نواز لیگ میں مفاہمتی بیانیے والوں کی حیثیت علامتی رہ گئی


سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے واضح الفاظ میں اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنانے کے بعد مسلم لیگ ن میں اب پارٹی کے صدر شہباز شریف شریف کے مفاہمتی دھڑے کی حیثیت کم ہو کر علامتی حد تک رہ گئی ہے اور مزاحمتی بیانیہ تیزی سے لیگی سیاست پر غالب آتا جا رہا ہے۔
حکومتی حلقوں کا اصرار ہے کہ نواز لیگ نظریاتی طور پر دو حصوں بٹ چکی ہے لیکن لیگی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس دعوے میں کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ شہباز شریف نے اپنی نیب کے ہاتھوں دوبارہ گرفتاری سے بہت پہلے ہی نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کی حمایت کر دی تھی اور اسی وجہ سے ان کو گرفتار بھی کیا گیا۔ لیگیوں کا کہنا یے کہ نواز شریف نے پاکستانی سیاست میں مداخلت کرنے والی فوجی قیادت کا نام لے کر اپنی کشتیاں جلا دی ہیں اور اب ان کے پاس مزاحمتی بیانیے کے علاوہ اور کوئی بیانیہ اپنانے کی گنجائش نہیں ہے۔ لہذا اب انکا بیانہ عملی طور پر پارٹی کی پالیسی لائن بن چکا ہے اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی میں نظریاتی اختلاف کے باوجود مزاحمتی بیانیہ اپنانے کے بعد سے نواز لیگ پہلے سے زیادہ عوامی مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور نظریاتی اختلاف کی وجہ سے پارٹی کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ ویسے بھی جو لوگ نواز لیگ میں نظریاتی اختلاف اور دھڑے بندی کی باتیں کر رہے تھے ان کو مریم نواز نے اس طرح منہ توڑ جواب دیا کہ وہ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پر اپنے چچا شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے گلے جا لگیں جس کے بعد اختلافات کی رہی سہی خبریں بھی دم توڑ گیئں۔۔
تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی طرف سے احتساب عدالت میں جا کے اپنے چچا اور اپنے کزن سے ملاقات کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی کہ کہیں پارٹی میں کوئی علیحدہ دھڑا کھڑا نہ ہو جائے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر نواز لیگ کے اندر مفاہمتی بیانیے کی پذیرائی نہ ہوتی تو کبھی بھی تین سینئر مسلم لیگی رہنما جیل جا کر شہباز شریف سے ملاقات نہ کرتے۔ ان تجزیہ کاروں کا اصرار یے کہ اس جیل ملاقات میں خواجہ آصف نے برملا نواز شریف کے اسٹیبلشمینٹ مخالف سخت بیانیے کے ممکنہ سخت نتائج کے موضوع پر پارٹی کے صدر شہباز شریف سے بات چیت کی۔ لیکن دوسری طرف اس ملاقات میں شریک مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہباز شریف سے ملاقات نواز شریف کے علم میں لاکر کی اور ان افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مفاہمت کا کوئی پیغام لے کر شہباز شریف سے ملے۔ احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ کے تمام لیڈران نواز شریف کی قیادت میں ان کے بیانیے کے ساتھ چل رہے ہیں۔ انہوں نے نواز شریف گروپ کی جانب سے پارٹی پر قبضہ کرنے کے بیان کو محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اگر نواز شریف کا بیانہ ہی چلنا ہے تو پوری ن لیگ میں مریم کے علاوہ کون اسے لیڈ کر سکتا ہے؟ اگر اس جدوجہد میں اگر مریم کو مسقبل میں سیاسی فائدہ ملتا بھی ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘
مسلم لیگ ن کے اندر جاری اس کشمکش پر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہےکہ ’مسلم لیگ ن کو اب کون چلائے گا اور کیا نواز شریف کے بیانیے کا بوجھ پارٹی برداشت کر سکے گی اس بات کا دارومدار نواز شریف کے ووٹ بنک پر ہے۔ اگر تو اس بیانیے سے نواز کا ووٹ بینک خراب نہیں ہوا تو پارٹی کے دو چار لیڈر ادھر ادھر ہو بھی جائیں تو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ویسے بھی دیکھیں تو اس وقت پارٹی کا نمبر ون جیل میں ہے نمبر ٹو بھی جیل میں ہے تو کون ہے جو اس بوجھ کو اٹھائے؟ میرے خیال میں ابھی نواز کے ووٹ بینک کو بھی کوئی خطرہ نہیں اور پارٹی کو بھی۔‘ سہیل وڑائچ یہ سمجھتے ہیں کہ ن لیگ کے طاقت کا مرکز نواز شریف کا ووٹ بینک ہے جس کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اوراس بات کا پارٹی لیڈر شپ کو بھی ادراک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب کچھ عرصہ تک یہ ایسے ہی چلے گا۔ اور ن لیگ کی وہ لیڈر شپ جو بظاہر اس بیانیے کی شدت کی وجہ سے تاحال کھل کرسامنے نہیں آئی تب تک خاموش رہے گی جب تک دوبارہ پارلیمانی سیاست کی گیم گرم نہیں ہوتی۔‘
دوسری طرف بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ مسلم لیگ ن بیرونی اور اندرونی دونوں طرف سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ایک دباؤ وہ ہے جو اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف کی وجہ سے حکومت اور اداروں کی طرف سے ہے اور دوسرا دباؤ پارٹی کے اندر سے اس لیڈرشپ سے ہے جو بظاہر لڑنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ اس دباؤ سے پارٹی ٹوٹ سکتی ہے یا ٹوٹ جائے گی تو یہ صورت حال کا درست تجزیہ نہیں ہو سکتا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ن لیگ کا رنگ لیڈر نواز شریف ہی ہے اس سے انکار ممکن نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ دنوں تک مزید بھی ایسی خبریں سننے کو ملیں جیسی کہ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کے پارٹی چھوڑنے سے متعلق تھی۔ ہو سکتا ہے کہ دو چار اور لوگ بھی پارٹی چھوڑ دیں لیکن اس سے نواز لیگ کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اور ویسے بھی اس وقت پارٹی میں طاقت کی لڑائی نہیں ہے بلکہ حکمت عملی پر اختلاف ہے، جو کہ ہمیشہ سے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں ہے یہ پارٹیاں شخصیت پرستی پر چلتی ہیں۔ ملک کی تینوں بڑی پارٹیوں کو اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ایک جیسی صورت حال نظر آئے گی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ن لیگ جب سے وجود میں آئی ہے یہ اپنے دوسرے سخت ترین وقت سے گزر رہی ہے۔ ایک 1999 کے بعد جب ق لیگ بنی اور ایک اب۔ لیکن اب کی بار اس کو فائدہ یہ ہے کہ حکومت عدم کارکردگی کے باعث عوامی مقبولیت کھو چکی ہے اس لیے بھی ن لیگ کے اندر دراڑیں ڈالنا ایک مشکل معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک نفسیاتی لڑائی ہے جس میں ن لیگ کی نچلے درجے کی لیڈر شپ کو بھی پتا ہے کہ کل کو نواز شریف کا نام لگا ہو گا تو حلقے میں جیت کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ مطلب یہ کہ پارٹیوں کے لوگ دور کا سوچتے ہیں۔ انہیں کم از کم اس بات کا تو یقین ہے کہ تحریک انصاف آپ ی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ اقتدار میں نہیں آ سکتی لہذا وہ اپنی پارٹی کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ دوسرا مریم نواز نے بھی اگر کوئی مقام بنایا ہے تو وہ بھی ان کی اپنی شخصیت اور محنت ہے۔ ماضی میں جیسے نواز شریف لوگوں کو گھروں سے باہر نکال لیتے تھے اب یہ کام انکی بیٹی کر رہی ہیں۔‘
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ن لیگ میں اندرونی اختلاف کی ایک حکمت عملی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں۔ آج ن لیگ لڑائی کے موڈ میں ہے تو جو لڑائی کا ذہن رکھتے ہیں وہی ایک دوسرے کے قریب ہوں گے نا؟ کل کو جب پارلیمانی سیاست کی بات ہو گی تو پھر اس میں شہباز شریف کو مرزکی حیثیت حاصل ہو گی؟ اس لئے یہ ایسے ہی ہے کہ ن لیگ کے پاس مصالحت اور لڑائی دونوں کی الگ الگ ٹیمیں موجود ہیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button