و غیر منتخب افراد شامل ہیں جو کرپشن سمیت مختلف الزامات کی زد میں آ کر مستعفی ہو کر دوبارہ کچھ عرصے بعد کپتان کی ٹیم میں شامل ہو چکے ہیں.
سابق وزیر خزانہ اسد عمر کے مستعفی ہونے کے بعد عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا لیکن سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر شکست کے بعد انہوں نے بطور وزیر خزانہ کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی جگہ پہلے حماد اظہر کو وزیر خزانہ اور پھر شوکت ترین کو مشیر خزانہ بنایا گیا ہے۔ شوکت ترین تحریک انصاف کے تین سالہ دور میں وزارت خزانہ کا چارج سنبھالنے والے چوتھے فرد ہیں۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو فواد چوہدری کی جگہ وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان سونپا گیا تھا لیکن ایک سال بعد ان سے یہ عہدہ واپس لے کر مشیر کا عہدہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ جبکہ وزارت کا قلم دان شبلی فراز کو دے دیا گیا تھا۔ بعد میں فردوس کو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کر دیا گیا۔
پاپا جونز پیزہ سکینڈل سے بدنامی کمانے والے سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا تھا لیکن کرپشن الزامات کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ۔ ان کے پہلی بار پیش کیے گئے استعفے کو وزیر اعظم نے منظور نہیں کیا تھا۔ تاہم بعدازاں فوجی قیادت کے ایماء پر عمران خان نے عاصم باجوہ کو بطور معاون خصوصی فارغ کر دیا تھا لیکن انہیں چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے پر برقرار رکھا تھا لیکن بلوچستان ہائی کورٹ میں ان کا یہ عہدہ چیلنج ہو چکا ہے اور ان کی چیئرمین شپ خطرے میں ہے۔
اسی طرح وزیر صحت کے عہدے پر تعینات رہنے والے عامر کیانی کو ادویات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد الزامات پر مستعفی ہونا پڑا تھا۔ نندی پور کرپشن سکینڈل کی تحقیقات کے دوران اپنی وفاداریاں بدلنے کی وجہ سے بدنام بابر اعوان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جو اس وقت مشیر پارلیمانی امور تھے۔ تاہم عمران خان نے انہیں دوبارہ مشیر پارلیمانی امور کے عہدے پر تعینات کر دیا۔
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر اعظم سواتی کو اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال پر سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا لیکن بعد میں عمران نے انہیں وزارت ریلوے کا چارج دے دیا۔ یاد رہے کہ اعظم سواتی فراڈ اور کرپشن کے مقدمات میں مطلوب ہونے کے بعد امریکہ سے سے نقل مکانی کر کے پاکستان آ گئے تھے۔
لیکن کپتان کے تین سالہ دور اقتدار میں جس وزیر نے سب سے زیادہ مرتبہ اپنی وزارت سے استعفی دینے کے بعد وہی وزارت دوبارہ سنبھالی وہ فوجی اسٹیبلشمینٹ کے کاسہ کیس اور ایم کیو ایم کے لوٹے فروغ نسیم ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ ان کے استعفیٰ دینے کے بعد کسی اور کو انکی وزارت کبھی نہیں سونپی گئی۔ فروغ تین سالہ دور میں دو بار اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد تیسری بار کابینہ کا حصہ ہیں۔ وہ پہلی بار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران مستعفی ہوئے جبکہ دوسری بار جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے خلاف وفاق کی نمائندگی کے لیے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
قومی اسمبلی کے سابق رکن اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سابق چیئرمین ندیم افضل چن وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان کے عہدے پر تعینات رہنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگے تھے۔ ان کے استعفے کی وجہ سیاسی اختلافات بتائی گئی تھی۔
موجودہ وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان اس سے قبل وزیر پیٹرولیم کے عہدے پر رہ چکے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان کے مطابق غلام سرور خان کو گیس کے بلوں میں اضافے پر لاپروائی کے باعث اپنے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
سابق وزیر مملکت برائے داخلہ اور وزیر مملکت برائے نارکوٹکس رہنے والے شہریار آفریدی کو رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات سمگلنگ کے الزامات ثابت نہ کر سکنے پر فارغ کر کے چئیرمین کشمیر کمیٹی بنا دیا گیا تھا۔
گذشتہ سال پیٹرولیم بحران پر تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی بھی گذشتہ سال فروری میں مستعفی ہو گئے تھے۔ مبینہ طور پر ان پر بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد استعفیٰ لیا گیا تھا۔
پنجاب کابینہ سے مستعفی ہو کر دوبارہ شامل ہونے والے ارکان میں کئی منہ پھٹ وزراء بھی شامل ہیں.پنجاب کابینہ کے رکن فیاض الحسن چوہان کو ہندو برادری کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کرنے پر اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا تھا لیکن چند ماہ بعد انہیں دوبارہ پنجاب کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔ پنجاب کابینہ کے رکن اور تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان اپنے خلاف نیب تحیقات کے دوران اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔انہیں نیب نے اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا تھا۔ رہائی کے بعد وہ دوبارہ پنجاب کابینہ کا حصہ بن چکے ہیں۔
