لاہور: کسانوں کا دھرنا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ

پولیس اور کسانوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے ٹھوکر نیاز بیگ کا علاقہ میدان جنگ بن گیا، پولیس کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنے پر بیٹھے کسانوں پر کیمیکل ملے پانی کا استعمال اور شیلنگ کی گئی جب کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں میڈیا سمیت کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، پتھرائو سے ایک راہگیر بھی زخمی ہوگیا، پولیس نے متعدد کسانوں کو حراست میں لے لیا، اپوزیشن نے پنجاب پولیس کی جانب سے کسانوں پر تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے مطالبات کے حق میں مختلف اضلاع سے آنے والے کسانوں نے دوسرے روز بھی ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر دھرنا جاری رکھا جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات درپیش رہیں۔ ایس پی صدر حفیظ الرحمان بگٹی کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور ٹھوکر نیاز بیگ کو دونوں طرف سے کھلوانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ایس پی ہدایت پر پولیس نے دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پر واتر کینن کے ذریعے کیمیکل ملے پانی کا استعمال شروع کر دیا جب کہ اس دوران پولیس کی جانب سے شیلنگ بھی کی گئی۔ مظاہرین نے منتشر ہو کر پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس سے ٹھوکر نیاز بیگ کا علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔ پتھراؤ سے میڈیا سمیت کئی گاریوں کو بھی نقصان پہنچا جب کہ ایک راہگیر بھی پتھر لگنے سے شدید زخمی ہو گیا۔
بعد ازاں پولیس نے مظاہرین کی گرفتاریاں بھی شروع کر دیں اور متعدد کسانوں کو گرفتار کرکے گاڑیوں میں ڈال کر وہاں سے لایا گیا۔ اس دوران کچھ مظاہرین موٹر وے پر چڑھ گئے اور پنجاب حکومت اور پولیس کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ آپریشن کی نگرانی کرنے والے ایس پی حفیظ الرحمن بگٹی کی ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں پولیس کو مظاہرین پر واٹر کینن کے ذریعے کیمیکل ملے پانی کے استعمال کی ہدایات دی جارہی ہیں۔ ایس پی کو یہ کہتے بھی سنا اور دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین کو چھٹی کا دودھ یاد آنا چاہیے اور انہیں کھینچ کر رکھا جائے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے پولیس کی جانب سے واٹر کینن اور شیلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے گرفتار کسانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
